مطلع (ایک مکالمہ)


میرے استاد گرامی عارف وقار نے سرمد صہبائی کی اس تحریر پر ذیل کا تبصرہ کیا ہے۔

Being a Ghalib enthusiast, I have been in touch with this opening couplet of his Deevaan, since my school days. From the school master’s classroom notes to the university professor’s pedagogical explanations, and from Yousuf Saleem Chishti’s “Ghalib Made Easy” to Tabatabaee’s more scholarly commentary, I have seen almost everything said about “naqsh furyadi hai kiski…” but the truth is that nobody had dealt with the ‘euphonic’ aspect of this ghazal: only a man with a musical ear could pick the fluidity of the ‘R’ sound, countered by the strong consonant sound of “K”. I salute you Sarmad.

اگر سرمد صہبائی کی تحریر صریر خامہ کی سرمدی موسیقی ہے تو میرا استاد بھی ژرف نگاہی میں حرف آخر ہے۔ طالب علم مخمل میں  ٹاٹ کا پیوند لگانے کی بضاعت نہیں رکھتا۔ آئیے اس تحریر سے لطف اٹھائیں۔ 

٭٭٭            ٭٭٭

”نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیراہن ہر پیکرِ تصویر کا
یار شاعر ادیب اپنی تخلیق کا آغاز حمد و ثنا کے ساتھ کرتے ہیں اور غالب اپنے دیوان کی ابتدا اس مطلع سے کرتا ہے جس کا حمد و ثنا سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔”
“میرے خیال میں تو غالب نے اپنے دیوان کا آغاز حمدیہ شعر سے ہی کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ‘خوگرِ حمد’ کا شاعر نہیں۔ ویسے تمہارے خیال میں شاعر حمد کیوں کہتا ہے؟ ”
“یہی کہ اس کے کلام میں تاثیر پیدا ہو”
” تاثیر تو تب پیدا ہو گی جب اس کے پاس قوت کلام ہو گی۔ خالق تو خدا ہے، شاعر نہیں، اس کے پاس تو خلق کرنے کی قوت نہیں۔ وہ دراصل خدا سے گویائی کی طاقت مانگتا ہے تا کہ وہ اپنا اظہار کر سکے۔ غالب نے اس قدیم روایت کو اپنی شوخی ایجاد سے اور کا اور کر دیا ہے”۔
“وہ کیسے؟ ”
” دیکھو غالب اپنے دیوان کی ابتدا دعا سے نہیں، فریاد سے کرتا ہے، ایسی فریاد جو ایک نقش میں منجمد ہے۔ نقش جس کی تحریر کے آڑے ترچھے خطوط الجھے ہوئے ہیں۔”
” تحریر اور نقش؟ غالب کے ایک نقاد شاداں کا کہنا ہے کہ لفظ ‘تحریر’ نے سارے شعر کو بے معنی بنا دیا ہے۔”
” تم نے ایرانی خطاطی دیکھی ہے جس میں الفاظ تصویری شکل میں لکھے جاتے ہیں۔ جو کششیں اور قوسیں کھینچی جاتی ہیں ان کا اتار چڑھاؤ نقش بناتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر تحریر کا ایک مطلب تو لکھنا ہے لیکن ایک مطلب غلام کی آزادی بھی ہے۔ شوخی کا مطلب شرارت، ناز و انداز اور خود نمائی کے ساتھ سنگ دلی اور ایذا رسانی بھی ہے۔ اب جس شوخی سے آقا نے غلام کو ’تحریر’ یعنی رہا کیا ہے یا جس شوخی سے اس نقش کو لکھایا گیا ہے غالب اس کا فریادی ہے۔ مہر افشاں فاروقی نے غالب کے مسترد اشعار میں سے جو یہ شعر نکالا ہے وہ سنو۔
خوانا نہیں ہے خط رقمِ اضطرار کا
تدبیرِ پیچ و تابِ نفس کیا کرے کوئی
اضطرار کے خطوط ‘پیچ و تابِ نفس’ میں ایسے کھینچے گئے ہیں کہ وہ خوانا نہیں، یعنی پڑھے نہیں جا سکتے، اس نقش کے خطوط بھی ایسے ہی ہیں۔ ٹھہرو میں تمہیں مونخ کی ایک پینٹنگ دکھاتا ہوں”
” یہ غالب کے مطلع میں مونخ کی پینٹنگ کہاں سے آ گئی ؟”‘
” دیکھو تو سہی، اس پینٹنگ کا نام ہے (چیخ) The scream
اس میں یہ چہرہ دیکھ رہے ہو؟”
” چہرہ؟ اس کے تو کوئی خد و خال ہی نہیں، کوئی پہچان ہی نہیں، نہ ہی پتہ چلتا ہے عورت ہے کہ مرد “

