ناول ”دشت سوس“ اور حسین بن منصور حلاج ”
لاہور رائٹرز بک کلب سے 1983 ء میں اشاعت پذیر ہونے والا ناول، ”دشت سوس“ جمیلہ ہاشمی کے ان ناولوں میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے، اردو ناول نگاری کو موضوعاتی اور اسلوبی سطح پر خاص جہت عطا کی۔ اس کے علاوہ ان کے معروف ناولوں میں ”تلاش بہاراں“ جیسا ناول بھی شامل ہے جو 1961 ء میں منظر عام پر آیا تھا، جس میں انھوں نے ہندوستان میں، عورت پر ہونے والے جبر و استحصال کو پیش کیا ہے۔ اس ناول پر انھیں آدم جی ادبی انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔
”آتش رفتہ“ جو 1964 ء میں شائع ہوا، میں سکھ مت کو مشرقی پنجاب کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ”چہرہ بہ چہرہ، رو بہ رو“ جو 1970 ء میں چھپا، میں شاہ قاچار کے عہد میں پیدا ہونے والے ایک مذہبی سلسلے بہائی کے ذریعے، روحانی اور تاریخی کردار قرۃالعین طاہرہ کو موضوع بنا کر کئی پوشیدہ حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناولوں کے علاوہ انھوں نے افسانے اور ناولٹ بھی تحریر کیے ہیں۔
مذکورہ ناول معروف تاریخی شخصیت حسین بن منصور حلاج کی روحانی زندگی کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ مصنفہ نے مذکورہ ناول تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ 1۔ صدائے ساز، 2۔ نغمۂ شوق، 3۔ زمزمۂ موت۔ پہلے حصے میں حسین کے روحانی سفر کی ابتدا ہے۔ وہ ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے تھے۔ سولہ برس کی عمر میں انھوں نے قرآن حفظ کیا اور تستر میں سہیل بن عبداللہ تستری کے مدرسے میں تصوف کے رموز سے شناسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی حصے میں دو اقوال پیش کیے گئے ہیں۔ ”عشق مزرع گلاب ہے، عشق مزرع زندگی ہے“ اور دوسرا ”از پئے جاناں ہم رفت، جاں ہم رفت و جاں ہم رفت“ یہی وہ اقوال ہیں جن پر حسین کا روحانی سفر آگے کی منازل طے کرتا ہے۔ ان کی عمر جب بیس سال ہوئی تو حسن بصری کے مدرسے میں پہنچے۔ حکومت وقت نے جب انھیں پریشان کیا تو وہ بغداد چلے گئے۔
دوسرا حصہ اس روحانی سفر کے ارتقا کی کہانی ہے جہاں وہ جنید بغدادی اور شبلی کے قرب میں روحانی سفر کے نقطہ عروج کو پا لیتے ہیں۔ یہیں پر ان کی شادی یعقوب اقطع کی بیٹی سے ہوئی۔ خدا نے انھیں اولاد کی نعمت سے بھی نوازا اور ان کے چار بچے پیدا ہوئے۔ بغداد میں جب ان کے مریدوں کی تعداد بڑھنے لگی تو حکومت کی نظروں میں کھٹکے اور انھیں طرح طرح سے تنگ کیا جانے لگا۔ یہاں سے وہ حج پر روانہ ہوئے اور تین سال تک وہاں رہائش پذیر ہونے کے بعد خراسان چلے آئے۔
مشرقی ایران میں پانچ سال کا عرصہ گزارنے کے بعد تستر لوٹے۔ پھر ہندوستان کا دورہ کیا اور ہندو فلسفے کی باریکیوں سے شناسائی حاصل کی۔ ترکستان میں رہ کر بدھ مذہب کے فلسفے میں بھی درک حاصل کیا۔ حسین بن منصور حلاج نے تین حج کیے تھے۔ تیسرا حج کرنے کے بعد وہ بغداد چلے گئے اور وہاں خانہ کعبہ کا ماڈل تیار کیا۔ جسے حامد بن عباس نے بنیاد بنا کر ان پر کافر و زندیق ہونے کا فتویٰ لگوایا۔ ناول میں ان کے ہندوستانی سفر کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ناول کا تیسرا حصہ جو زمزمۂ موت سے موسوم ہے، میں حامد بن عباس کی منقاشت اور عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے مابین فرق کو مٹا دیتا ہے جہاں حسین کی روح، روح ابدی میں ضم ہوجاتی ہے۔ ناول کے اس حصے میں حسین کا کردار ایک باغی کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ اس کی شاعری مروجہ فکری رویوں کے بر عکس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسان کی ذات کے اندر ہی خدا کا وجود ہے۔ اس بات پر ان کی مخالفت ہوئی اور انھیں دنیاوی طور پر طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ وہ دور تھا جب عباسی حکومت کے خلاف بغاوتیں سر اٹھا رہی تھیں۔ حسین بن منصور حلاج کے کارناموں سے ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا جس سے حکومت خوفزدہ تھی۔ وہ اپنی گوشہ نشینی، عبادات اور مراقبات میں دیگر صوفیوں سے الگ تھلگ تھا۔ حسی لذت اور کشش سے بالکل کنارہ کش، ذاتی مفادات سے بالا تر، ایثار اور قربانی کے جذبے سے مالامال، خدا سے لو لگانے میں بے مثال اور ضبط و عمل میں لا ثانی۔ اس کے کردار سے مسلسل اضطراب اور بے چینی ظاہر ہوتی ہے۔ حسین بن منصور کے علاوہ بھی ناول میں ایسے کردار موجود ہیں جن سے ناول میں متصوفانہ عناصر کا پتا لگایا جا سکتا ہے جن میں حضرت سہل بن عبداللہ تستری، حضرت عثمان مکی، حضرت جنید بغدادی اور حضرت شبلی وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان کرداروں سے فلسفہ وحدت الوجود کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی گئی ہے۔
حسین بن منصور کے کردار کو معرض تفہیم میں لانے کے لیے اغول کے کردار کی تفہیم ضروری ہے۔ وہ ایک نسطوری راہبہ ہے جس کے مقدر میں فروخت ہو کر حرم سرا کی دیواروں میں بند رہ کر زندگی گزارنا لکھ دیا گیا ہے۔ اس کی حسین سے غیر متوقع اور پر اسرار ملاقاتیں ہوتی ہیں لیکن وہ تمام عمر حسین کے سحر سے آزاد نہ ہو سکی۔ اسے پوری کائنات میں حسین کی خوشبو پھیلی محسوس ہوتی۔ حسین کے نام پر اس کی رگوں میں دوڑتے خون میں تیزی آجاتی۔
حسین اس کے لیے سرور اور انبساط کا منبع تھا۔ اسی لیے اس نے اپنے بیٹے کا نام بھی حسین رکھا۔ اس کی پوری زندگی حسین کے گرد طواف کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اغول کے کردار کے ذریعے ناول کے مجموعی تاثر میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ کردار نہ ہوتا تو ناول میں وہ جان پیدا نہ ہوتی جو اب ہے اور ناول سپاٹ حیثیت اختیار کر جاتا۔ جو لوگ تاریخی ناولوں میں تاریخ تلاش کرنے کے عادی ہیں انھوں نے اس کردار پر اعتراض بھی کیا ہے کہ اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ یہ جمیلہ ہاشمی کے تخیل کی پیدا وار ہے۔ یہ کردار اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ وہ جس کے دم سے تصویر کائنات میں رنگ موجود ہیں وہ حقیقت میں کتنے دکھ اور مظالم برداشت کرتی ہے۔
حسین بن منصور حلاج کے مد مقابل حامد بن عباس کا کردار بھی اپنی نوعیت کا منفرد کردار ہے۔ وہ اپنے اقتدار سے محبت کرنے والا اور خوشامد پسند انسان کے طور پر ناول میں دکھایا گیا ہے۔ وہ ہر حال میں دربار کے اعلا عہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔ وہ حکومت کی مالی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ خزانے میں اگر ایک دینار کا بھی اضافہ ہوتا تو وہ ایسے خیال کرتا جیسے اس کی جیب سے ہوا ہے۔ اس کے لیے کسی کی کامیابی برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے۔
اسی لیے وہ حسین کی مقبولیت کو برداشت کرنے سے قاصر رہا۔ اس کی روح ہمیشہ پیاسی رہی اور وہ اپنے اندر ایک طرح کا خلا محسوس کرتا رہا۔ وہ اپنی ناکامیوں اور نامرادیوں کا ذمہ دار حسین کو ٹھہراتا تھا۔ کس طرح سے وہ ایک معمول کے انسان سے ایذا پسند بن گیا، اس صورت حال کو جمیلہ ہاشمی نے خوب اسلوبی سے دکھایا ہے۔ اغول سے محبت، مغرب میں عبید اللہ المہدی سے شکست اور بیٹے کا باپ سے علاحدہ ہوجانا، اس کے لیے ایسے سانحات ہیں جنھیں وہ کبھی نہیں بھلا پایا۔ حامد بن عباس اسی ذہنی کیفیت کے باعث حسین کی موت کا باعث بنا۔
جمیلہ ہاشمی نے اس ناول کے توسط سے دسویں صدی عیسوی کے بغداد کی تصویر کشی ماہر مصور کی طرح کی ہے۔ بغداد کے صوفیا، مدرسوں اور علما کی مجالس کا ذکر، بغداد کی تمدنی اور تہذیبی زندگی کے آثار، کاروان سرائے، قدیم ہندوستان سے آنے والے قافلے، ہندی مسافر، نصرانی راہ نورد، خلافت عباسیہ کی شان و شوکت، معتزلہ اور اشاعرہ کے مباحث، قرامطی تحریک کے اثرات، ترک سپاہی اور کنیزیں اور زرتشت کی باقیات، سب اس ناول میں مجتمع ہو گئی ہیں۔


