کامیاب، خوشگوار اور صحت مندانہ زندگی گزارنے کے اصول و ہدایات
اس دنیا میں جہاں بھی انسان بستے ہیں اور ان کا تعلق کسی بھی رنگ، نسل و مذہب سے ہو وہ ایک کامیاب، خوشگوار اور صحت مندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اور اگر آج کی ہم بات کریں یعنی سال 2023 کی تو موجودہ حالات میں یہ سب باتیں ایک خواب اور نا ممکنات میں سے گمان ہوتی ہیں۔ حقیقت میں انسانیت اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے۔ اس سب میں بہت سے مفکرین، معالجین، فلاسفرز، حکماء اور لیڈران نے اس موضوع پر اپنے اپنے تجربات سے آگاہ کیا ہے اور لوگوں کی رہنمائی کی کوشش کی ہے۔
اسی بناء پر اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے راقم نے بھی بطور طالب علم یہ سوچا کہ اپنے تجربات، مشاہدات، مطالعہ اور وجدان کی روشنی میں کچھ گوش گزار کیا جائے اور اللہ پاک سے یہ دعا بھی کی جائے کہ اس تحریر سے اس کی مخلوق استفادہ کر سکے اور اس کے بدلے میں مجھے بھی اس کا اجر مل سکے۔ میں اب ان اصولوں اور ہدایات کو بیان کروں گا کہ جن کو اپنا کر آپ اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ بیک وقت آپ سب پر ہی عمل کر سکیں لیکن ان میں سے جتنا ہو سکے اسے اپناتے جائیں اور اس کے اثرات کو محسوس کرتے جائیں۔
ایک اور بہت اہم پہلو جس کی وجہ سے بھی میں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا وہ یہ ہے کہ اگر آپ ان چیزوں کو اختیار کرتے ہیں تو آپ اس وقت ان حالات کی وجہ سے جو سٹریس ہے، اینگزائٹی اور ڈپریشن ہے اس بھی بچ سکتے ہیں۔ اور ہمیں کوشش بھی کرنی چاہیے کہ ہم اس سے بچیں اور اپنے اردگرد موجود اپنوں اور دوسروں کو بھی اس سے بچائیں کیونکہ اس وقت یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
* 1۔ استاد، مینٹور، رہنما، پیر و مرشد*
انسان کی فطرت میں اللہ پاک نے سیکھنا، سکھانا رکھا ہے۔ انسان کو کسی بھی کام میں معاونت، مشاورت اور رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے میری طرف سے پہلا اصول یہ ہے آپ کی زندگی میں کوئی ایسی جامع شخصیت ہونی چاہیے جو آپ کو زندگی کے اور اپنے تمام معاملات میں رہنمائی دے سکے، اس کا تجربہ، علم اور مشاہدہ آپ سے زیادہ ہو، وہ آپ کے سارے زمینی حقائق، آپ کی شخصیت اور آپ کے مستقبل کے عزائم سے آگاہ ہو۔ میرے نزدیک اس شخصیت کی عمر بھی آپ سے کم از کم 10۔15 سال زیادہ ہونی چاہیے اور اس میں بھی یہی حکمت ہے کہ اس نے آپ سے زیادہ زندگی کی بہاریں اور خزائیں دیکھی ہیں اور ان تمام مراحل سے گزرا ہے جس سے آپ گزر رہے ہیں۔ وہ آپ کو بہترین مشورہ اور رہنمائی دے سکتا ہے اور یہ عمر کا فرق اس لئے بھی بہت زیادہ نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں ایسا نا ہو کہ وہ موجودہ حالات اور وقت کے تقاضوں کو ہی نا سمجھتا ہو۔ آؤٹ ڈیٹڈ شخصیت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی ایسی شخصیت نہیں ملتی یا اگر ملتی بھی ہے اور آپ کے فل ایکسز میں نہیں ہے تو آپ یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ شعبہ جاتی حوالے سے ”مینٹور“ بنا لیں۔
