مڈل ایسٹ کا مستقبل کیا ہو گا؟

حماس کی طرف سے جنوبی اسرائیل کے متنازعہ ایریا میں حملہ کے بعد مڈل ایسٹ پہ طویل جنگ کے سائے لہرانے لگے۔ تادم تحریر 2000 اسرائیلیوں کی ہلاک اور 150 کے قریب یرغمالوں کے علاوہ امریکہ کے 27 شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں سمیت شہری آبادیوں پہ فاسفورس بم گرا کے 3500 سے زیادہ فلسطینی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس میں 600 سے زیادہ بچے شامل ہیں، بمباری سے درجنوں عمارتیں منہدم اور ہزاروں شہری زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی طرف سے 360,000 ریزرو فوجیوں کو بلانے کے بعد جنگ کا خاتمہ بعید نظر آتا ہے، سب سے اہم یہ ہے کہ بشمول گولہ بارود، انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی امریکہ اسرائیل کو 6 بلین ڈالر کی فوجی امداد بھیج رہا ہے، امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے قریبی اتحادی کی مدد کے لیے دو طیارہ بردار بحری بیڑے بھی بحیرہ روم میں پہنچا دیے۔ جس کے بعد مشرق وسطی کے ماہرین ایسے بڑے علاقائی تصادم کو دیکھتے ہیں جو طویل جنگ کا محرک بننے کے علاوہ ریاستی سطح پر موجودہ تعلقات خراب اور وسیع تر عرب، اسرائیل مفاہمت کی پیش رفت روک دے گا، اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تنازعہ مڈل ایسٹ سے آگے بھی بڑھ کر عالمی جنگ میں بدل جائے۔
فی الوقت اسرائیلی حکومت ماضی کی طرح حماس سے انتقام کو جواز بنا کر غزہ کی فلسطینی آبادی کو ہمیشہ کے لئے مصر کی طرف دھکیلنا چاہتی تھی تاہم نیتن یاہو کے ”طاقتور انتقام“ کا نعرہ غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے باعث پسپا ہو گیا بلکہ غزہ میں شہریوں کے بے پناہ نقصان کے بعد تو حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کا امکان بالکل ختم ہو گیا۔ حماس شاید ایسی طویل جنگ لڑنا چاہتی ہے جو بالآخر اسرائیل سے یہودیوں کے انخلاء کا سبب بنے کیونکہ حالیہ حملوں کے بعد انہیں اسرائیل کی طرف سے ایسے ہی ردعمل کی توقع تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیلی ردعمل جھیلنے کے لیے تیار تھے بلکہ ان کے پاس طویل مزاحمتی جنگ کی منصوبہ بندی بھی موجود ہو گی۔
اقوام عالم نے اس جنگ میں عام فلسطینی شہریوں کی جانوں کے پہنچنے والے ہولناک نقصان پہ غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے، امریکہ کو ایک قدم پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیا، ماہرین کہہ رہے ہیں کہ عالمی طاقتیں تنازعہ کو ابلنے اور جدید تاریخ کے طویل ترین قبضے کو قبول کرنے کی ذمہ داری لیں، 2014 سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے سیاسی عمل شروع کرنے کی کوشش ترک کرنے کے بعد سے کوئی امن اقدام دکھائی نہیں دیتا اور اب ان حالات میں واشنگٹن کے لئے امن عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اپنے وجود کی اخلاقی بنیادیں کھو بیٹھا کیونکہ دنیا اس حقیقت کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی کہ جب تک اسرائیل کا قبضہ جاری رہے گا، دونوں طرف سے خون بہتا رہے گا۔ غزہ کے فلسطینی کم و بیش بیس سالوں سے اسرائیلی محاصرے میں بغیر کسی سیاسی لائف لائن کے ایک قسم کی جیل میں قید ہیں، موجودہ خوفناک تصادم بھی سیاسی افق کی کمی کا براہ راست نتیجہ ہے جو اس غلط تاثر پر قائم تھا کہ مقبوضہ فلسطینیوں سے معاہدہ کیے بغیر خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے، چنانچہ سب نے ابراہیمی معاہدے پر توجہ مرکوز رکھی مگر یہ رومانس اب ٹوٹ گیا۔
بلاشبہ اکتوبر 1973 کی جنگ، مصر اور اسرائیل کے مابین صلح کا باعث بنی، انتفادہ کے بعد پہلی خلیجی جنگ، میڈرڈ امن کانفرنس کا جواز تھی لیکن اس بار صورتحال کافی مختلف ہے، بین الاقوامی برادری کو ایک بنیاد پرست اسرائیلی حکومت کا سامنا ہے جو کسی سمجھوتے میں دلچسپی نہیں رکھتی، غیر موثر فلسطینی قیادت جسے موجودہ واقعات نے مزید کمزور کر دیا اور متنازعہ امریکی انتظامیہ جسے اگلے سال صدارتی انتخابات کا سامنا ہے، یعنی جو بائیڈن کی قسمت کے ستارے سیاسی پہل کاری سے موافقت نہیں رکھتے، امن عمل کے لئے فریقین کی رضامندی کے علاوہ امریکی انتظامیہ کی سرپرستی بھی درکار تھی جو ایک قسم کی عدم دلچسپی کا شکار ہے۔
