انسانی ڈی این اے میں چھپی وحشت


یہ کہانی مختصر عرصہ کی نہیں چھ ملین سال پہ مشتمل ہے۔ سائنسی نقطہ نظر کے مطابق انسان کو موجودہ شکل و ہیئت اور نام نہاد تہذیب حاصل کرنے میں ساٹھ لاکھ سال کا عرصہ لگا۔ انسان کی دو ٹانگوں پہ چلنے کی خاصیت یعنی چوپائے سے دو پائے میں بدلنے کی خاصیت چالیس لاکھ سال پرانی ہے۔ اتنا تیز اور پیچیدہ دماغ اور اس کا استعمال، اوزار بنانے اور ان کو استعمال کرنے کے طریقوں پہ عبور، رابطے کے لئے زبان کے استعمال کی خصوصیات نسبتاً جدید ہیں۔ ان سے بھی زیادہ جدید انداز و اطوار جیسا کہ پیچیدہ علامتی اظہار، آرٹ، تہذیب میں تنوع وغیرہ پچھلے ایک لاکھ سال میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات ہیں۔

سائنسی درجہ بندی کے علم کے مطابق انسانوں کا تعلق پرائی میٹس سے ہے۔ اگر طبعی اور جینیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو موجودہ دور کے انسان کا پرائی میٹس کے ایک اور گروپ (Apes) سے بہت گہرا تعلق ہے۔ انسان اور افریقہ کے قوی الجثہ بندر جن کو چمپینزی اور گوریلا کہا جاتا ہے 8 سے 6 ملین سال پہلے مشترک آباؤ اجداد رکھتے تھے۔ سائنس دان اس امر پہ متفق ہیں کہ زمین پہ پہلے انسان کا ظہور افریقہ کی سر زمیں پہ ہوا تھا۔ نسل انسانی کا زیادہ تر ارتقا بھی اسی سرزمین پہ ہوا۔ سائنس کی ایک فیلڈ جس میں ہزاروں لاکھوں سال پرانے جانداروں کی باقیات کا مطالعہ کر کے حقائق جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مطابق ابتدائی انسان کی ساری باقیات جو کہ چھ سے دو ملین سال پرانی ہو سکتی ہیں سب کی سب افریقہ سے ہی ملی ہیں۔

ارتقا کا موضوع اور خصوصاً انسانی ارتقا کا موضوع بہت پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ کچھ سائنس دان خیال کرتے ہیں کہ ابتدائی انسان کی پندرہ سے بیس اقسام (سپی شیز) تھیں جن میں سے زیادہ تر مختلف عوامل کی وجہ سے معدوم ہو گئیں۔ ڈارون کی تھیوری کے مطابق ماحول میں ڈھل جانے کی صلاحیت رکھنے والی اور سب سے زیادہ فٹ سپیشیز ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ سکتی ہیں۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ ابتدائی انسان نے کوئی دو ملین سال پہلے افریقہ سے ایشیا کی طرف ہجرت کی۔ اس کے عوامل میں سخت موسمی حالات، خوراک کی تلاش وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ ایک سے ڈیڑھ ملین سال پہلے انسان نے یورپ کی سرزمین پہ قدم رکھا۔ جدید انسان دنیا کے باقی حصوں میں بہت دیر بعد پہنچا۔ آسٹریلیا میں انسان کی آمد محض ساٹھ ہزار سال پرانا قصہ ہے۔ امریکہ میں انسانی قدم پہنچے تیس ہزار سال ہوئے ہیں۔ زرعی سرگرمیوں کا آغاز اور تہذیب کی ابتدا بارہ ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

انسان تہذیب یافتہ بھی ہو گیا، پتھر کے دور کی برہنگی اور وحشت و بربریت بھی بظاہر اپنے اختتام کو پہنچی لیکن آج کا انسان اپنے پتھر کے دور کے آباؤ اجداد سے کتنا مختلف ہے؟ ارض فلسطین پہ ظلم و وحشت کی لکھی تحریر تو صاف بتا رہی ہے کہ انسان کا وحشی پن اس کے ڈی این اے کا حصہ ہے اور یہ وحشت و بربریت آج بھی اپنے اظہار کے لئے کسی معمولی بہانے کی منتظر رہتی ہے۔

چھ ملین سال کا یہ سفر ایک پل میں ختم ہو جاتا ہے

Facebook Comments HS