گل جان کی کہانی
بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے جب آپ ایک کام شروع کریں گے پہلے سو بار سوچیں، پھر کام شروع کریں اور مکمل کریں۔ لیکن میں لکھنا شروع کرتی ہوں تو میرے سامنے ایک اور قصہ آ جاتا ہے۔ ابھی اس قصے کو لکھ کر پورا نہیں کر پاتی کہ دوسرا قصہ سامنے آ جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ”پہلے مجھے لکھو!“
اور میں بھی یہی سوچتی ہوں کہ ابھی اس نئے قصے کو لکھنا ضروری ہے۔
بہت دفعہ کہانی، قصے، افسانے میرے ذہن میں آتے ہیں۔ اور ان کا چناؤ میرے سامنے بہت مشکل عمل ہے۔ پر میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس قصے کو لکھنا چاہیے جس میں کڑوا سچ شامل ہو۔ بھلے کڑوے سچ کو لوگ نہ مانتے ہوں۔ اسی لیے میں اپنے بہت سے آرٹیکل، مضامین اور افسانے لکھنے کہ بعد شائع نہیں کرتی کہ یہ اتنے جلدی ہضم نہیں ہوتے۔ کیوں کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ شائع ہونے کے بعد انہیں کوئی اور رنگ نہ دیا جائے! اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میرے لکھے مضامین جب دوسری بار پڑھے تو میں انہیں دوسرے رنگوں میں لکھتی ہوں۔ میں اپنے آرٹیکل کو تو دوسرا رنگ دے سکتی ہوں۔ پر سچے قصے، کہانیوں اور افسانوں کو نیا رنگ نہیں دے سکتی۔ پھر بھی یہ قصے ایسے ہیں کہ ہر زمانے کے لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور میرے عنوان بھی کڑوے سچ کو بیان کرتے ہیں۔ اور اگر لوگ انہیں غلط رنگ دیں میں پھر بھی انہیں بیان کروں گی۔ کیوں کہ میرا لالچ آرٹیکل اور افسانہ لکھنا نہیں پر میں چاہتی ہوں جو میں جانتی ہوں لوگوں تک پہنچاؤں۔
جیسا کہ گل جان کی کہانی مجھے بے چین کر گئی۔ ہر روز کی طرح میں جیسے ہی اسپتال میں لیبر روم میں ریسرچ کرنے کو پہنچی۔ لیبر روم وہ جگہ ہے جہاں ہر قسم کے کیسز ملتے ہیں۔ یہ پہلا ایسا کیس تھا کہ میں نے ایک عورت کو لیبر روم کے ایمرجنسی وارڈ میں دیکھا کہ جس کے ہاتھ، پیر بیڈ سے بندھے ہوئے تھے۔ اور اس عورت نے پورا لیبر روم اپنے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ اور وہ بہت بے چین ہے۔
میں نے فائل اور رپورٹس لے کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟
تو اس فائل میں لکھا ہوا تھا Puerperal psychosis ( Postpartum psychosis) یہ وہ نفسیاتی بیماری ہے جو کہ ایک ماں کو ڈلیوری کے بعد ہوتی ہے۔ puerperal psychosis وہ ذہنی بیماری جو کہ عورت کو ڈلیوری کے بعد چھ ہفتوں کے اندر ہو سکتی ہے۔ بہت سی جگہوں پر یہ کہا جاتا ہے یہ بیماری ڈلیوری کے ڈر اور خوف کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ بیماری بہت کم ہونے والی بیماریوں میں سے ہے۔ جیسا کہ بہت سی عورتوں میں سے بہت کم عورتوں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہر پانچ سو بچہ پیدا کرنے والی عورتوں میں سے ایک کو ہوتی ہے۔
بہت دفعہ یہ بیماری اس وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب پہلا بچہ پیدا ہو تو یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ یا یہ بیماری خاندان میں موجود عورتوں میں پہلے اگر کسی کو ہو۔ اور کم سوشل سپورٹ کے ہونے پر بھی ہو سکتی ہے۔ جس فیملی میں سے کسی کو یہ بیماری ہو اور اس کا علاج نہ کیا جائے اس حالت میں بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ مجھے اس بیماری کے بارے میں کوئی زیادہ علم نہ تھا۔ اس لیے میں نے وہاں موجود سینئر ڈاکٹر سے پوچھا۔
puerperal psychosis کیا ہے؟ اور اس کا علاج ہے یا نہیں؟!
