یہ داغ داغ اجالا


دنیا اس وقت بہت مشکل دنوں سے گزر رہی ہے۔ دل تو چاہتا تھا کہ غزہ اور اس پر گزرنے والی قیامت کے پس منظر کے بارے کچھ لکھوں لیکن وطن عزیز سے ایک خبر نظر سے گزری تو کچھ اور لکھنے کا چارہ نہیں رہا۔ آج آپ کو سولہویں صدی عیسوی کے اٹلی میں ایک شخص کی کہانی سناتے ہیں۔ یہ کہانی اگر چہ آپ نے شاید پہلے سے سن رکھی ہو لیکن ایک بار پھر سن لینے میں کوئی ہرج نہیں۔ اس تحریر کے آخری حصے میں آپ کو اس کہانی کے سنانے کی وجہ سمجھ آ جائے گی بس درخواست ہے تھوڑی دیر میرے ساتھ رہیں۔

سولہویں صدی کے اواخر میں یورپ میں روشن خیالی کی صبح نو طلوع ہو رہی تھی، مسلم سپین کی روایت باقی یورپ میں سوچ کو بیدار کرنے کے بعد بجھ چکی تھی۔ اٹلی میں مذہب کے کیتھولک پاسبانوں اور علم کے متوالوں میں کشمکش زوروں پہ تھی۔ پیسا اٹلی میں پیدا ہونے والا گیلیلیو سترویں صدی کے شروع میں کچھ عرصہ پہلے ایجاد ہونے والے آلے دوربین کو بہتر بنا کر اجسام فلکی کے مطالعے میں مصروف تھا اور اس دوران اس نے اپنے پیش رو عالم پولینڈ کے کوپرنیکس کی اجسام فلکی کی حرکات اور باہمی تعلق کو اپنے مشاہدات سے ثابت کر دیا کہ زمین مرکز کائنات نہیں بلکہ نظام شمسی میں یہ حیثیت سورج کو حاصل ہے اور زمین تو ایک سیارہ ہے جو اس کے گردہ گرد گھومتا ہے۔

شاید آج یہ بات آپ کو معمولی لگے لیکن ان دنوں میں یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ عیسائیت کے مذہبی عقائد کے خلاف تھی جس میں زمین کو مرکزیت حاصل تھی۔ اس کی شکایت روم میں قائم تفتیشی مرکز ( inquisition) بھیج دی گئی۔ صدیوں پہلے قائم کردہ اس ادارے کا مقصد کسی بھی بدعت کی نشاندہی اور اس کی روک تھام تھا۔ کوپرنیکس کے اجسام فلکی بارے خیالات کو پہلے ہی بدعت قرار دے کر اس بارے میں کتب پر پابندی لگائی جا چکی تھی۔ 1623 میں چھپنے والی کتاب میں گلیلیو نے کوپرنیکس نظریے کو مفروضے کے طور پر بات چیت کے انداز میں پیش کیا لیکن چرچ کے پاسبان اور تفتیش کار اتنے بھولے بھی نہیں تھے اور پوپ کے حکم پر گلیلیو پر مقدمہ چلایا گیا جس میں گلیلیو نے مجبور ہو کر اپنے ”بدعتی“ خیالات سے توبہ تائب ہونے کا اعلان کیا اور عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی، جہاں اس نے اپنی بقیہ عمر گزار دی۔

مشہور ہے کہ مقدمے میں معافی مانگنے کے بعد جب وہ عدالت سے باہر جا رہا تھا تو زیر لب اس نے کہا، ”لیکن زمین تو اب بھی حرکت میں ہے“ ۔ آج اس واقعے کو پانچ سو سال گزر چکے ہیں، یورپی تہذیب میں مذہب کو ایک ذاتی معاملہ قرار دیا جا چکا ہے، لوگوں کو آزادی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور نئے علوم کی پہچان اور ترقی میں بے خوف و خطر حصہ لے سکتے ہیں۔ میں آپ کے صبر سے یہ الفاظ پڑھنے پر شکر گزار ہوں اور اب آتے ہیں اس وجہ کی کہ یہ پیش لفظ لکھنا پڑھا۔

