مسئلہ فلسطین امریکہ برطانیہ کی منافقت


آج جب پوری دنیا میں سوشل میڈیا کا جال ہرطرف پھیل چکا ہے دنیا دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور حادثات کسی آنکھ سے مخفی نہیں۔ کہیں سال سے فلسطین کے لوگ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جہاں یہ خونی کھیل اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے ہزاروں فلسطینوں کے گھروں کو میزائل حملوں سے مسمار کر دیا گیا ہے کہیں انسانی جانیں اس دوران ضائع ہوئی۔ نہتے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نشانہ بنا رہی ہے جہاں کم سن شیر خوار بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انسانیت عبرتناک حالات سے دو چار ہے۔ فلسطین کی حمایت میں بولنے والے افراد اگر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ لگاتے ہیں تو ان کی لگائی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی جاتی ہے سچائی کو چھپانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے کون سے عناصر ہیں جو سچ کو پھیلنے سے روک رہے ہیں اور فلسطین کی حمایت پر پابندی عائد کر رہے ہیں اب یہ بات کسی طور چھپائی نہیں جا سکتی وہ ممالک جو اس وقت اسرائیل کو اس خونی کھیل میں بھرپور سپورٹ کر رہے ہیں وہ امریکہ اور برطانیہ ہیں جنہوں نے کھلم کھلا اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ اس خونی جنگ میں اسرائیل جیسے سفاک درندوں کا ساتھ دے رہے ہیں سوشل میڈیا پر بڑھتے فلسطین کی حمایت کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر ڈیلیٹ کی جا رہی ہیں مگر سچائی چھپائے نہیں چھپتی کہیں نہ کہیں سے معصوم بچوں کی شہادت کی ویڈیوز سامنے آجاتی ہیں۔

ہسپتال میں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا تھا اس ہسپتال پر حملے میں ہزاروں بچوں عورتوں سمیت کہیں افراد کو شہید کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی علمبردار جماعتیں اور دنیا کی نظر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک اس وقت اس درندگانہ رویے پر خاموش ہیں بلکہ اس سب میں اسرائیل جو کی ظالم ہے اسے سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس بات کا اندازہ امریکی اور برطانوی لیڈرز کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس سب میں اسرائیل پر کوئی تنقید کرنے کے بجائے سوشل میڈیا سے بھی سچائی ختم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسرائیل حماس پر الزامات لگانے سے باز نہیں آ رہا جو بالکل بے بنیاد ہیں جھوٹی خبریں ہر طرف پھیلائی جا رہی ہیں کہ اسرائیل کے چالیس بچوں کو ہلاک کر دیا گیا ان کے سر کاٹ دیے گئے مگر کسی بھی طرح کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا جبکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اور اسرائیلی بربریت کو ہر کوئی دیکھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہیں بہت سے ممالک کی طرف سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ جس طرح کھل کر سامنے آئے ہیں اس سب کے پیش نظر اس منافقت سے پردہ ہٹ گیا ہے کہ آخر کون سی بڑی طاقتیں اسرائیل کو اس خونی جنگ میں سپورٹ کر رہی ہیں۔ وہ کون سے عناصر ہیں جن کی وجہ سے اتنی وافر مقدار میں اسلحہ اور میزائل آزادانہ اسرائیل استعمال کر رہا ہے۔ جہاں تمام حقیقتوں سے پردہ ہٹا دیا گیا ہے وہاں اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم ممالک بھی یک جاں ہو کر فلسطین کی حمایت میں نکلیں اور ان بین الاقوامی طاقتوں کو دکھا دیں اس مشکل وقت میں فلسطین تنہا نہیں ہے مگر سد افسوس ہمارے حکمران اس وقت الیکشن کے نمبر گیم میں الجھے ہیں باقی کے اسلامی ممالک بھی اپنے معاملات میں الجھے ہیں سب دیکھنے کے باوجود کوئی ایسی حکمت عملی سامنے نہیں آ رہی جس سے اس بربریت کو روکا جا سکے۔

اس وقت سب سوشل میڈیا کو ہی ہتھیار بنا کر استعمال کرنے پر استفادہ کر رہے ہیں اور اس بات سے بھی واقف ہیں کہ یہ واحد ہتھیار کی ڈور بھی انہیں ہاتھوں میں ہے جس کے خلاف بولا جا رہا ہے ان طاقتوں کا جس بات کو دبانے کا ارادہ ہوتا ہے اسے سوشل میڈیا سے بھی غائب کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر مسلم ممالک کو یک جاں ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس ظلم کی جنگ میں فلسطین تنہا نہ رہ جائے اللہ پاک سے دعا ہے اللہ فلسطین کی حفاظت کرے اور فلسطین کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازیں۔

Facebook Comments HS