” یہ انسان کا ازلی اور ابدی چہرہ ہے جو ناقابلِ شناخت ہے۔ اسکی لکیریں ایسے کھینچی گئی ہیں کہ تصویر تو ساکت ہے لیکن سارا کینوس تھرتھرا رہا ہے۔ بس مونخ کی یہی ‘ گونگی چیخ ‘ غالب کی منجمد فریاد ہے۔ جہاں نقش تو خاموش ہے لیکن پیچ و تاب نفس کے اضطرار سے سارا دیوان تھرتھرا رہا ہے ۔ ٓ ویسے ‘چیخ’ سے مجھے یاد آیا کہ غزل کا ایک مطلب تو عورتوں سے باتیں کرنا ہے لیکن ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب شکاری کا تیر ہرنی کے سینے میں پیوست ہوتا ہے تو اس وقت اس کے مونہہ سے جو چیخ نکلتی ہے، اس کو بھی غزل کہتے ہیں۔”

“یہ تم کہاں کی بات کہاں جوڑ رہے ہو، نہ کوئی حوالہ نہ کوئی مستند رائے، نہ ریسرچ، بس اپنی کہے جا رہے ہو”

“دیکھو تمہیں حوالے چاہییں تو انکل گوگل سے پوچھ لو۔ میں کوئی پروفیسر یا نقاد نہیں اور نہ ہی میرا کوئی غالب پر دعویٰ ہے، میں تو بس اپنے مزے لے رہا ہوں۔”

“مزے لیتے رہو لیکن کوئی کام کی بات بھی تو کرو۔”

“مثلاَ؟”

“مثلاَ یہ کہ غالب کے ہم عصروں نے اس مطلع کو مہمل قرار دے دیا تھا۔ اور پھر غالب کے بعد نظم طباطبائی نے تو اپنی “شرح غالب” میں صاف صاف کہہ دیا ہے کہ شعر کا مطلب شاعر کے دل میں ہی رہ گیا ہے ۔ وہ اسے ‘معنی فی بطن شاعر’ قرار دیتا ہے۔”

” ٹی ایس ایلیٹ کو جانتے ہو؟”

” کیوں نہیں، بیسویں صدی کا بہت بڑا انگریزی شاعر اور نقاد مانا جاتا ہے”

” تمہیں پتہ ہے اس نے شیکسپیئر کے ڈرامے ہیملٹ کے بارے میں کیا کہا تھا ؟”

“کیا؟”

“اس نے کہا ہیملٹ ایک ‘ناکام فن پارہ’ ہے۔ چلو تمہیں حوالہ بھی دے دیتا ہوں۔ اس کا مضمون ہے Hamlet and his problems اس میں اس نے اپنی ایک تھیوری پیش کی ہے جسے وہ کہتا ہے Objective correlative۔

اسکا کہنا ہے کہ شاعر کو اپنے اظہار کے لئے معروضی طور پر زبان و بیان اور واقعات کا ایک ایسا سلسلہ تلاش کرنا چاہیے جس کی مطابقت سے وہ اپنا اظہار کرسکے۔ لیکن ہیملٹ میں یہ معروضی مطابقت نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ Inexpressibility یعنی ‘نااظہاریت’ کا شکار ہو گیا ہے۔ گویا یہاں بھی ‘معنی فی باطن’ والا قصہ ہے۔”

