کرپشن بمقابلہ پنشن
گزشتہ دس، پندرہ دنوں سے صوبہ پنجاب میں تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی سے تو اب تمام والدین واقف ہیں، جس کا بنیادی سبب پنشن قوانین میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی نج کاری ہے۔ پنشن واجبات میں ترمیم تو سمجھ میں آتی ہے لیکن کچھ دن پہلے ہونے والی وزیر اعلیٰ پریس کانفرنس میں محسن نقوی کا نج کاری کے نام پر ذومعنی انداز میں مسکرانا میری فہم سے بالا تر ہے کہ اگر پاکستان کے اکثریتی صوبہ میں تعلیمی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے تو کس بنیاد پر؟
کیا والدین فیس دیں گے؟ کیا مفت کتابوں کی سہولت بھی غریب والدین سے چھینی جا رہی ہے؟ کیا ہر بچہ اب فروغ تعلیم فنڈ کی مد میں ہر ماہ رقم جمع کروائے گا؟ کیا ماہانہ ٹیوشن فیس بھی والدین ادا کریں گے؟ دوسرا سوال جو میرے ذہن میں ابھی تک گونج رہا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اساتذہ کی پنشن ادا کرنے کے بعد ایک صوبہ کنگال ہو جائے اور سٹیٹ بنک سے قرض لے کر گزارہ کرے؟ جہاں تک نج کاری کا سوال ہے تو ابھی تک کوئی بھی واضح پالیسی سامنے نہیں لائی گئی کہ ہمارے بیس ہزار سے زیادہ سکولوں اور ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ کالجوں کے پانچ سے چھ لاکھ اساتذہ کرام کس کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ایسا تو نہیں کہ تقسیم پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک پاکستان اور عوام جو اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے مابین فٹ بال بنے رہے، اب تھوڑا تھوڑا کر کے اسے پھر برطانوی سامراج کی لے پالک غیر منافع بخش تنظیموں کے سپرد کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔
حال ہی میں آئی ایم ایف سے جاری شدہ قسط کے بعد ، ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں اتنی تواتر سے سامنے آئی ہیں کہ اب تو ہر وقت دل کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ خدا نخواستہ ہم کہیں غلط سمت تو نہیں جا رہے، لیکن اس کا تمام تر نزلہ محکمہ تعلیم پہ گرنائے سے پہلے فیصلہ سازوں کو یہ بھی سوچنا ہو گا کہ حکومتی مشینری کا سب سے اہم کل پرزہ استاد ہے جو ضرورت پڑنے پر صحت، شماریات اور امتحانات میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے نجی چینل کے پروگرام ’‘ حسب حال ”میں جنید سلیم نامی صحافی نے اداکاری کے نام پہ تمام بھانڈوں کو جمع کر کے اساتذہ کے خلاف جو زہر اگلا ہے، میں سراسر اس کے خلاف ہوں کیونکہ پاکستان میں آج تک کامیاب افراد میں سے 90 فیصد لوگ ٹاٹ پر بیٹھ کر انہی گورنمنٹ اساتذہ سے تعلیم حاصل کر کے پہنچے ہیں۔ اب ہر شخص کی قسمت کی وہ بھانڈ بنے یا سائنس دان اور انجینئر، جہاں تک میرے مشاہدات ہیں تو ذرا سوشل میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں، ٹویٹر ہو یا ٹک ٹاک، ہمارے موجودہ مرد و خواتین اساتذہ تعلیم دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
اگر کسی صاحب الرائے شخص کو میری بات سے اختلاف ہے تو چل کر کسی خواتین سکول کا معائنہ کر کے اساتذہ کے ہاتھ سے سجے ہوئے کمرے، راہداریاں اور کلاس روم کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ، خوبصورتی سے پھول بوٹوں سے مرصع ان کے حاضری رجسٹر دیکھ لے، اگر پھر بھی اس کی آنکھوں پہ اساتذہ کے خلاف بغض بھرا ہے تو ایک نظر ان کے غریب و فقیر طلباء و طالبات پر بھی ڈالے، جن کے پاس لکھنے کو قلم ہے اور نوٹ بک میسر نہیں۔ پھٹے پرانے جوتے میں ملبوس طلباء کے پاس پہننے کو مکمل وردی بھی نہیں ہوتی لیکن وہ استاد کی آنکھ کا تارا ہو تا ہے۔
