میرے ابا – دو یادیں


میرے ابا کی مسکراہٹ بڑی دلکش تھی۔ وہ مسکراتے تو کلیوں میں جان سی پڑ جاتی تھی۔ لب کشا ہوتے تو گلستاں بنا دیتے۔ وہ ایک معلم تھے اور اپنے علم، دلچسپ اندازِ گفتگو، خوبصورت تقریر، شعری ذوق، مزاحیہ گفتگو اور حاضر جوابی کے لیے علاقے میں مشہور تھے۔ ان کی علمیت اور دانشمندی کی دھاک مجھ پر بچپن سے بیٹھی تھی۔ میں ان سے ایسا مرعوب تھا کہ اُن کی عالمانہ موجودگی میں میرے حواس باختہ رہتے۔ ان کے سامنے بولتے وقت میری زبان پر تالے لگ جاتے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے نادان و ناسمجھ سمجھتے ہیں۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتے بھی تو میں سکڑ سا جاتا۔ مجھے لگتا کہ میری کسی احمقانہ حرکت پر مسکرا رہے ہوں گے۔ اُن سے کبھی یہ بھی نہ کہہ سکا کہ آپ کی مسکان کتنی دلکش ہے۔ کیوں کہ وہ میرے اِس بیان پربھی مسکرا دیتے اور مجھے لگتا کہ یہ بیان بھی ایک احمقانہ بات تھی۔ حالانکہ اپنے بارے میں میرا خیال تھا کہ میں کافی معقول اور سمجھدار انسان ہوں۔ کاش ابا کو یہ بات معلوم ہو جائے۔ میں نے اپنی گفتگو سے دو تین بار ان پر یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن نتیجہ بالکل اُلٹا نکلا۔ انھیں متاثر کرنے کی خواہش میرے اندر روز بہ روز شدید ہوتی جا رہی تھی۔

جب میں علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھنے لگا تو کچھ ہی دنوں میں مجھے یہ زُعم ہو گیا کہ میرے خیالات مزید بلند، گہرے اور فلسفیانہ ہو گئے ہیں۔ کاش ایک بار ابا کے سامنے اپنے اندر موجزن اِن عظیم خیالات کو زبان دے پاؤں۔ اس خیال کو عملی جامہ کیسے پہناؤں، یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ چھٹیوں میں گھر جاتا، تو سوچتا اس بار کچھ نہ کچھ ایسا کروں گا کہ وہ میری علمیت اور دانشمندی کے قائل ہوجائیں گے۔ لیکن چھٹیاں ختم ہو جاتیں اور میں ان کو متاثر کیے بغیر ہی واپس علی گڑھ چلا جاتا۔ ایک بار گھر گیا تو باتوں باتوں میں ایک ذاتِ شریف نے فرمایا کہ گانجا پینے سے آدمی کے اندر بڑی خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ ساری گھبراہٹ مٹ جاتی ہے۔ گانجا انسان کو علوئے فکر عطا کرتا ہے۔ یہ بھولے ناتھ (شیو جی) کا پرساد ہے۔ گانجا پینا سنتِ حضرتِ موسیٰ ہے، کیونکہ اسے پی کر وہ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے تھے۔ مجھے لگا کہ گانجا ہی ابا کے سامنے مجھے سرخ رو کر سکتا ہے اور ان کے رُعب سے نجات دلا سکتا ہے۔ تو میں نے ایک شام کو ایک کسان سے گانجا خریدا اور اسی سے چلم تیار کروا کی خوب جم کر پیا۔ پھر گھر کی طرف چل پڑا کہ آج ابا کو دکھا دوں گا کہ میں کیا چیز ہوں۔ امید تھی کہ گھر تک پہنچتے پہنچتے نشہ اپنے شباب پر ہو گا اور میں ابا کو اپنی دانشورانہ گفتگو کے سیلاب میں بہا لے جاؤں گا۔ لیکن افسوس ابا کو متاثر کرنے کی میری تمنا ادھوری رہ گئی۔ گانجا نقلی نکلا۔

میں بہت بھلکڑ آدمی ہوں۔ اس لیے جب کوئی نیا پروجیکٹ شروع کرتا ہوں تو بہت نروس رہتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ بھول جاؤں گا۔ خاص طور پر ہندوستان جانا ہوتا ہے تو بہت زیادہ گھبرایا رہتا ہوں۔ مہینوں پہلے تیاری میں لگ جاتا ہوں۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد جانے کی تاریخ، وقت اور ائر پورٹ کا نام ایک دفتی پر لکھ کر دیوار پر لٹکا لیتا ہوں۔ ساری ضروری باتوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیتا ہوں : ٹکٹ پرنٹ کرنا ہے، ائر پورٹ کے لیے ٹیکسی بک کرانا ہے۔ سب کے نئے پاس پورٹ اور ویزا وغیرہ بیگ میں رکھنا ہے۔ سر درد کی دوا لینی ہے۔ وغیرہ۔ پھر جب سفر کرنے میں ایک مہینہ باقی رہ جاتا ہے تو یہ ساری چیزیں ایک الگ بیگ میں رکھتا ہوں اور انھیں جانے کے دن تک ہر روز چیک کرتا ہوں۔ روزانہ خود کو یاد دلاتا ہوں کہ سفر کے ایک دن پہلے ٹیکسی بک کرانی ہے۔ سفر کے دن سارے دستاویز کو کم سے کم پانچ بار چیک کرتا ہوں۔ آخرکار جب تک ائرپورٹ پر سیکیورٹی چیک نہیں ہوجاتی تب تک ہنسنا مسکرانا تک ملتوی کر دیتا ہوں۔

ان باتوں کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ مجھے آپ کو اپنے بھلکڑ پن کا ایک واقعہ سنانا ہے۔ اُس زمانے میں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ چھٹّیوں میں گھر جایا کرتا تھا۔ ابا کو کسی رشتے دار یا دوست سے ملنے جانا ہوتا تو مجھ سے ایک دن پہلے کہہ دیتے کہ کل فلاں کے یہاں چلنا ہے کہیں اور مت جانا۔ اگلے دن میں ان کو موٹر سائکل پر بٹھا کر لے جاتا۔

ہمارے سفر کا آغاز کچھ اِس طرح ہوتا: میں گھر کے اندر سے موٹر سائکل نکالتا، سیٹ صاف کرتا، اور موٹر سائکل پر بیٹھ کر ابا کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتا۔ جیسے ہی وہ دروازے پر نمودار ہوتے موٹر سائکل اسٹارٹ کر دیتا اور اُن کے بیٹھنے کا انتظار کرتا۔ ابا اطمینان سے چلتے ہوئے موٹر سائکل کے پاس پہنچتے۔ موٹر سائکل پر بیٹھنے کی ان کی ایک باقاعدہ تقریب تھی۔ سب سے پہلے وہ اپنا بابا آدم کے زمانے کا پرس، جو ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتا تھا، کھولتے، اندر جھانکتے اور اس میں ہاتھ ڈال کر کچھ ٹٹولتے۔ اس عمل کے بعد جیب سے رومال نکالتے اور سیٹ صاف کرتے، جسے میں پہلے ہی صاف کرچکا ہوتا تھا۔ پھر تھوڑی دیر کے لئے کسی خیال میں ڈوب جاتے۔ اس سے اُبھرتے تو گمبھیر انداز میں گلا صاف کرتے جیسے غالبؔ کا کوئی مشکل والا شعر سنانے جا رہے ہوں۔ پھر اپنا بایاں ہاتھ میرے بائیں کندھے پر رکھتے اور اُچھل کر سیٹ پر بیٹھ جاتے۔ بیٹھنے کے بعد تھوڑی دیر سیٹ پر خود کو آرام دہ پوزیشن میں ایڈجسٹ کرنے کے لئے دائیں بائیں ہلتے ڈُلتے، پھر اپنے لاڈلے پرس کو اپنی بائیں بغل میں دباتے۔ آخر کار ایک لمبی سی ”ہوں“ گونجتی، جس کے انتظار میں میں ہمہ تن گوش رہتا۔ اِس کا مطلب تھا کہ اب چلو۔ موٹر سائکل تو اسٹارٹ ہی رہتی تھی۔ اس ’ہوں‘ کے گوش گزار ہوتے ہی میں گیئر لگاتا اور ہم اپنے سفر پر روانہ ہو جاتے۔ راستے میں ابا ہی بولتے۔ میری گفتگو زیادہ تر ’ہوں‘ یا ’ہاں‘ تک ہی محدود رہتی۔

ایک دن معمول کے مطابق میں موٹر سائکل اسٹارٹ کر کے ابا کے بیٹھنے کی تقریب پوری ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ ابھی شاید وہ پرس ٹٹول رہے تھے یا سیٹ صاف کر کے خیالوں میں غرق تھے کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے موٹر سائکل کیوں اسٹارٹ کی تھی۔ بس میں نے گیئر لگایا اور گاؤں کی پر پیچ گلیوں سے موٹر سائکل چلانے کی مہارت کا مظاہرہ کرتا زناٹے سے باہر نکل گیا۔ ایک موڑ پر اچانک لگا کہ موٹر سائکل کچھ ہلکی ہے۔ گردن کو ذرا سا داہنی طرف موڑ کر کنکھیوں سے پیچھے دیکھا تو سیٹ خالی تھی۔ اب احساس ہوا کہ ”رُکو، ارے رُکو، میں ابھی بیٹھا نہیں ہوں“ کی جو آواز میرے کانوں میں پڑی تھی وہ دراصل ابا کی پُکار تھی۔ میرے کان نہیں بجے تھے۔ تیزی سے موٹر سائکل گھمائی۔ گاؤں میں داخل ہوا تو دیکھا ابا لمبے لمبے ڈگ ڈگ بھرتے چلے آرہے ہیں۔ جی چاہتا تھا ان تک پہنچنے سے پہلے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ خیر میں نے اُن کے پاس پہنچ کر موٹر سائکل روکی۔ جھنجھلائے لہجے میں بولے، ”اُفوہ! تمھارا دماغ کہاں رہتا ہے! ؟“ میں نے اپنی صفائی میں کچھ کہا۔ ابا نے تشویش ناک نظروں سے مجھے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ’کیا بکواس کر رہے ہو، ہوش میں ہو؟ میں نے خاموش ہوجانا ہی بہتر سمجھا۔ باقی سفر خاموشی اور سکون سے گزرا۔

آفتاب احمد، سینئر لکچرر، ہندی اردو، کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک

Facebook Comments HS