جیسے اگر آپ کاروباری ہیں، ملازمت کرتے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ تو اس حوالے سے اس شعبہ کی کامیاب شخصیات کے ساتھ منسلک ہو کر، انھیں سن کر، ان سے مستفید ہو کر آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد کا ایک چھوٹا سا مشورہ و رہنمائی آپ کو بہت بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے۔ آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی اور بھی جن جن شعبوں میں انسان کو لگے اس کو ایسے مخلصین رہنما اور لوگ ڈھونڈنے چاہیں۔
اور اس سلسلے میں اللہ پاک سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ وہ ایسے لوگ آپ کو عطا کرے۔ اس میں بنیادی حکمت یہی ہے کہ انسان عقل کل نہیں ہے اور بجائے اس کے کہ وہ خود ہر چیز کا تجربہ کرے، اس میں وقت لگائے اور پھر نفع یا نقصان کے بعد سمجھے تو بہتر ہے کہ پہلے سے ہی سمجھدار اور مخلصین لوگوں کے تجربہ سے فائدہ اٹھا لے۔
* 2۔ آج میں زندہ رہیں *
تمام کامیاب اور مطمئن لوگ * ”آج“ * میں زندہ رہتے ہیں اور اپنا سارا فوکس اور انرجیز آج میں لگاتے ہیں کیونکہ ”آج“ اگر بہترین ہے تو کل آپ کا خود بخود بہترین ہو گا اور وہی کل ایک دن آپ کا ماضی ہو گا۔ لہذا آپ کا زیادہ وقت ”آج“ کی پلاننگ اور اسے کامیاب کرنے میں لگنا چاہیے۔ اس کی تقسیم ہم اس طرح سے کر سکتے ہیں 70 % آج 20 % کل 10 % ماضی یا پھر 80 % آج 15 % کل اور 5 % ماضی۔ یعنی آج میں زندہ رہیں، پھر کل ( مستقبل) میں اور سب سے کم ماضی میں۔
* 3۔ اپنے آپ کو مصروف رکھیں *
تیسرا اور اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ آپ ایسے مشاغل، عادات، مصروفیات اختیار کریں کہ جن کے بعد آپ کے فارغ اوقات نا ہونے کے برابر رہ جائیں۔ یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ آپ مصروف رہیں اور یہ سوچیں کہ ایسی کون سی مثبت سرگرمیاں اپنائی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے انھیں متعین کرنا اس لئے مشکل ہے کہ ہر بندے کے ذہن میں اپنے زمینی حقائق و میسر وسائل کو مدنظر رکھ کر ہی کچھ نا کچھ ذہن میں آئے گا جیسے کھیلنا، کتابیں پڑھنا، گارڈننگ، ہوم ٹیوشن، نفلی عبادات، قرآن کو پڑھنا، سیکھنا سکھانا، کوئی بھی تخلیقی کام اور اگر وقت ہے تو کوئی پارٹ ٹائم ملازمت وغیرہ وغیرہ۔
* 4۔ جسمانی تندرستی*
صحت مندانہ زندگی کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو جسمانی طور پر تندرست رکھیں۔ جسمانی تندرستی کے اثرات آپ کی ذہنی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں بلکہ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ اچھی جسمانی صحت والے ہی اچھی ذہنی صحت کے حامل ہوتے ہیں۔ اب اس میں بھی آپ کی اپنی مرضی ہے کہ آپ ایسی کیا سرگرمی اختیار کرتے ہیں جس سے آپ جسمانی تندرستی حاصل کر سکتے ہیں یا اسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس میں بھی آپ کے وسائل، ماحول، شوق اور فراغت کے اوقات کار فرما ہوتے ہیں۔
لیکن میں یہی کہوں گا کہ اپنے لئے وقت نکالیں، کم از کم دن میں آدھے سے ایک گھنٹہ اپنے لئے وقف کریں۔ میں یہی کہوں گا کہ ایک وقت مخصوص کر لیں جس میں اور کچھ نہیں تو کم سے کم آپ 20۔ 30 منٹ تیز اور لمبے قدم اٹھا کر واک ہی کرنا شروع کر دیں۔ اور صرف اس ایک چھوٹے سے عمل کو اختیار کر کے آپ 10 دنوں میں ہی اس کے مثبت اثرات دیکھ سکتے ہیں۔