“مگر ایلیٹ کی اس تھیوری میں کیا خرابی ہے”

“تمہیں کچھ خرابی نظر نہیں آ رہی، تم نے ہیملٹ پڑھا ہے”

“ہاں”

” تم دیکھ نہیں رہے کہ ہیملٹ کی ساری تھیم انسان کا اظہار نہیں اس کی نااظہاریت ہے”

“یہ کیا مجہول گفتگو ہے۔ تمام ادب انسان کا اظہار ہی تو ہے”

“نہیں میری جان اگر انسان کا اظہار مکمل ہو جائے تو ادب ودب کچھ نہیں رہے گا۔ اس کو اس طرح دیکھو کہ ادب کا اظہار دراصل انسان کی نااظہاریت کا اظہار ہے ۔ غالب ہی کا شعر دیکھو،

آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے
اے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے

انسان کا اظہار ممکن نہیں اور یہی ہیملٹ کا مرکزی خیال ہے”

” تمہارا مطلب ہے کہ شیکسپئر یہ کہنا چاہتا تھا اور ایلیٹ کو یہ بات سمجھ نہیں آئی؟”

“ہا ہا شیکسپئر کو تو یہ بھی پتہ تھا کہ ایک دن ایک نقاد آئے گا جو اس کے ڈرامے کو ‘ نااظہاریت’ کا طعنہ دے کر رد کر دے گا”

“کیا بکواس کر رہے ہو۔ “

“چلو میں تمہیں اسی ڈرامے کا ایک سین دکھاتا ہوں۔ اس سین میں ہیملٹ ایک کتاب پڑھ رہا ہے، پلونیئس جو اپنے آپ کو عقل کُل سمجھتا ہے اور بادشاہ کے لئے ہیملٹ کی مخبری کرتا رہتا ہے، ہیملٹ سے پوچھتا ہے

What do you read my lord?
(شہزادہ عالم آپ کیا پڑھ رہے ہیں)

Hamlet ۔Words! Words! Words!
(لفظ! لفظ ! لفظ !)

پلونئس کو ہیملٹ کا یہ جواب سمجھ نہیں آتا وہ پریشان ہو جاتا ہے اور بادشاہ سے کہتا ہے کہ ہیملٹ پاگل ہو چکا ہے۔”

“اس بات کا ایلیٹ سے کیا تعلق؟”

“دیکھ نہیں رہے یہ پلونیئس ایلیٹ ہی تو ہے جس کو شیکسپئر ہیملٹ کی زبانی یہ کہہ رہا ہے کہ میرے چاروں طرف لفظ ہی لفظ ہیں لیکن کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں، میں جس میں اپنا اظہار کر سکوں۔”

“یہ تم نے کوئی اپنی ہی تعبیر نکال لی ہے۔ “

“چھوڑو یا ر دیکھو ہمارے نوشہ نے طباطبائی کو کیسا مزے کا جواب دیا ہے”

“طباطبائی کو؟ طباطبائی نے تو غالب کے مرنے کے بعد شرحِ غالب لکھی تھی”

“لیکن غالب نے اسے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ شیکسپئر کی طرح غالب کو بھی پتہ تھا کہ ایک دن کوئی طباطبائی نامی نقاد اس کے دیوان کے پہلے شعر کو مہمل قرار دے گا اس لئے اس نے اسی غزل میں اس کو کہہ دیا کہ اے طباطبائی تو اپنی عقل کا جتنا بھی چاہے زور لگا لے میری شاعری تیری سمجھ میں نہیں آئے گی”

“اچھا؟”

“ہاں غالب نے کہا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

“واہ بھئی واہ، لگتا ہے جب غالب یہ غزل لکھ رہا تھا تو تم اس کے پاس ہی بیٹھے تھے۔”

