پروفیسر شیر علی کی معافی اور ڈارون کی تھیوری آف ایوولوش کا قبول مذہب


پروفیسر شیر علی ہار گیا اور ہجومی نفسیات یا ”ہرڈ مینٹیلٹی“ جیت گئی۔ روشن خیالی اور علم ہار گیا اور بے ہنگم طاقت جیت گئی، گلیلیو اور جان۔ ٹی۔ سکوپس کو 21 ویں صدی میں پھر سے شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا اور کلیسیائی ذہنیت سرخرو ہو گئی۔

پروفیسر شیر علی پر بھی وہی الزام عائد ہوا جو 1925 میں امریکہ کے ایک ہائی اسکول کے ٹیچر جان۔ ٹی۔ سکوپس پر عائد ہوا تھا
”کہ وہ چارلس ڈارون کی تھیوری آف ایوولوشن کیوں پڑھاتا ہے؟“
اس بنیاد پر اسے عدالت کے حضور پیش ہونا پڑا، یہ کیس بعد میں ” منکی سکوپس ٹرائل“ کے نام سے مشہور ہو گیا۔

مہذب دنیا میں تو خیر یہ سلسلہ کب کا بند ہو چکا اور وہ سائنسی سچ کو ایک ”یونیورسل فیکٹ“ کے طور پر تسلیم کر چکے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں جہالت کا یہ سفر تاحال جاری ہے۔

ہمیں شاید خالص چیزیں ہضم ہی نہیں ہوتیں اور سامنے کا واضح سچ بھی ہمیں جھوٹ دکھائی دیتا ہے، ہم آج کے ”ٹو دی پوائنٹ“ اور عریاں سچ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

ہر دور کا اپنا اپنا سچ ہوتا ہے اور آج کا سچ سائنس میں پنہاں ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ بھلے ہم پروفیسر شیر علی کی زبان بندی کر دیں یا ان سے معافی منگوا لیں لیکن یقین مانیں حقائق نہیں بدلیں گے وہ تو ”جوں کہ توں“ ہی رہیں گے۔ لوگ چلے جاتے ہیں مگر سچ اور کھوج کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے، گلیلیو کے پیش کردہ حقائق سے منہ موڑنے والا چرچ اور اسے عدالت میں رسوا کرنے والے پادری بالآخر وقت کے ہاتھوں مجبور ہوئے اور انہیں گلیلیو کے رخصت ہو جانے کے 350 سال بعد اپنی شکست کو تسلیم کرنا پڑا اور پوپ جان پال دوئم نے باقاعدہ گلیلیو سے معافی مانگی۔

جو معاشرے آج بھی سچ کو مختلف رنگوں کے برقعے پہنانے کی کوششوں میں لگے ہیں ان کا عالمی برادری میں قد کاٹھ ملاحظہ کر لیجیے ساری حقیقت کھل جائے گی۔

مسلم دنیا آج کہاں کھڑی ہے اور ہمارا آج کی دنیا میں کنٹریبیوشن کیا ہے؟
علم و ٹیکنالوجی میں ہم انہی کے محتاج ہیں جو ہماری نظروں میں یہود و نصاری، کافر اور گمراہ ہیں۔

کیا یہ مقام عبرت نہیں کہ ہم صاحب ایمان اور قادر مطلق کی چنیدہ و رجسٹرڈ مخلوق ہونے کے باوجود بھی دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہیں اور طاقتوروں کے بیچ فٹ بال سے بنے ہوئے ہیں اور ہمارے نصیبوں میں آخر ٹھوکریں ہی کیوں لکھی ہیں؟ شیر علی سمجھوتہ کر کے تم نے دانشمندی سے کام لیا ہے، یہاں شعور چاہیے کس کو ہے؟

تمہیں شاید غلط فہمی ہوئی ہوگی کہ اس سماج کو شعور کی ضرورت ہے، ارے بالکل نہیں۔ یہاں تو شروع دنوں سے اندھیروں کا راج ہے اور تم اساطیر کے جھنجھنوں سے بہلنے والی قوم کو مفت میں شعور بانٹنے نکل پڑے۔

ارے صاحب جانے دیں آپ جیسے سالٹ آف دی ارتھ تو بڑی مشکلوں سے تیار ہوتے ہیں، اپنی جان کی فکر کریں آپ کی جان بہت قیمتی ہے۔ خود کو بے ہنگم و بے سمت ہجوم پر قربان مت کریں۔

اس قوم کے تو سوچنے کا لیول ہی الگ ہے، اس قوم کے مذہبی رہنماؤں کے نزدیک کبھی لاؤڈ اسپیکر، بیکری مٹیریل، پرنٹنگ پریس، انگریزی تعلیم اور کیمرہ متفق علیہ حرام تھا اور آج ان کے نزدیک ان میں کوئی قباحت نہیں رہی، نا صرف بڑھ چڑھ کے ان سب کفریہ نعمتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی علمی یاترا کے لیے یورپ بھیجتے ہیں جہاں دن رات انہیں صرف برائی ہی دکھتی رہتی ہے۔

ہمارے یہی مذہبی رہنما جو نظریہ ارتقاء کو زبردستی کلمہ پڑھوانا چاہتے ہیں اپنے اپنے یوٹیوب چینلز پر مذہبی فریضہ سر انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔ کتنے عجیب لوگ ہیں نا! جنہیں میکڈونلڈ میں یہودی دکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہودیوں کی دوسری قباحتوں فیس بک، یوٹیوب اور انسٹا کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں تو پھر سوال پوچھنا تو بنتا ہے نا کہ
”کیا یہ دیگر قباحتیں مسلمانوں کی ایجادات ہیں یا ان کے موجد ایم۔ ٹی۔ جے یا طارق مسعود ہیں“ ؟

جن کو اپنی سوچ میں ارتقاء بھلے وقت کا جبر کہیں نظر نہیں آتا وہ ایوولوشن جیسے واضح سچ یا حقیقت کو کیا جان پائیں گے؟
پروفیسر شیر علی تمہیں خواہ مخواہ میں خود کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس اتنا کیجئے کہ اس قوم کو اس کے حال پہ چھوڑ دیجئے۔

Facebook Comments HS