کیا میں جی پاؤں گا؟
پڑوسی اپنا گھر اسلام آباد شفٹ کر رہے تھے، خالہ صبح گھر آئی اور والدہ سے کہا عمیر کو ذرا بھیجیں میرے بھائیوں کے ساتھ گاڑی میں سامان لوڈ کرانے میں مدد کرے ؛ میں اٹھا، چہرہ پہ پانی چھڑکا، جلدی سے ناشتہ کیا اور ان کے پاس گیا۔
(اک تو گھروں میں اتنا فضول سامان پڑا ہوتا ہے جو برسوں استعمال نہیں ہوتا مگر لوگ صندوقوں اور الماریوں میں گھسا گھسا کے رکھتے ہیں )
خالہ کے دو بھتیجے ہیں، ایک عمر میں مجھ سے بڑا ہے لیکن قد باڈی کمزور اور چھوٹی ہے۔ وہ تھیلیسیمیا کا مریض ہے۔ تھیلیسیمیا کے پیشنٹس کو باقاعدگی سے خون لگتا ہے، ان مریضوں کو مہینے میں ایک، دو یا تین بار خون لگتا ہے۔ یہ خون کسی دوست یا رشتہ دار وغیرہ سے لینا پڑتا ہے۔ ایک خون کی بوتل کسی سے لینے اور پھر پیشنٹ کو لگانے میں تقریباً پورا دن لگ جاتا ہے۔ جن لوگوں کو مستقلاً خون کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لئے خون ارینج کرنا بھی اک چیلنج ہوتا ہے۔
(میں کالج دور میں بلڈ ڈونر تھا، کافی لوگوں کو خون دیا اور دوستوں سے ارینج کر کے مریض تک پہنچاتا۔ جن مریضوں کو وقت پہ خون نہ ملتا وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں ہوتے )
تھیلسمیا کے پیشنٹ دبلے پتلے اور کمزور ہوتے ہیں۔ ان کی عمریں بھی کم ہوتی ہیں، سننے میں ہے کہ یہ مریض عموماً جوانی سے پہلے رب کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ کوئی شاد و نادر ہی تیس سال تک پہنچتا ہے۔
جب ہم گھر کا سامان گاڑی میں رکھ رہے تھے، ( آپ نے اکثر بڑوں کو کام کرتے وقت چھوٹوں سے کہتے سنا ہو گا، او یار جوان لڑکے ہو، اتنے جلدی تھک گئے، تمہاری عمر میں ہم یہ کرتے تھے وہ کرتے تھے وغیرہ)
آج بھی اک قریباً چالیس سالہ شخص نے تھیلسمیا پیشنٹ لڑکے سے کہا، ”یار یہ صوفہ نہیں اٹھا سکتے، ہماری عمر کو پہنچ کر تمہارا کیا حال ہو گا“ ؟
یہ جملہ سننا تھا کہ اس لڑکے کے آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس کے گال اکڑ سے گئے، وہ چہرہ چھپاتے ہوئے سائیڈ پہ ہوا اور چلتے چلتے الگ ہو گیا۔
میں اس کا درد سمجھ گیا، شاید وہ یہی سوچ رہا تھا کہ انکل جی، آپ کی عمر تک مجھے پہنچنا ہی نہیں، میں تو جلد ہی خون نہ ملنے یا بیماری زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ !
جب اس نے خود سے سوال کیا ہو گا کہ ”کیا میں جی پاؤں گا“ اس کا جواب نفی میں آیا ہو گا تو کیا بیتی ہوگی اس کے دل پہ؟
معاشرہ میں عجیب بے حسی ہے، جو بذات خود پورا ہے وہ بیمار، غریب، کم علم، یا دوسرے کمزور لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ بلکہ انہیں باتیں سنا سنا کے ذہنی مریض اور احساس کمتری کا شکار بنا دیتے ہیں ؛ کچھ لوگ دانستہ اور کچھ غیر دانستہ۔
مولانا رومی کا قول سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی نے مولانا رومی سے پوچھا کہ کون سی موسیقی حرام ہے؟
آپ نے کہا ”امیروں کے برتنوں میں بجتے ہوئے چمچوں کی موسیقی کی آواز جو کسی بھوکے مسکین کے کانوں تک پہنچے“ ۔
فتویٰ کیا ہے، حرام حلال کیا ہے، جائز ناجائز کیا ہے میں نہیں جانتا۔ میں بس یہی جانتا ہوں کہ میرا لباس دیکھ کر کسی کا دل للچائے، میرا گھر دیکھ کر کوئی حیران ہو جائے، میری گاڑی دیکھ کر کوئی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے، میری روزمرہ کے ٹشن کسی کو بڑی عیاشی نظر آئے، تو میں ان سب کو اپنے لئے ناجائز سمجھتا ہوں میرے کسی عمل یا انداز سے کوئی شخص احساس کمتری کا شکار ہو میں اس عمل اور اس انداز کو اپنے لئے حرام سمجھتا ہوں۔
کچھ سوالات، کچھ مبالغہ آرائی اور کچھ تجاویز ہیں مگر رہنے دیں، شاید اس سے تحریر سینسیٹو بن جائے، المختصر یہ کہ اپنے جملوں پہ غور کریں، الفاظ دل جیتے ہیں اور سینے چیرتے بھی ہیں۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا، صحت دی، سیرت و صورت دی، علم و ہنر دیا تو رب کا شکر ادا کریں۔ نہ کہ اس سے مخلوق کو ذہنی بیمار بنائے یا کسی کو نیچا دکھائیں۔ اور انہی نعمتوں کا شکر ادا کریں، شکر یہی ہے کہ آپ مخلوق کے لئے فائدہ مند بنیں۔
ہم اداکار، سیاہ کار اور گناہ گار ہیں، مولا ہمیں اپنے مخلوق کے لئے باعث رحمت بنائے اور صدق دل سے ہمیں عاجزی و انکساری والا بنائے۔