* 5۔ سماجی سرگرمیاں *
یہ بھی ایک اہم اصول ہے جس سے آپ خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا اپنے دوستوں، رشتہ داروں، محلہ داروں وغیرہ وغیرہ سے میل ملاپ ہونا چاہیے اور ان سے اپنے دکھ و خوشیاں شیئر کرنی چاہئیں۔ یہ بالکل فطرتی عمل ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر بھی بہت سے دکھ، پریشانیاں، مسائل، الجھنیں، سوچیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور وہ لاوے کی طرح ابلتے رہتے ہیں اور اگر ان کا پریشر ساتھ ساتھ ریلیز نا کیا جائے تو یہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح کبھی پھٹ جاتا ہے اور بہت نقصان اور تباہی مچاتا ہے۔
انسان کے بارے میں ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ”سوشل حیوان“ ہے اور اس کی نشو و نما اور بڑھوتری سوشل رہنے میں ہی ہے۔ آج اس ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے جہاں فاصلوں کو مٹا کر انسانوں کو قریب کر دیا ہے وہیں با المشافہ ملاقاتوں کی کمی نے بہت سے نفسیاتی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ وٹس ایپ پر سب ٹھیک کا میسج کرنے والا نا جانے کس غم و پریشانی سے گزر رہا ہو نہیں علم ہو سکتا ۔ اس کا ملنے سے ہی پتہ لگ سکتا ہے کیونکہ انسان دوسرے انسان کی شعاؤں سے بہت کچھ محسوس کر سکتا ہے، چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے، بات چیت کے دوران ہی بہت کچھ سمجھ جاتا ہے۔ لہذا ہمیں دیکھنا چاہیے اور اس چیز کا تعین کرنا چاہیے کہ ہمارے کون سے مخلص رشتے ہیں جنھیں اعتماد میں لے کر انھیں اپنی الجھنیں شیئر کر کے اپنے آپ کو ہلکا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے آپ کا سٹریس لیول کم ہو گا اور آپ کو اچھا اچھا محسوس ہو گا۔ اس لئے ملنا ملانا، سوشل رہنا بہت ضروری ہے۔
* 6۔ اپنی زندگی کے مقصد کا تعین*
یہ جو اصول میں آپ سے بیان کرنے جا رہا ہوں یہ اوپر بیان کیے گئے تمام میں سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آپ صرف اس کو اختیار کر لیں اور باقی تمام کو چھوڑ بھی دیں یا ان پر عمل نا بھی کر سکیں تو بھی آپ کی زندگی بہترین گزر سکتی ہے۔ آپ اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور لوگوں سے پوچھیں کہ آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ آپ نے اپنی زندگی میں کوئی ”ٹارگٹ“ رکھا ہوا ہے؟ کیا آپ کی زندگی کی کیا ”منزل“ ہے؟ تو آپ کو جان کر شاید حیرانی ہو کہ 100 میں سے 90 افراد کے لئے یہ سوالات ہی بالکل نئے ہوں گے اور حیران کر دینے والے ہوں گے۔
آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان 10 میں ہیں یا ان 90 لوگوں میں شامل ہیں۔ اگر آپ ان 90 میں ہیں تو ابھی اسی لمحہ سے سوچنے کا آغاز کریں کہ میں نے اپنی زندگی میں کیا ایسا ہدف رکھنا ہے جسے میں نے حاصل کرنا ہے اور اس میں کامیاب ہونا ہے۔ انسان کی زندگی میں ایک بڑا ہدف، ٹارگٹ ہونا بہت ضروری ہے جس کے پیچھے وہ بھاگ سکے۔ وہ ٹارگٹ کچھ بھی ہو سکتا ہے، میں پھر یہی کہوں گا کہ وہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ کیا رکھتے ہیں لیکن ہونا چاہیے جیسے میں نے ایک کامیاب کرکٹر بننا ہے، ایک کامیاب کاروباری بننا ہے، اپنا ایک فارم ہاؤس بنانا ہے، سرکاری عہدہ حاصل کرنا ہے، وزیراعظم بننا ہے، مفتی اعظم بننا ہے، ہیرو، سنگر کچھ بھی۔