ڈاکٹر نے مجھے جواب دیا کہ اس بیماری کا کوئی ایک سبب نہیں کہ یہ کیوں ہوتی ہے لیکن بہت ساری ریسرچ کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سی ماؤں کو بچپن میں پہلے کوئی ذہنی بیماری ہو، بہت مشکل زندگی بسر کرنے سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا علاج ہے۔ لیکن شرط کہ فوراً علاج کیا جائے۔ اور اس بیماری کی ابتدائی علامتیں یہ ہیں
نیند کا نہ آنا،
لوگوں سے باتیں نہ کرنا یعنی (چپ لگ جانا)،
رویے میں تبدیلی،
یہ کچھ تبدیلیاں ہیں۔ ان کے ظاہر ہوتے ہی اس وقت ڈاکٹروں کو دکھانا چاہیے کہ علاج جلد از جلد کیا جائے۔ اور ڈاکٹروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ڈلیوری سے پہلے عورتوں سے پوچھیں کہ انہیں کوئی نفسیاتی، ذہنی بیماری تو نہیں یا خاندان میں ایسی کوئی بیماری نہیں؟
اس ڈاکٹر نے اس بیماری puerperal psychosis کے بارے میں بتایا لیکن پھر بھی مجھے سکون نہیں ملا۔ مجھے 19 سالہ گل جان نے بہت اداس اور افسردہ کیا۔ میں نے اس بیماری کے حوالے سے بہت سی کتابیں پڑھی، ریسرچ کی کہ آخر یہ بیماری کیا ہے؟
اس دن تو میں اسپتال سے چلی گئی۔ دوسرے دن میں دیکھتی ہوں کہ اسی ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک بوڑھی عورت ایک جوان لڑکی کے ساتھ کھڑی ہے اور رو رہی ہے۔ اور اپنی زبان سے گل جان گل جان پکار رہی ہے۔ میں جب ان کی طرف جانے لگی۔ تو وہ بوڑھی عورت اس لڑکی کو کہنے لگی کہ ڈاکٹر کے ساتھ اردو میں بات کرو اور وہ لڑکی اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں مجھ سے بات کرنے لگی۔ ایسے میں، میں نے اس بوڑھی عورت کا ہاتھ پکڑ کر کہا، میری ماں، میں بھی بلوچ ہوں اور میرے ساتھ بلوچی میں بات کریں!
اس سے میں نے یہ دیکھا کہ وہ بوڑھی ایسی خوش ہوئی کہ اسے کسی نے کہہ دیا ہو کہ گل جان ٹھیک ہو گئی ہے۔ اور اس کے گلے لگانے سے مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ میں کامیاب ہو گئی ہوں۔
اس وقت گل جان کو لیبر روم لے گئے اور وہاں کسی اور کو جانے کی اجازت نہیں تھی پر میں اس عورت کو اس بات پر لے گئی کہ یہ میرے لوگ ہیں اور میں نے اس بوڑھی عورت کو کہا ”اماں اپنی گل جان کو دیکھو!“
اس بات پر وہ بوڑھی عورت اور وہ جوان لڑکی اپنی محبت مجھ پر نچھاور کرنے لگیں۔
اور میں بھی اس کیس کو سمجھنا چاہتی تھی۔ اور کچھ دن بعد میں نے پوچھا کہ گل جان کے بارے میں مجھے کچھ معلومات چاہیے۔ اس کی بڑی بہن رونے لگی۔ اور بات کو شروع کیا۔
”ہم مشکے کے رہنے والے ہیں۔ میرے باپ کے ظلم اور زیادتی نے میری ماں کو وقت سے پہلے بوڑھا اور کمزور کر دیا۔ اور گل جان کو اس حالت تک پہنچایا۔ ہم تین بہنیں تھیں۔ مجھ سے جو چھوٹی بہن تھی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔ گل جان سب سے چھوٹی ہے۔ جو یہاں پاگل۔ بے سدھ، ادھ مری پڑی ہوئی ہے۔ میرے ابو اس دنیا سے چل بسے۔ پر اس کے ظلم و زیادتی سے میری چھوٹی بہن نے خود کشی کی۔ کیوں کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ اور والد نے اس کی شادی کسی اور سے کروا دی۔ اور لوگوں کو یہ بتایا کہ وہ بیماری سے مری ہے۔ گل جان نے اپنے بچپن سے لے کر آج تک کوئی خوشی نہیں دیکھی۔ جب وہ جوان ہونے لگی۔ جب اسے پہلی ماہواری آئی اس میں اسے اتنا شدید درد ہوا کہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔ اس کے شور اور چلانے سے ماں گھر کا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیتی تھی کہ اس کی آواز باہر نہ جائے۔ دوسری ماہواری پر اسے اتنا شدید درد ہوا کہ جیسے اس کا سکرات کا وقت ہو چکا ہو۔
ماں اسے مولویوں کے پاس لے جاتی۔ پھر بھی وہ کسی طرح ٹھیک نہیں ہوتی اور ابا کی یہ ہی باتیں ہوتی تھی کہ جوان ہوتی لڑکیوں کی جتنی جلد شادی ہو جائے تو اچھا ہے۔ انہوں نے گل جان کی شادی اس سے 20 سال بڑے مرد سے کروا دی۔ اور وہ ایک بار پھر اپنے شوہر کے ظلم اور زیادتی کا شکار ہونے لگی۔ میری ماں تو یہ سمجھتی ہے کہ گل جان کا شوہر گل جان کو خوش رکھے گا۔ اسے خوشیاں دے اور محبت دے گا اس کی زندگی تبدیل کرے گا اس کی زندگی میں تبدیلیاں لائے گا۔ اس کی دکھ بھری زندگی خوشیوں میں تبدیل ہو جائے، لیکن افسوس کہ اس نے بھی گل جان کو ذہنی پاگل کر دیا!