“بس یہی سمجھو، مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے ایلیٹ اور طباطبائی کی تھیوریاں تو کب کی مسترد ہو گئیں لیکن غالب کا مطلع اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہے اور شیکسپئر کا ڈرامہ ہیملٹ ساری دنیا میں اب بھی کھیلا جاتا ہے۔ تمہارے خیال میں اگر شیکسپئر کو ہیملٹ کا ‘اظہار’ اور غالب کو طباطبائی کے مطابق ‘بامعنی’ مطلع مل جاتا تو کیا ہیملٹ، ہیملٹ رہتا یا کیا ہم اس وقت غالب کے اس مطلع پر گفتگو کر رہے ہوتے؟ غور کرو تو یہی وہ ‘ نااظہاریت’ ہے جس کو سیموئیل بیکٹ نے بیسویں صدی میں دیکھ لیا تھا ۔’ ابسرڈ‘ یا بے معنویت کا تھیٹر انسان کے اظہاریت کے دعویٰ کا الم ناک استہزائیہ ہے اور میرے خیال میں شیکسپئر کا ہیملٹ اور غالب کا مطلع اس کی پیش گوئی ہے۔ “

“پھر وہی مجہول گفتگو”

” یار غالب نے یہ مطلع انیس سال کی عمر میں لکھا تھا۔ اور پھر جانتے بوجھتے کہ لوگ اس شعر کو مہمل کہہ رہے ہیں اسے اپنے دیوان کا پہلا شعر بنا دیا ۔ تم غالب کا کوئی بھی دیوان اٹھا کر دیکھ لو تمہیں یہی مطلع ملے گا اس لئے کہ غالب جانتا تھا اس کے دیوان کا اس شعر سے آغاز ہونا اس کی ساری شاعری کے معانی پیدا کرے گا۔ “

“عجیب بات ہے ایک بے معنی شعر غالب کے سارے دیوان کو معنی دے رہا ہے۔ ۔ “

” جب ہم معنویت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے ہم بے معنویت کے معنی کی بات کر رہے ہیں جیسے جب اظہار کہیں تو سمجھو نااظہاریت کا اظہار ہو رہا ہے”

” یار تم ہوش میں تو ہو؟”

“غالب کی بات ہو تو کون ہوش میں رہ سکتا ہے۔ خیر بات شروع ہوئی تھی حمدیہ شعر کی روایت سے۔ غور کرو تو مناجات کے اس عمل میں شاعر ایمپتھی یعنی ہم شناسی یا ہم احساسی کے ذریعے خود خالق کا کردار اپنا لیتا ہے اور اس طرح ایک اپنی کائنات تخلیق کرتا ہے۔ اب مطلع کا ایک مطلب تو غزل کا پہلا شعر ہے لیکن مطلع آسمان کا وہ حصہ بھی ہے جہاں سے ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے۔ خدا کی کائنات ‘حرفِ کن’ سے وجود میں آتی ہے اور غالب کا دیوان جو اس کی کائنات ہے ایک گونگی فریاد سے تخلیق ہوتی ہے، سو یہ مطلع غالب کی کائنات کا مطلع آفرینش ہے؟”

“میں نے ایسی منطق کہیں نہیں دیکھی ۔ ناممکن سی باتیں کیے جا رہے ہو۔”

” قول محال’ کا استاد غالب ہے۔ میں تو بس اس کی طریقت میں اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ چلو میں تمہیں غالب کا ایک خط پڑھاتا ہوں جو اس نے اپنے ایک شاگرد عبد الرزاق شاکر کو لکھا تھا۔ لکھتے ہیں

‘ پہلے معانیِ ابیاتِ بے معنی سنیے، ایران میں یہ رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسا مشعل دن کو جلانا یا خون آلود کپڑا بانس پر لٹکا کر لے جانا’”

“مگر طباطبائی تو کہتا ہے ایسی کوئی روایت نہیں ملتی “

“اس سے کیا فرق پڑتا ہے، اگر یہ غالب کی اپنی بنائی ہوئی کوئی تمثیل ہے تو بھی کمال ہے، ویسے شمس الرحمان فاروقی صاحب نے ‘ تفہیم غالب’ میں قدیم فارسی سے کمال اسماعیل کا یہ شعر کوٹ کر کے طباطبائی کو غلط ثابت کر دیا ہے

کاغذیں جامہ بہ پوشید و بدرگاہ آمد
زادہ خاطر ِمن تابہ دہی داد مرا

یہ بھی تو دیکھو کہ دیوان کا ایک مطلب شاہی دیوان بھی ہے جہاں لوگ بادشاہ کے سامنے اپنی اپنی فریاد لے کر حاضر ہوتے ہیں۔ غالب بھی اپنے اوراق پریشاں اوڑھے دیوان میں کھڑا ہے لیکن اسے داد دینے والا کوئی نہیں۔ ‘کاغذی ہے پیراہن ہر پیکر تصویر کا ‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ‘ یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا’۔ یعنی جیسے پردہ اور ساز ایک ہیں ایسے ہی تصویر کا جسم بھی کاغذ ہے۔ غالب یہاں ایک تصویری تمثیل بنا رہا ہے بالکل ایرانی ڈرامے کی ‘پردہ بازی’ کی طرح جہاں سارا کھیل پردے پر تصویروں کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ غالب کی’ پردہ بازی’ میں تصویریں خاموش ہیں لیکن پردہ تھرتھرا رہا ہے۔ جیسے ستہ جیت رے کی فلم ‘ پاتھر پانچلی’ میں ماں کی موت کے دوران سکرین پر مکمل سناٹا ہے لیکن ساری سکرین تھرتھرا رہی ہے۔ “

“یہ تھرتھرانے والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔”

“چلو شعر کی صوتیات کو دیکھتے ہیں ۔ تم جانتے ہو تجنیس کیا ہوتی ہے؟”

“نہیں۔”

“یہ شاعری کی ایک تکنیک ہے جس میں کچھ حرفوں کی تکرار سے اصوات یا آوازیں پیدا کی جاتی ہیں۔ تجنیس کہیں پر تو محض ایک سجاوٹ کے طور پر نمایاں ہوتی ہے اور کہیں پہ یہ تحت الشعور میں رہتی ہے۔ غالب نے اس شعر میں تجنیس کا حیران کن استعمال کیا ہے۔”

“کہاں، مجھے تو نظر نہیں آیا”

“اس لئے کہ یہ تجنیسِ جلی نہیں، خفی ہے، نظر نہیں آتی۔ ذرا غور کرو جب واول اور کانسوننٹ آپس میں ٹکراتے ہیں تو شعر کا صوتی آہنگ ترتیب پاتا ہے۔ کانسوننٹ آواز کو روکتے ہیں اور واول حرفوں کی آواز کو بہاؤ دیتے ہیں اس لئے انہیں حروفِ صدائی بھی کہتے ہیں۔ غالب کے اس مطلع میں حروف کی صوتیات معنی اور معنی صوتیات میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس شعر میں دو حرفوں یعنی کاف اور رے کی تکرار ہے۔ شعر کی قرات کرتے ہوئے حرف رے کی ووال کے ساتھ روانی ررررر کی صوت دیتی ہے جب کہ کاف کی تکرار رے کی روانی کو روکتے ہوئے رخنے ڈالتی جاتی ہے۔ اس سے خفیف سی ایک ایسی تھرتھراہٹ سنائی دیتی ہے جو کاغذوں کو الٹنے پلٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی تھرتھراہٹ انسان کی ازلی اور ابدی فریاد ہے جس سے غالب کا دیوان آج بھی تھرتھرا رہا ہے۔”

(بشکریہ: دانش ڈاٹ کام)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments