اقوام متحدہ کا قیام، مقصد اور کردار


دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر مزید انسانی جانوں کے ضیاع کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس سے قبل بھی ایک تنظیم لیگ آف نیشنز کے نام سے کام کر چکی تھی، مگر وہ اس طرح ناکام ہوئی کہ اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکی۔ ان تمام صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے 1945 ء میں 25 اپریل سے 26 جون تک سان فرانسسکو میں پچاس ممالک پر مشتمل ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ساتھ اس کے منشور پر غور و فکر کیا گیا۔ تاکہ دنیا کو دوبارہ کسی بھی ایسے انسانی المیے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ طویل مشاورت اور غور و فکر کے بعد 24 اکتوبر 1945 ء کو پچاس ممالک نے مشترکہ طور پر اپنے دستخط کر کے اقوام متحدہ (united nations) کو اک مسیحا کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس کا نام امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے تجویز کیا تھا۔ آج ان ممبر ممالک کی تعداد 193 تک پہنچ چکی ہے۔

اسی مناسبت سے ہر سال 24 اکتوبر کو سالگرہ کے طور پر اس کی یاد تازہ کرنے کے لیے عالمی یوم اقوام متحدہ منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اجزائے ترکیبی چھ ہیں۔ پہلا اور بنیادی جزو جنرل اسمبلی ہے، جس کے تمام ممالک ممبر ہوتے ہیں، اس کا مقصد بین الاقوامی اصولوں پر غور کرنا اور اس ضمن میں سفارشات مرتب کرنا ہوتا ہے۔ جس کا اجلاس ہر سال ستمبر میں ہوتا ہے۔ تمام ممالک کے وزرائے اعظم اس میں شرکت کرتے ہیں۔ دوسرا جزو سلامتی کونسل ہے۔ جس کی ذمہ داری بین الاقوامی اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے پانچ مستقل رکن ہوتے ہیں جنہیں ویٹو پاور حاصل ہوتی ہے (جو ہر کوئی اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرتا ہے ) اور دس منتخب شدہ ممبر ہوتے ہیں جو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

تیسرا جزو اقتصادی اور سماجی کونسل ہے، جس کا مقصد مختلف ریاستوں میں اقتصادی اور معاشرتی معاملات میں تعاون فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کونسل کے 54 ممبر ہوتے ہیں۔ چوتھا جزو بین الاقوامی عدالت انصاف ہے، جس کا مقصد ریاستوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنا اور قانونی رائے پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ عدالت پندرہ جج صاحبان پر مشتمل ہوتی ہے۔ پانچواں جزو سیکریٹریٹ ہے، جس کا مقصد انتظامی حوالے تمام اداروں کو اپنا تعاون فراہم کرنا ہوتا ہے۔ چھٹا جزو سرپرستی یا ٹرسٹی شپ کونسل ہے جو فی الحال غیر فعال ہے، جس کا مقصد نو آباد کاری کے لئے انتظامات فراہم کرنا ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے قیام کے لیے کچھ چارٹر اور مقاصد طے کیے گئے تھے، جن کے اندر واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس کے قیام کا مقصد آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانا ہے۔ بین الاقوامی قیام امن کے ساتھ ساتھ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ انسانوں کے بنیادی حقوق، ان کی قدر منزلت اور وقار کو بحال کرنا تاکہ تمام انسانوں کو بلا کسی تفریق کے برابری کے حقوق میسر ہوں۔ آزادی کی فضا، اجتماعی ترقی اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے عالمی عہد ناموں کی پیروی کروائی جائے تاکہ دنیا کے امن کو برقرار رکھا جائے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق وہ اب تک 172 ایسے معاہدے طے کروا چکا ہے جن کے ذریعے کروڑوں مہاجرین کو پر امن آباد کاری میں مدد ملی۔ 80 ممالک کے کروڑوں لوگوں کو خوراک فراہم کی گئی۔ بچوں کو ویکسین فراہم کی گئی۔ کووڈ 19 جیسی مہلک بیماریوں کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی۔

اگرچہ اس وقت دنیا میں بہت سے منصوبے اقوام متحدہ کی وجہ سے ہو رہے ہیں مگر یہ اپنے قیام کے مقصد اصلی میں اب تک ناکام نظر آیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا مقصد قیام امن کی بجائے لیگ اف نیشنز کے کھنڈرات پر بیٹھ کر سامراجی طاقتوں کے مفاداتی منصوبوں پر کام کرنا تھا، یہ اختیارات کی بندر بانٹ تھی، جس کے ذریعے دنیا کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرنا تھا۔ پہلے ناجائز قبضوں کے لیے انسانی خون بہانا پڑتا تھا اور اب اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں اسے جائز شکل فراہم کی جاتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب (جو چھ سال باقاعدہ انتخاب جیت کر اقوام متحدہ کے ایگزیکیٹیو بورڈ کے ممبر رہے تھے ) اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ ”پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں امن و امان کو فروغ دینے کے لیے لیگ آف نیشنز وجود میں آئی تھی، لیکن یہ انجمن کفن چوروں کی جماعت ثابت ہوئی اور اقوام عالم کی بہت سی قبریں آپس میں تقسیم کرنے کے بعد اس نے آرام سے جنیوا میں دم توڑ دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کی تنظیم نو یو این او نے جنم لیا۔ اس ادارے کا رہنما اصول جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔ جب کوئی لاٹھی والا طاقتور ملک جارحیت سے کام لے کر کسی چھوٹے اور کمزور ملک کی بھینس زبردستی ہنکا کر لے جاتا ہے تو یو این او فوراً جنگ بندی کا اعلان کر کے فریقین کے درمیان سیز فائر لائن کھینچ دیتی ہے۔ جنگ بندی کے خط پر یو این او کی نامزد فوج اور مبصر متعین ہو جاتے ہیں۔ جو اس بات کی خاص نگہداشت رکھتے ہیں کہ مسروقہ بھینس دوبارہ اپنے ملک کے پاس واپس نہ پہنچنے پائے۔ اس کے بعد یہ سارا معاملہ جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں میں ڈھل ڈھل کر نہایت پابندی کے ساتھ یو این او کے سرد خانوں میں جمع ہوتا رہتا ہے۔“

اقوام متحدہ (جس کا مقصد ہی امن اور دوستی کا فروغ تھا) کے قیام کے بعد 285 مسلح تنازعات ہو چکے ہیں۔ جس میں کروڑوں انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جن میں مشہور ء 1950 میں کوریا کی جنگ، 1960 سے 70 ء کی دہائی میں ویت نام کی جنگ، ء 1980 میں ایران عراق کی جنگ اور اسی دور میں افغانستان کی جنگ مشہور ہیں۔ نوے کی دہائی میں صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوا، جو اب تک عدم استحکام کا شکار ہے۔ اکیسویں صدی کے شروع میں امریکہ کی طرف سے افغانستان، عراق اور شام پر مسلط کی گئی جنگیں لاکھوں انسانوں کی ہلاکتوں کا سبب بنیں۔

ان تنازعات میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین ایسے طویل مسئلے ہیں جن پر نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تک نہ جانے کتنا جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے مگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ مسئلہ کشمیر جو دو ریاستوں کا مسئلہ ہے، جسے 1948 ء میں پہلی دفعہ جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کے گئے تھے۔ آج اس مسئلہ کو پچھتر سال ہو گئے ہیں۔ مگر کوئی حل نہیں ہو سکا بلکہ اب تو چین بھی اس میں تیسرا فریق بن کر سامنے آ گیا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ جو خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، 1948 تک تمام بدمعاشیوں کے باوجود یہودی صرف چھ اعشاریہ پانچ فیصد پر قابض ہو سکے تھے مگر جب پہلی بار اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین زیر بحث آیا تو اس مسئلہ کے حل کے لیے تقسیم کا فارمولا پیش کیا گیا۔ جس کے تحت چھ فیصد پر ناجائز قابض کو فلسطین کا پچپن فیصد حصہ دے کر دوسری بار تاریخ کی سب سے بڑی انسانی حقوق کی پامالی کی گئی۔ کئی قرار دیں پیش کی گئیں مگر اس سب کے باوجود اب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور اب وہ ناجائز قابض پوری ریاست پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

اس کے علاوہ بوسنیا، عراق، شام اور برما وغیرہ کے تنازعات ہیں جو اب تک حل نہیں ہو سکے۔ بظاہر تو اقوام متحدہ کی وجہ سے تیسری جنگ عظیم نہیں ہو سکی مگر اب تک جتنا نقصان ہو چکا ہے وہ کسی بھی جنگ سے کم نہیں۔ ایسی صورت حال میں یہی لگتا کہ یہ قوموں کو متحد کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں لڑانے اور ان پر حکمرانی کرنے کے لیے بنی تھی۔

Facebook Comments HS