لیکن اپنی زندگی کا کوئی ایسا ہدف تو رکھیں کہ جو بڑا ہو اور مشکل ہو جس کو حاصل کرنے سے تسکین ملے۔ اس کے فوائد یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو آپ کی زندگی فوکسڈ ہو جاتی ہے، آپ کو پتہ ہوتا ہے آپ کیا کر رہے ہیں اور کس سمت میں جا رہے ہیں۔ اور پھر اس کے حصول کے لئے آپ کی ساری انرجیز و وسائل لگتے ہیں۔ آپ ہر کام سوچ سمجھ کر، نپا تلا، پلاننگ سے کرتے ہیں اور ہر صبح اس امید سے اٹھتے ہیں کہ آپ اپنی منزل کی جانب ایک قدم بڑھیں گے۔
جتنا اونچا ٹارگٹ ہو گا اتنا ہی آپ کی سوچ میں وسعت اور بلندی ہوگی۔ لہذا بہت سوچ سمجھ کر لیکن کچھ نا کچھ ٹارگٹ اپنے ذہن میں رکھیں۔ مجھ سے اس بارے میں بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ٹارگٹ ہونا چاہیے میں انھیں یہی کہتا ہوں کہ کوشش کریں کہ ایسا ٹارگٹ رکھیں جو ”غیر مادہ“ ہو، اور آپ کی ذات سے بالاتر ہو یعنی پیسہ، عمارت، گاڑی، عہدہ وغیرہ وغیرہ میرے نزدیک مادہ میں آتے ہیں اور اگر ان کا حصول صرف اپنی ذات کے لئے ہے تو یہ تو بالکل ہی ”مفاد پرستی“ ہے اور ان سب کے پیچھے اپنی زندگی لگا دینا سمجھ نہیں آتا۔ آپ کوئی بھی ایسا کام کریں کہ جس سے آپ کی روح کو تسکین ملے، جس میں آپ کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بھلائی بھی شامل ہو، اس کا بھی بھلا ہو۔ انسانیت کو ریلیف ملے۔ اس دنیا کے ساتھ ساتھ، عالم برزخ اور عالم حشر کا بھی سوچیں۔
اس میں سب سے بڑھ کر میری رائے میں آپ یہ کر سکتے ہیں کہ ایسی جدوجہد کریں جس سے معاشرے میں موجود مسائل حل ہو سکیں، معاشرے میں عدل کا قیام وجود میں آ سکے۔ لوگوں کو ان کی جائز ضروریات مل سکیں۔ غرض کہ ایسی سماجی، اجتماعی تبدیلی کے لئے کوشش کریں کہ جس سے دنیا میں ہم ایک با عزت اور با وقار قوم بن کر ابھر سکیں۔ اور یہ سب اس وقت ملکی و بین الاقوامی سطح پر موجود سرمایہ دارانہ نظام کے وجود کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔
لہذا سب سے پہلے اس کا شعور کہ یہ کیا ہے اور یہ کیسے انسانیت کا استحصال کرتا ہے سمجھیں اور پھر اس کے اوپر عملی جدوجہد اختیار کریں کہ کیسے ہم ایک عادلانہ معاشی نظام وجود میں لا سکتے ہیں کہ جس کی بنیاد قرآن اور سنت ہو اور جس کے نتائج سے ہم دنیا و آخرت میں کامیابیاں سمیٹ سکیں کیونکہ اسلام ہی ایسے معاشی نظام کا تعارف کراتا ہے جو انسان میں موجود روح اور جسم دونوں کی ترقی کا سامان رکھتا ہے۔
میں امید کرتا ہوں کہ یہ تحریر آپ کے لئے فائدہ مند ہوگی اور اس کو پڑھ کر اگر ایک شخص بھی نفسیاتی مسائل سے باہر آ گیا یا پھر اس نے زندگی کا ایسا مقصد اپنایا جس میں انسانیت کا فائدہ ہوا تو میں امید کرتا ہوں کہ اللہ پاک اس کا اجر مجھے بھی عطا کریں گے۔ اللہ پاک اس تحریر کو میرے لئے صدقہ جاریہ بنا دے۔



Super excellent bat jnab g ..