”آج نیوز“ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق بنوں کے پوسٹ گریجوئیٹ کالج کے بیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر شیر علی کی طرف سے اشٹام پیپر پر ایک معافی نامہ کے ذریعے معافی مانگی گئی۔ تصویر میں شیر علی کچھ ظاہرا علماء کے ساتھ کچھ کاغذات سے پڑھتے نظر آرہے ہیں۔ اخباری خبر کے مطابق کچھ عرصہ پہلے بنوں کے علاقے ڈومیل میں مقامی علماء نے خواتین پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مقامی دفتر میں جا کر امداد حاصل کر سکیں کیونکہ ان علماء کے خیال میں یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔ پروفیسر شیر علی نے کچھ ہم خیال لوگوں کو ملا کر ایک سیمینار کیا تاکہ لوگوں کو اس نا انصافی کے بارے میں آگاہی دی جائے جو روایت اور مذہب کے نام پر لوگوں پر ٹھونسی جا رہی تھی۔ ان روایات میں عورتوں کا کم عقل ہونا، ان کی تعلیم سے دوری اور عزت کے نام پر گھروں میں رہنا، سائنسی علوم میں ثابت شدہ حقائق کو قرآن کے خلاف قرار دینا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اخباری اطلاع کے مطابق پروفیسر صاحب اپنے کالج اور سماجی زندگی میں سائنسی نقطہ نظر سے طلبا اور لوگوں میں شعوری بلندی کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ لگتا ہے اگرچہ وہ یہ کام کافی عرصے سے کر رہے تھے لیکن خواتین کے حقوق بارے سیمینار سے معاشرے میں اخلاق اور مذہب کے محافظین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پروفیسر شیر علی اور ان کے خاندان کی زندگی مشکلات (سماجی بائیکاٹ) کا شکار ہو گئی جہاں تک کہ انہیں مقامی علماء، عمائد ین اور ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں ایک بیان حلفی پر دستخط کر کے اپنے خیالات سے تائب ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔

بیان حلفی کے مطابق، پروفیسر شیر علی نے تسلیم کیا کہ شریعت الٰہی کی رو سے صنف عورت کی عقل صنف مرد کی نسبت کم ہے، لہٰذا اسی کو حق اور حرف آخر سمجھتا ہوں۔ زنا بالجبر اور زنا بالرضا کو شرعا حرام سمجھتا ہوں۔ اجنبی عورتوں کا مردوں سے اختلاط ضرورت ( کاش اس کی وضاحت بھی کر دیتے ) کے بغیر جائز نہیں۔ شریعت الٰہیہ کے خلاف جتنی بھی سائنسی و عقلی افکار و نظریات ہیں اور ان تمام کو باطل سمجھتا ہوں مثلاً ڈاؤن کا نظریہ ارتقاء۔ اب تک کی مذکورہ بالا کے خلاف میں نے جتنی باتیں کی ہیں یعنی ڈومیل سیمینار، لیکچروں، سوشل میڈیا پر پوسٹوں و کمنٹس اور دیگر مجالس میں، ان تمام سے برات کا اعلان اور توبہ کرتا ہوں۔ آئندہ ان احکامات کی خلاف ورزی کی تو قانوناً مجرم ثابت ہوں گا۔

آپ ایک بات پھر مندرجہ بالا جملے پڑھیں اور سوچیے کہ اس تمام واقع میں ضلعی احکام شامل تھے۔ جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے ہر سرکاری ملازم آئین پاکستان پر عمل کرنے کا پابند ہے لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے پاکستان میں انسانی ترقی کے اشاریوں پر بات ہو جائے کیونکہ اس طرح بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2021۔ 2022 میں پاکستان انسانی ترقی کے اشاریوں کے رینکنگ میں سات درجے نیچے چلا گیا اس سے پہلے 2020 میں وہ دو درجے نیچے ہوا تھا۔ آج 192 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 161 ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت 131، بنگلہ دیش 129 اور سری لنکا 73 نمبر پر ہم سے کہیں آگے ہے۔ اپنے خطے میں، افغانستان سے ہٹ کر، پاکستانی بچوں میں شرح اموات سب سے زیادہ ہے، پاکستانیوں کی اوسط عمر سب سے کم ہے اور صحت کی سہولتوں کی بات کیا کریں تو ہر دس ہزار پاکستانیوں کے لیے صرف چھ ہسپتال کے بیڈ موجود ہیں۔ تعلیمی شرح کوئی حوصلہ افزاء نہیں ہے اور معیار تعلیم بالخصوص پرائمری اور سیکنڈری سطح پر کچھ نہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے۔ بنوں ضلع کی آبادی تقریباً ساڑھے تیرہ لاکھ ہے جہاں شرح تعلیم 32.11 % ہے اس میں مردوں میں شرح تعلیم 50.79 فیصد جبکہ عورتوں شرح تعلیم 12.18 فیصد ہے۔

اب آئے سائنسی حقائق کی طرف، اس اشٹام میں کہا گیا کہ عورتیں عقل میں مردوں سے کم ہیں۔ آج سنہ 2023 میں علم کے مطابق خواتین اپنی صلاحیتوں بالخصوص دماغی صلاحیتوں کے، کسی طور پر بھی کسی سی کم نہیں ہیں۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھ لیجیے ہماری یونیورسٹیز اور اور اعلی تعلیمی اداروں میں ہماری بیٹیوں کی تعداد مردوں سے بڑھ چکی ہے لیکن ہماری مردانہ بالا دستی کی روایات کے امین اور محافظ نہ صرف اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں بلکہ اس پر مذہب کی قلعی چڑھا کر اپنے آپ کو معتبر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اب آئیے ان سائنسی حقائق پر مختصراً بات ہو جائے جن میں سے ایک نظریہ ارتقاء ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معزز علماء جنہوں نے اپنے آپ کو جدید علوم سے تو دور رکھا ہی ہوا ہے انہوں نے اپنی ہی تاریخ کا مطالعہ بھی نہیں کیا۔ یہ مضمون تفصیل کا متحمل تو نہیں لیکن مختصراً چند نام آپ کے سامنے رکھتا ہوں، الجاحظ ( 781۔ 869 ) نے اپنی کتاب الحیوان میں ان عوامل کا تفصیل سے ذکر کیا جو کسی ذی روح میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے اہم ہیں۔ البیرونی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا جس کے مطابق انسان اپنی تکمیل میں جمادات، نباتات اور حیوانات کی حالتوں میں سے اس طرح گزرا ہے کہ اس میں ان سب کی خصوصیات موجود ہیں۔ چودھویں صدی کے ابن خلدون نے، جو اپنے ”مقدمہ“ کی بنا پر مشہور عالم ہیں، بھی ارتقاء پر تفصیلی بات کی اور افریقی جلد کی سیاہ رنگت کو ”گناہوں کا نتیجہ“ قرار دینے کی بجائے ”جنوبی موسم اور جلد میں موجود کیمیائی عوامل“ کا نتیجہ قرار دیا اور آج سائنس اس بات سے متفق ہو چکی ہے۔ دسویں صدی کے ایرانی مسلم عالم ابن مسکاویہ نے ارتقاء کے نظریے پر کا فی کام کیا۔

یہ تمام لوگ قرآن کے اس پیغام پر عمل کر رہے تھے جس میں انسان کو چیلنج کیا گیا ہے کہ وہ تفکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟ جب ہم نے تفکر چھوڑ دیا تو ہم آج اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سوچنے والوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اشٹام پیپرز پر انسان کے لیے خدا کے سب سے بڑے تحفے یعنی سوچنے سے برات کا اعلان کریں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments