زندگی

کون ہے ایسا جسے پھولوں سے پتیوں سے ہریالی سے پیار نہ ہو۔ کچھ عرصہ قبل ایک پری لیکن معصوم سا چہرہ اور بہت اداس دوشیزہ سے ایک محفل میں اچانک ملاقات ہو گئی۔ مختصر تعارف سے اس کا تعلق پاکستان سے نکلا۔ ایک نوخیز کلی لیکن مرجھائی سی۔ کچھ تجسس ہوا کہ جانکاری کی جائے، لیکن اپنے روایتی کلچر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مبادا یہ سننے کو ملے کہ آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے، چپ میں عافیت جانی۔
یہ شام طعام اور موسیقی پر مشتمل تھی۔ پاکستانی اور مقامی کھانے، جس میں نہاری، بریانی، چھولے، نان سر فہرست تھے، میٹھے میں کھیر اور رس ملائی۔ اتفاق سے وہ دوشیزہ ہماری ہی میز پر براجمان تھی۔ کھانے کے دوران بھی اس کی اداسی برقرار تھی۔ آٹھ افراد کی میز پر ہم سب خوش گپیوں میں مصروف تھے سوائے اس کے۔ اس نے تعارف کراتے ہوئے اپنا نام ندا بتایا تھا، بدستور کہیں گم سم، کبھی خلاء میں گھورتی، کبھی ادھر ادھر نظریں پھیرتی جیسے کسی کی تلاش ہو۔
چہرے پے اک درد اک کرب کی کیفیت۔ طعام کے بعد محفل موسیقی کا آغاز ہوا۔ پہلے کچھ مقامی فنکاروں نے اپنے فن سے محظوظ کیا اور خوب داد سمیٹی اور آرکسٹرا نے بھی بہترین دھنوں سے محفل میں اک سماں باندھ دیا۔ اس کے بعد پاکستان کے سپوت استاد رفاقت علی خان نے اپنے انوکھے انداز سے محفل لوٹ لی۔ پورا ہال دل کھول کر داد دے رہا تھا، بہت خوبصورتی سے کلاسیکل، پاپ اور دور حاضر کے گیت بھی سنائے، اور مہدی حسن مرحوم کی غزلوں سے بھی محفل کو چار چاند لگا دیے۔
”محفل تو اجنبی تھی تم بھی ہوئے پرائے“ بہت دلنشیں انداز میں سنائی۔ ہال میں اک دم خاموشی چھا گئی۔ اچانک میری نظر ندا پر گئی تو اس کی پلکوں سے چند موتی رخساروں سے پھسل کر قالین میں جذب ہو گئے۔ محفل اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگی تو میں جھجکتے ہوئے ندا سے مخاطب ہوا اور عرض کیا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اپ کے اندر چھپے درد اور کرب کو جاننے کا تجسس ہے۔ میں تھوڑا بہت لکھتا بھی ہوں، ممکن ہے آپ کی وساطت سے مجھے ایک اچھی اور سچی کہانی لکھنے کو مل جائے۔ میری توقع کے برعکس میری درخواست کو سر کی ہلکی سی جنبش سے قبول کر لیا گیا۔ اور پھر ایک مقامی کافی ہاؤس میں ملنے کا وقت اور دن طے کر کے شب بخیر کہہ کر رخصت ہوئے۔ گھر واپسی پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے بیگم سے سخن موضوع اسی دوشیزہ سے متعلق ہی رہا اور یوں باتوں باتوں میں ہم گھر پہنچ گئے۔
مقررہ دن اور وقت کے مطابق میں اپنی شریک حیات کے ساتھ ٹم ہورٹن کافی شاپ پر پہنچ گیا اور ایک کارنر کی میز پر انتظار کرنے لگے۔ ندا اپنی ایک دوست کے ساتھ کافی شاپ میں داخل ہوئی۔ اس نے ہمیں دیکھ لیا تھا اور ہماری میز کی جانب قدم بڑھا دیے۔ میں نے ان کی پسند کی کافی اور بیگل آرڈر کیے اور اپنے اور بیگم کے لئے بھی۔
