سمجھوتہ

  یہ مئی 1977 کی بات ہے جب وطن پاک میں سیاسی کشیدگی اور ہنگامہ خیزی عروج پر تھی۔ حکومت وقت نے تعلیمی ادارے بند کر دینے تھے۔ ان فرصت کے لمحات کو مصروفیت میں بدلنے کی خاطر میں بڑے بھائی کے پاس لاہور جانے کی تیاری کرنے لگا۔ بھائی کی دکان بیرون موچی گیٹ میں واقع تھی۔ میں چنیوٹ سے لاہور جانے کے لئے بس اسٹینڈ روانہ ہوا اور لاہور جانے والی بس میں سوار ہوا۔ جن صاحب کے

Read more

پیار کی چنگاری

موسم نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے، موسم خزاں شروع، پیڑوں کے پتے بہار اور گرمی میں اپنی تمام تر رعنائیاں دکھانے کے بعد مختلف رنگوں میں تبدیل ہو کر پھر اپنی اپنی ٹہنیوں سے آئندہ بہار کی آمد تک پھر سے ملن اور وصل کے وعدہ کے بعد جدا، الوداع۔ شاہد یہ پیڑ بھی پکار پکار کے کہہ رہے ہوں، ”ہم تم سے جدا ہو کے مر جائیں گے رو رو کے۔“ 1986 کے اوائل میں میں شکاگو سے

Read more

زندگی

  کون ہے ایسا جسے پھولوں سے پتیوں سے ہریالی سے پیار نہ ہو۔ کچھ عرصہ قبل ایک پری لیکن معصوم سا چہرہ اور بہت اداس دوشیزہ سے ایک محفل میں اچانک ملاقات ہو گئی۔ مختصر تعارف سے اس کا تعلق پاکستان سے نکلا۔ ایک نوخیز کلی لیکن مرجھائی سی۔ کچھ تجسس ہوا کہ جانکاری کی جائے، لیکن اپنے روایتی کلچر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مبادا یہ سننے کو ملے کہ آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے، چپ

Read more

موسم

م: میرا، و: وعدہ، س: سچی، م: محبت موسم کا لفظ اپنے اندر کتنی معنویت سموئے ہوئے ہے۔ بدلتے موسم زندگی کی حقیقی رنگوں کو آشکارا کرتے ہیں۔ بہار: نام سنتے ہی اس کی دھنک اور دلکش تصور سے انسان اپنے وجود میں اک طمانیت، تازگی، رعنائی، اک ترنگ، جینے کی امنگ محسوس کرتا ہے۔ نجانے کتنے سہانے سپنوں کی بلند قامت، زندگی کی ہر آسائش سے بھرپور، خوبصورت تزئین، انمول شہ پارے، آرائش اور زیبائش، منقش در و دیوار،

Read more

محبت سرحدوں سے ماورا ہے

اگست کی ایک خوبصورت سہ پہر اور حسب معمول اپنے عقبی لان کے عرشہ پر بیٹھا پرانے گیتوں سے خوبصورت اور خوشگوار موسم سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ حد نگاہ گھنے درخت، مغرب میں ڈھلتے سورج کی روپہلی کرنوں سے سبز اور اجلے پتوں پر ایک عجیب سی رعنائی چھلک رہی ہے۔ ایک ماہ بعد زرد، سرخی مائل اور پیلے پتے سبز پتوں کی جگہ لے لیں گے اور پھر چند دنوں میں یہ پتے بھی درختوں کا ساتھ چھوڑ

Read more

دیپ سے دیپ جلاتے چلو

اکثر یہ سوچتا ہوں کہ کسی ایک موضوع پر کچھ لکھنا ہو تو قلم کی جنبش تھم سی جاتی ہے، زمانہ طالب علمی میں بھی یہی کمزوری آڑے رہی۔ سوچوں اور تخیلات کا ایک سمندر موجزن، ایک سے ایک لہر سوچ کے ساحل سے آ ٹکراتی ہے اور پھر سوچ کے دھارے کو کہیں سے کہیں بہا لے جاتی ہے۔ بچپن میں ریڈیو سے اکثر ایک گانا سنتا تھا ”جوت سے جوت جلاتے چلو۔ پریم کی گنگا بہاتے چلو“ ۔

Read more

گرین کارڈ

آج کا انسان اس کمپیوٹر کے دور میں اپنی زندگی کے تمام امور، یادداشتیں، روز مرہ کے دوسرے معاملات سب کچھ کمپیوٹر اور موبائل کے سپرد کر کے خود کو ہر طرح کی بندشوں سے آزاد کرنے کے درپے ہے۔ اب تو کاریں بھی خودکار ڈرائیونگ کی بنیاد پر مارکیٹ میں موجود۔ محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ 1983 کی گرمیوں کی بات ہے میں شکاگو میں مقیم تھا۔ روزویلٹ یونیورسٹی کی دس منزلہ عمارت

Read more

جب یادوں کا قصہ کھولوں تو۔۔۔

موسم نے اچانک ہی اپنے تلخ اور گرمی کی شدت بھرے رویے میں خوشگوار تبدیلی کا مژدہ سنایا ہے۔ ایسے میں گھر کے اندر کی بجائے عقبی عرشہ پر نیلے گگن تلے فلک کے نیچے چھوٹی چھوٹی سرمئی بدلیاں ایک دوسرے سے گلے ملنے اور بچھڑنے کے کھیل میں مگن، میں گرم گرم کافی کے ساتھ اپنے ارد گرد درختوں کے جھرمٹ میں زندگی کے بیتے ادوار میں کہیں کھو گیا ہوں۔ تازہ کافی کی بھینی بھینی مہک، پرندوں کی

Read more