فائر الارم، محکمۂ سراغ رسانی اور کلچر شاک
کون جانے کہ جب آتی ہے ہنسی ہونٹوں پر درد کم ہوتا ہے یا درد سوا ہوتا ہے مجھے ہندوستان سے امریکہ آئے چند مہینے ہوئے تھے۔ ہر چیز حسین نظر آتی تھی: سڑکیں، گلیاں اور بازار کشادہ اور صاف۔ بسیں اور ٹرینیں بھیڑ بھاڑ شور شرابے سے پاک۔ دکانیں لبھاونی و من بھاونی۔ آسمان نیلا شفاف۔ سورج روشن چمکدار۔ دھوپ دھلی نہائی خوشگوار۔ راتیں خاموش، پرسکون و پر اسرار۔ پیڑ ہرے من بھرے راجا جی کے باغ میں دو
Read more