ندا بہت فریش دکھائی دے رہی تھی۔ موسم میں ہلکی ہلکی خنکی تھی۔ موسم خزاں کی آمد کا بگل بج چکا تھا۔ درختوں کے پتے ہریالی سے زرد، سرخ اور پیلے رنگوں میں تبدیل ہو رہے تھے۔ یہاں موسم خزاں کے رنگ دیدنی ہوتے ہیں۔ سنہری دھوپ، ڈھلتا سورج، اور ڈھلتے سورج کی شعائیں اک عجب سا سماں پیش کر رہی تھیں۔ کافی شاپ لب سڑک واقع تھی اور مین شاہراہ کی وجہ سے شام کی ٹریفک کافی زیادہ تھی۔ گرم گرم کافی اور بیگل کی مہک نے ماحول کو بہت خوشگوار بنا دیا تھا۔
گرم گرم کافی کی چسکیوں میں ندا نے کہنا شروع کیا:
یہ کہانی میری ایک بہترین دوست علینہ کی ہے جو کہ پاکستان میں مقیم ہے۔ ہماری دوستی اسکول سے شروع ہوئی جب ہم پہلی بار مڈل اسکول میں ملے۔ نجانے اس میں کیا کشش تھی کہ پہلی نظر میں ہی دل کو بھا گئی اور پھر ہماری لازوال دوستی کا آغاز۔ ہم کلاس میں بھی ساتھ ساتھ بیٹھتے اور اسکول کے بعد بھی اکثر ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے۔ علینہ کا گھرانا دو بہنوں ایک بھائی اور والدین پر مشتمل تھا۔ ایک بڑی بہن، اور ایک چھوٹا بھائی۔
وقت کا گھڑیال اور ٹک ٹک کرتی سوئیاں تیزی سے گھوم رہی تھیں۔ ہم مڈل اسکول سے ہائی اسکول اور پھر کالج تک پہنچ گئے۔ اس دوران علینہ کی بہن کی شادی ہو گئی اور اپنے پیا کے سنگ دبئی میں مقیم ہو گئی۔ چھوٹا بھائی ہائی اسکول کی دہلیز پر قدم رخ چکا تھا۔ گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ ابو کسی مل میں جنرل منیجر تھے، گھر میں خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ علینہ بہت لا ابالی سی، شوخ اور چنچل مزاج کی لڑکی۔ اس کے پاس نئے ماڈل کا موبائل فون رہتا تھا۔ کبھی نیا فون گم کر بیٹھتی تو چند دنوں بعد نیا فون لے آتی۔ اپنے ابو کی لاڈلی جو تھی، پڑھنے میں بھی بہت ذہین تھی۔ اسکول کی دوسری سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر شرکت کرتی تھی، اور بہت سارے میڈل اپنے نام بھی کیے ۔
پھر ایک دن میں نے اسے خلاف معمول بہت اداس دیکھا۔ میرے لئے یہ بالکل انوکھی سی بات اور ہضم کرنا بھی مشکل۔ بہترین دوست ہونے کے ناتے پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔ اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پلکوں پر موتی جھلملا رہے تھے۔ میرے اصرار پر اس نے گلوگیر آواز میں بتایا کہ ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ڈاکٹر ٹھیک سے تشخیص نہیں کر پا رہے۔ گھر میں سب پریشان ہیں۔ ابو کو دبئی لے جانے کا پلان ہے۔ یہ میری دوست علینہ کی آزمائش کا آغاز تھا۔
علینہ کالج میں اداس سی رہنے لگی۔ اس کے ابو کو دبئی لے گئے، ڈاکٹر نے بیشمار ٹیسٹ کرائے، اور ابو کے خون میں کچھ پرابلم، ڈاکٹر نے امریکہ لے جانے کا مشورہ دیا۔ ابو اور امی کے ساتھ علینہ کا بھی امریکہ کا ویزا لگ گیا۔ میری دوست امریکہ نہیں گئی۔ علینہ بہت اداس رہنے لگی۔ سورج مغرب کی جانب ڈھل رہا تھا، شام کے سائے پھیلنا شروع ہو چکے تھے۔ ندا اپنی دوست کے کہانی جاری رکھے ہوئے تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی برقرار تھی۔ علینہ کے والدین ایک ماہ امریکہ میں قیام کے بعد واپس چلے گئے کہ ابو کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ جمع شدہ پونجی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ اور پھر چند دنوں بعد ابو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابو اپنی بیماری سے خوب لڑے لیکن شاید ان کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔
یہ کہانی شاہد یہاں ختم ہو جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ابو کی وفات کے بعد ابتلاؤں کا دور شروع ہوا۔ میرے چچا نے ابو کی کار پر قبضہ کر لیا۔ ہمارے گھر پر اپنا حق ملکیت جتا دیا۔ ہم لوگ تو پہلے ہی ابو کی وجہ سے صدمہ میں تھے اوپر سے چچا کے ظالمانہ سلوک سے ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ چچا نے گھر سے بے دخلی کا حکم صادر فرما دیا۔ ہم لوگ تو عرش سے فرش پر آ گئے۔ ایک ماہ کے اندر گھر خالی کرنا تھا۔ ابو کی موت کا صدمہ ہی ہم سب کے لئے کیا کم جان لیوا تھا جو چچا نے یہ ظلم ڈھانا شروع کر دیا۔
امی پہلے بہت زیادہ ڈیپریشن میں تھی ایک دم مزید صدمہ کی وجہ سے مزید ڈیپریشن کا شکار ہو گئیں۔ تمام ذمہ داری میرے کندھوں پر آ چکی تھی۔ میری خالہ نے ہمارا بہت ساتھ دیا، میرے کزن نے کرایہ کے گھر کا انتظام کیا اور ہم اپنے ہی گھر سے بیدخل۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک ہنستا بستا گھر یوں ماتم کدہ بن جائے گا۔ مجھے کالج کو خیرآباد کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ گھر میں راشن اور ضروریات زندگی پوری کرنا، کرایہ دینا یہ سب کچھ سوچ کر ہی۔
لیکن اللہ بہت کارساز ہے۔ خالہ کے علاوہ اللہ نے نجانے کہاں سے ایک بزرگ جو ہمارے لئے ایک فرشتہ ثابت ہوئے اور ہمارے گھر کی کفالت شروع کردی۔ امی بیہوشی کے عالم میں رہ رہی تھی۔ ان کا علاج بھی ضروری تھا۔ اس کی لیے ڈاکٹر کی فیس؟ خالہ اور بزرگ نے یہ مشکل بھی آسان بنا دی۔ میں نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک اسکول میں ٹیچر کی نوکری شروع کردی۔ اور پھر گھر کا چولہا جلنے لگا۔
میرے کالج کے ارمان مٹی میں مل گئے، سوچا تھا کیا کیا ہو گیا۔ ڈگری کے بعد کچھ عملی زندگی میں بننا میری خواہش تھی۔ لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر کشتی کو کنارہ ہی ملتا ہو۔ ندا کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھوں کی نمی بہت کچھ ان کہی داستان بھی سنا رہی تھی۔ میری دوست کے سپنے زمین بوس ہو گئے تھے، ارمان کہیں دفن ہو گئے تھے۔ اجالے اندھیروں میں بدل گئے تھے۔ ایک شوخ اور ہمیشہ ہنسنے والی دوست ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی۔
ندا کی آنکھوں میں سوال تھے۔ کہ ہمارا معاشرہ اتنا بے حس کیوں؟ محض چند سکوں اور جائیداد کی خاطر انسانوں کی زندگی سے کھلواڑ کیوں؟ اپنے خون کے رشتے اس قدر بیگانے کیوں؟ کیا واقعی ہم انسان بھی ہیں، مسلمان تو بہت بعد کی بات ہے۔ پیسا اور جائیداد کی لالچ انسان کو کس قدر ظالم، سفاک اور نیچ بنا دیتی ہے جو اپنے خون کو درد اور کرب کے خون میں رنگ دیتی ہے۔
میرے پاس اس کے سوالوں کے جوابات دینے کی ہمت نہیں تھی کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ اپنی اقدار اور مذہب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ نفسا نفسی کے اس دور میں نہ کوئی اپنا نہ بیگانہ۔
میں نے ندا کا دل سے شکریہ ادا کیا اور شب بخیر کہتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

