ماں کا دل اور جنگ زدہ بچے
آج بہت دنوں بعد سوشل میڈیا لاگ ان کیا تو فلسطین میں جنگ کی تباہ کاریوں کی وڈیوز نظر سے گزری۔ ماں باپ کی لاشوں پر بلکتے بچے، کہیں والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کے پرخچے جمع کرتے ہوئے دکھے۔ ایک ماں ہونے کے ناتے دل کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ تبھی ذہن کی گہرائیوں سے ماضی کا ایک واقعہ ابھر کر یاد آیا۔ سال 2012 میں لاہور کے ایک ڈینٹل ہاسپٹل میں ہاؤس جاب کے دوران او پی ڈی میں میری ڈیوٹی تھی۔ شدید سردی کے دن تھے اور روٹین کے بر عکس رش کافی کم تھا۔
مریضوں کے چیک اپ کے دوران دو چھوٹے بچے، جو کہ خد و خال سے پٹھان لگتے تھے، میرے پاس آئے۔ ایک 6، 7 سال کا بچہ اور 4، 5 سال کی بچی، مجھے انہیں والدین کے بغیر دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔ اس سے زیادہ اچنبھا ان کے ننگے پاؤں اور پھٹے ہوئے کپڑے دیکھ کر، جن پر وہ برائے نام سویٹر پہنے ہوئے تھے۔ خیر میں نے ان کا چیک اپ شروع کیا تو وہ چیک اپ کرانے سے زیادہ ہاسپٹل کے اندر آنے پر خوش تھے۔ ہسٹری لیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ کیا کام کرتے ہو تو بتایا کہ کوڑا چنتے ہیں۔
میں نے ویسے ہی پوچھا کہ کتنے پیسے کما لیتے ہو تو جواب ملا کہ دو روپے ایک بوری کے۔ اسی دوران بچہ نے پوچھا کہ آپ کا نام ڈاکٹر حفصہ ہے کیا؟ میں نے کہا ہاں پر تمہیں کیسے پتہ چلا؟ کہتا آپ کے کوٹ پر لگے بیج پر سے پڑھا ہے۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ کوڑا چننے والا بچہ انگریزی میں لکھا نام کیسے پڑھ سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ سکول جاتے ہو تو جواب ملا کہ اپنے گاؤں میں جب تھے تو جاتے تھے اب نہیں۔ مزید کریدنے پر پتہ چلا کہ دونوں بچے بہن بھائی تھے اور وزیرستان کے علاقے سے تھے۔
بچہ دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اور بچی نرسری میں، باپ سکول میں استاد تھا اور ماں بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھی۔ ماں باپ اور تمام رشتے دار وار آن ٹیررزم کی نظر ہو گئے اور ان تمام بے سہارا یتیم بچوں کو کچھ بدبخت لوگ اپنے فائدے کی خاطر بڑے شہروں میں لے آئے۔ کسی کو گداگری پر لگا دیا کوئی دن بھر کوڑا چنتا تھا۔ وہ دن بھر کوڑا جمع کر کے اس شخص کو لا کر دیتے تو روٹی ملتی اور ایک بوری کے دو روپے ملتے۔ چھوڑ کر جانے کا سوال ہی نہیں کہ کہاں جائیں گے۔ کسی کو جانتے ہی نہیں تھے۔
تب میرے دل میں شاید مامتا کے جذبات نہیں تھے تو میرے لیے یہ واقعہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا لیکن آج اگر میں ایک ماں کی طرح سوچتی ہوں تو دل دہل جاتا ہے کہ ان بچوں پر کیا گزرتی ہے، جو ایک لمحہ پہلے تک کسی کی جان کا ٹکڑا ہوتے ہیں اور ایک لمحے میں ہی ان کے سر سے آسمان چھن جاتا ہے۔ جو اپنے ماں باپ کے بغیر رات کو سوتے نہیں تھے وہ کیسے کھلے میدان میں رل رہے ہیں اور جن والدین کے جگر کے ٹکڑوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ان کا دکھ تو وہی شاید سمجھ سکیں جنھوں نے اپنے جگر گوشوں کو خود اپنے ہاتھوں سے دفنایا ہے۔ یہ بڑے شکاریوں کے کھیل میں چھوٹے چھوٹے معصوموں کی بلی ہی کیوں چڑھتی ہے۔ کوئی خدا سے اس سوال کا جواب دلا دے بس۔