اس بات کو سناتے گل جان کی بہن رونے لگی۔ میں ایک سوچ میں پڑ جاتی ہوں۔ ویسے میڈیکل ٹرمنولیجی میں اس کو Secondary Dysmenorrhoe کہتے ہیں
dysmenorrhoe درد کو کہتے ہیں۔ پرائمری میں درد تھوڑا سا ہوتا ہے۔ ”Menarche“ یعنی کہ پہلی بار ماہواری کا آنا۔ جس میں درد کم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بیماری نہیں۔ جیسا کہ سیکنڈری اس میں درد کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ درد برداشت نہ ہو سکے۔ سیکنڈری کے اندر pathogen ہوتا ہے۔ pathogen وہ جراثیم ہے کہ وہ بیماری پیدا کرتے ہیں۔ اور اس پیچیدگی کی بہت سی علامتیں ہوتی ہیں۔ اور یہ جراثیم الٹرا ساؤنڈ سے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ اس صدی میں بھی مولویوں کے پاس جاتے ہیں۔ اس دن گل جان کی بہن نے بہت کچھ کہا اور اس کا دل ہلکا ہوا۔ لیکن مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ اور جب دوسرے دن اس کی بہن سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے ایسی بات بتائی اگر میں لوگوں کو اس کے بارے میں باخبر نہیں کروں تو بہت سی جانیں جا سکتی ہیں۔ اس لیے میں گل جان کی بہن کی باتوں کو ضرور کہوں گی
وہ کہتی ہے کہ گل جان شادی کرتی ہے۔ شادی کی پہلی رات sex کے دوران اسے خون نہیں آتا۔ اسی وجہ سے اس کے شوہر اس پر الزام اور تہمت لگاتے ہیں۔ ابھی گل جان دلہن ہی ہوتی ہے۔ اس کی شادی کو دو ماہ بھی نہیں ہوتے کہ وہ دوسری شادی کر لیتا ہے۔ بہت ساری مار پیٹ اور ڈلیوری کے بعد گل جان بے سدھ اور پاگل ہو جاتی ہے۔
گل جان کی باتیں بتانے کے بعد اس کی بہن آہیں بھرنے لگتی ہے۔ اور میں اپنے آنسو نہیں روک پاتی۔ اس وقت میں نے خود کو بہت لاچار پایا اور محسوس کیا کہ میں اس کے بعد شاید کسی کو کوئی آگاہی نہیں دے سکوں گی۔ ویسے اس کو کہتے ہیں (Post coital bleeding) After Intercourse Bleeding یعنی کہ sex کے بعد خون کا آنا۔ اس میں hymen پردے کا پھٹ جانا۔ لیکن خون نہ آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت ناپاک ہے یا صاف نہیں۔ لیکن یہ پردہ بہت سی خواتین میں نہیں پایا جاتا۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ جیسا کہ لڑکیوں کا کوئی کھیل کھیلنا، سخت ورزش کرنا، وزن اٹھانا، کسی کو تو پیدائش کے وقت بھی یہ پردہ نہیں پایا جاتا۔ لیکن افسوس اس زمانے میں مرد عورتوں کو ناپاک کہتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں سیمینار ہوتے ہیں۔ آگہی مہم کے پروگرامز ہوتے ہیں۔ لیکن میری قوم کے افراد بے خبر ہیں۔
اس قصے کے اندر میں نے ایک عورت کی زندگی کے بارے میں حقیقت بیان کی ہے۔ امید کرتی ہوں کہ ان باتوں کو غلط رنگ نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ ان باتوں کو اور لوگوں تک بھی پہنچایا جائے گا تاکہ اور عورتوں کی زندگیاں ضائع نہ ہوں اور بہت سی گل جان ظلم اور زیادتیوں سے بچ پائیں۔