پھر بھی دنیا جتنی دیر تک اس سے لاتعلق رہے گی، اتنا ہی دونوں طرف سے جانی نقصان بڑھتا جائے گا۔ اگرچہ سب جانتے ہیں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن سب کا مسئلہ کی جڑ کو نظر انداز کرنے پر اصرار تباہی کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل اور اس کے شہریوں پر مزید حملوں کے لئے حماس کی حکمت عملی بارے تخمینے لگانا قبل از وقت ہو گا لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کی ٹوٹی ہوئی دیواروں اور بجلی سے لگی باڑ کے اندر رہنے والے 22 لاکھ فلسطینیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟
غزہ میں فلسطینیوں کو جبری نقل مکانی اور 2007 سے، پٹی پر حماس کی حکمرانی کے بعد سے غیر ملکی، قابض فوج کی طرف سے، ان کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو سے، کینسر کے علاج سے لے کر بیرون ملک تعلیم سے روکنے تک، انہیں بیرونی دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ یورپی ممالک نے غزہ کے عوام کو مصر کی طرف نکالنے کی تجویز دی تاکہ اسرائیل حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن اسی نوع کی فریب آمیز ہمدردی پہلے بھی فلسطینیوں کے لئے اپنی سرزمین سے مستقل محرومی کا سبب بنی، مصر کبھی بھی اس طرح کا سمجھوتہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گا، تو کیا اسرائیل اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لے گا، یا وہ خود کو حماس کو ختم کرنے تک محدود رکھے گا تاکہ فلسطینی اتھارٹی یا کسی اور نئی قیادت کی غزہ کے فلسطینیوں پہ تصرف کا موقعہ مل سکے؟
پہلے سے ہی انتہائی غیر مقبول فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی سرکشی، مالیاتی دیوالیہ پن اور حماس جیسے مسلح ملیشیا گروپوں کی مزاحمت کا سامنا ہے جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کھڑے ہیں۔ حماس سمجھتی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کوئی مزاحمتی تحریک نہیں بلکہ غیر ملکی قبضہ گیروں کو سہولت دینے والی گورننگ باڈی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجہ میں غزہ کی پٹی سے لوگوں کو مصر میں دھکیلنے کے خدشہ کے پیش نظر قاہرہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ رہا ہے، صدر عبدالفتاح السیسی سمیت اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے واضح کیا کہ مصر غزہ سے ملحقہ سرحدوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لئے ضرورت مندوں کو سینائی اسپتالوں تک رسائی دینے کو تیار ہے لیکن وہ اپنی سرزمین میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر آمد کو قبول نہیں کرے گا۔
اسرائیلی فوج کے متوقع زمینی آپریشن سے پہلے غزہ کے باشندوں کے لیے محفوظ راہداری بنانے کے لیے امریکی اور یورپی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے، مصری حکومت نے تین سیاسی بیانیے گردش میں لائے جو عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں، پہلا، مصر کی سرحدات صرف قومی خودمختاری کے تابع ہیں، کوئی مصر پر مرضی مسلط نہیں کر سکتا کہ وہ سینائی یا کسی اور جگہ پر فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرے۔ دوسرا، سینائی مصری سرزمین کا اٹوٹ انگ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد کئی سالوں تک قبضہ رکھا، اس کا موجودہ استحکام، جو مصری خون کی قیمت پر آیا، کسی بھی بیرونی مداخلت سے خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔
تیسرا، غزہ کے باشندوں کو اپنے وطن کو اتنا نہیں چھوڑنا چاہیے جیسے مغربی کنارے کے باشندوں اور یروشلم والے اپنی سرزمین نہیں چھوڑتے کیونکہ اس طرح کی نقل مکانی فلسطینیوں کی خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست کی جدوجہد کو مکمل طور پر تحلیل کرنے کا باعث بنے گی، اس موقف کا مصری سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں نے یکساں خیر مقدم کیا چنانچہ امریکہ اور یورپی حکومتوں سے کہا گیا کہ وہ مصر پر ایسی پالیسیوں کو قبول کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں جو اس کی قومی خودمختاری، سلامتی اور سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مصر کی وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس سروسز دونوں، جن کے فلسطینی اور اسرائیلی فریقوں کے ساتھ اچھے روابط ہیں، نے اسرائیلی فوج کی متوقع زمینی کارروائی کو روکنے، یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کو رہا کرانے کے لیے جنگ بندی پر بات چیت میں سہولت کاری کی پیشکش کر رکھی ہے۔