میرے ذاتی مشاہدے میں ہے کہ اکثر دیہات کے اساتذہ ہی ان کو پنسل، قلم اور سیاہی اپنی تنخواہ سے لے کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی تنخواہ ہوتی ہے جسے اکثر سوشل میڈیا کے مفکرین حرام کی کمائی کہتے ہیں۔ جن کو اپنے اساتذہ کی محنت نظر نہیں آتی، جو آج اپنے حق کے حصول کی خاطر حرام خور، بلیک میلر اور نا اہل کہلائے جا رہے ہیں۔ جن پہ زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ عرصہ دس دن سے والدین کے بچے اپنے گھروں میں بغیر تعلیم کے بیٹھے ہیں لیکن کوئی بھی حکومت وقت کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ کم از کم معلمین کے جائز مطالبات تو تسلیم کیے جائیں تاکہ ہمارے بچوں کی تعلیم کا ہرج نہ ہو۔
میرے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ تنخواہ لگسمبرگ کے اساتذہ کی ہے۔ لگسمبرگ میں ایک دس سالہ تجربہ یافتہ استاد کی تنخواہ 65000 ڈالر سالانہ ہے، جس کی پاکستانی روپے میں مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ایک پرائمری سکول ٹیچر جس کی تنخواہ 600000 روپے ماہانہ ہو، اس کی امریکی ڈالر میں سالانہ تنخواہ صرف 3000 ڈالر ہے۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ واپڈا کے ملازمین کو بجلی کے یونٹ معاف ہیں، کیا کسی استاد کے بچے کے لئے بھی کوئی ریلیف ہے؟
ایک پولیس ملازم کا کسی نے آج تک چالان ہوتے دیکھا ہے؟ اپنے پیٹی بھائی کو ہر ناکے پہ تو پروٹوکول دیا جاتا ہے لیکن استاد کے لئے کوئی آئی جی پنجاب کے حکم نامہ کو ہوا میں اڑا کر کس لئے بے عزت کیا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس نے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔ کسی متشدد مذہبی تنظیم کی طرح قانون نافذ کرنے والوں پہ حملہ تو نہیں کیا؟ میرے خیال میں ہماری عوام کی اکثریت کو اساتذہ سے یہی گلہ ہے کہ ان کو چھٹیاں کیوں دی جاتی ہیں لیکن احتساب اور مانیٹرنگ کے نام پر ان کے سر پر جو تلوار لٹک رہی ہے، اس کی کسی صاحب علم کو خبر ہی نہیں ہے۔
جب تعلیمی نظام میں امتحان اور جائزہ ہی نہ ہو، مشاورت کا نام و نشاں بھی نہ رہے تو اساتذہ کی کار کردگی کا کون سا پیمانہ باقی رہ گیا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اساتذہ اپنے فرائض منصبی کیسے سر انجام دے رہے ہیں۔ فن لینڈ کی مثال لے لیں، یہ دنیا کا رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا سا ملک ہے۔ 30 سال پہلے اس کی معیشت دگرگوں تھی، معاشرتی نظام تنزلی کا شکار تھا لیکن وہاں کے فیصلہ سازوں نے اساتذہ کو وہ عزت و تکریم دی کہ ان کو ”خواب گر“ کا خطاب دے کر ان کی تنخواہ ایک ڈاکٹر اور انجینئر کے برابر کر دی۔ طلباء اور اساتذہ کے درمیان تدریسی عمل کی حقیقت کو جانچنے کے لئے تین رکنی ٹیم بنائی گئی جس میں سوشل ورکر، نرس اور ماہر نفسیات شامل تھے جو براہ راست پرنسپل اور اسکول انتظامیہ کو بچے کی کار کردگی کے بارے میں بتاتے تھے پھر چشم فلک نے دیکھا کہ 2006 میں سائنسی مضامین میں فن لینڈ کے سکولوں کے طلباء نے 57 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 2009 میں دنیا کے 5 لاکھ اسٹوڈنٹس کے مابین مقابلے ہوئے تو اس ملک کے طلباء بیک وقت سائنس میں دوسرے، مطالعہ میں تیسرے اور ریاضی میں چھٹے نمبر پر رہے۔
آج بھی بین الاقوامی طور اس ملک کے طلباء پہلے نمبر پر ہیں، ایک ہم ہیں کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی طلباء کی چربہ سازی پکڑنے میں اب بھی ناکام ہیں۔ ہمارے ملک میں نظام کو از سر نو ترتیب دینے والوں کی جیب گرم کر کے، ایسا تعلیمی نظام مسلط کر دیا گیا ہے جس سے ایک ایسی نسل جنم لے رہی ہے جو اخلاقی قدروں سے مبرا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو کسی بھی شعبے میں بین الاقوامی معیار کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ اساتذہ کی تکریم اور کم معاوضے کے ساتھ ساتھ ہر بے روزگار شہری کو محکمہ تعلیم میں کھپانے کی وجہ سے ہمارے ملک میں صرف سپاہی اور کلرک پیدا ہو رہے ہیں۔ ہماری تجربہ گاہیں سنسان اور ویران ہیں۔ ذہین اور فطین طلباء وقت سے پہلے ہی اپنے بہتر مستقبل کی خاطر بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور ہمارے پاس بچ بچا کر یہی بھانڈ ہی مسلط کر دیے گئے ہیں جو ہر شریف آدمی کی پگڑی اچھال کر ہمیں ہنسانے کا معاوضہ لیتے ہیں۔


