اُردو افسانہ :بیان اور بیانیہ کی آمیزش


فن قصہ گوئی کے تشکیلی عناصر میں ”بیانیہ“ کو اولیت حاصل ہے۔ بیانیہ کے بغیر کسی قصے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر قصے کا بیانیہ عام بیان سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ عام بیان میں صرف ترسیل کو مرکزیت حاصل رہتی ہے، جبکہ قصے کا بیانیہ، طریقہ اظہار پر مرتکز رہتا ہے۔ افسانہ یوں تو فن قصہ گوئی کی مکمل اکائی کا محض ایک جزو ہے لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اب افسانہ ایک خود مکتفی ادب صنف بن چکا ہے، جس کے اپنے فنی تقاضے ہیں، طریقہ اظہار ہے اور صنفی اوصاف ہیں۔

ماضی کے دریچوں سے جھانک کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ بیانیہ کے تصورات اور اس کی تعبیرات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مثلاً داستانوں کا بیانیہ حقیقت پسند فکشن کے بیانیوں سے یکسر مختلف تھا۔ داستان کے راوی کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ قصہ کو جاری رکھے اور ہر موڑ پر اپنی قوت اختراع سے کام لے کر قصے میں سامعین کی دلچسپی ختم نہ ہونے دے۔ موقع اور محل کے اعتبار سے کہانی کو اس طرح مختصر کرے یا طول دے کہ سننے والے پر بار خاطر نہ ہو۔ سامع محظوظ تو ہو مگر کہانی کی ساخت اس کو ذہنی شش و پنج میں مبتلا رکھے۔

ناول کے وجود میں آنے کے بعد داستان کا بیانیہ پس پشت چلا گیا۔ ناول میں یہ اہتمام کیا گیا کہ واقعات محیر العقل نہ ہوں بلکہ روز مرہ کی زندگی سے متعلق ہوں اور ان میں ممکن حد تک ایک ربط اور ترتیب ہو۔ کردار اگر غیر معمولی بھی ہوں تو مافوق الفطرت نہ معلوم ہوں۔ اور ایسی زبان میں بیان کی جائے جو عام زبان سے بہت دور نہ ہو۔ بیسویں صدی میں اصلاح پسندی، رومانیت اور سماجی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کے ساتھ بیانیہ کی نوعیت میں تبدیلی آنا ناگزیر تھی۔

ادب کے مرکزی تصور کی گرفت کمزور ہوئی تو افسانہ میں بیانیہ تہہ دار ہوتا چلا گیا اور جب جدیدیت کے رجحان نے انفرادی وجود اور داخلت کو تخلیق کا مرکزی احساس بنا کر پلاٹ اور کردار کے بغیر افسانے لکھوائے تو پلاٹ کی بجائے شعور کی رو اور آزاد تلازمہ خیال، افسانے کا مخصوص پیرایہ اظہار بن گئے۔ اور بہت جلد علامتی، استعاراتی، تمثیلی اور تجریدی افسانے اس عہد کا نشان امتیاز بن گئے۔ نفسیاتی اور اضافیتی تصور وقت اور فلسفہ وجودیت پر بھی خاصی توجہ دی گئی۔

یہ خیال درست نہیں ہے کہ تجریدی افسانے میں بیانیہ ہوتا ہی نہیں دراصل لفظ بیانیہ بیان کے تقریباً ہر تصور کا احاطہ کرتا ہے۔ بیانیہ کے بغیر افسانہ وجود میں نہیں آتا۔ لہٰذا بیانیہ محض واقعات کی منطقی ترتیب سے عبارت نہیں ہے اور بیانیہ سٹوری لائن کا دوسرا نام بھی نہیں ہے۔ جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ افسانوی ادب میں بیانیہ ایک لازمی عنصر ہے تو تجسس بڑھتا ہے کہ آخر یہ بیانیہ ہے کیا؟ اس میں اور بیان میں کیا فرق ہے؟

کیا ہر بیانیہ بیان بھی ہے اور کیا ہر بیان بیانیہ بھی ہے؟ غور کیا تو احساس ہوا کہ بیان کو تو ہم Statement میں لے سکتے ہیں مگر بیانیہ Statement نہیں ہے۔ یہ Narration ہے۔ یعنی بیانیہ میں تو بیان موجود رہتا ہے مگر بیان میں بیانیہ کی موجودگی کا امکان شاذ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ بیان میں بیان کنندہ کا موجود رہنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ صحافتی بیان میں نظر آتا ہے اور اگر بیان کنندہ ہے بھی تو وہ چھپا ہوا ہے، اس کا سامنے آنا ضروری نہیں ہے۔ مگر بیانیہ میں بیان کنندہ کی موجودگی ضروری ہے جیسا کہ بالعموم افسانوں اور ناولوں میں ہوا کرتا ہے۔

جدید افسانوں میں بیانیہ کی گمشدگی کا ذکر ہوتا ہے مگر خود گمشدگی کا ذکر کرنے والے بھی اس گمشدگی کے اصل مطلب سے شاید واقف نہیں ہیں۔ غور کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ جدید افسانوں میں بیان تو موجود تھا مگر بیان کنندہ بڑی حد تک غائب تھا اور یہی غیاب، بیان کو بیانیہ بننے سے روکتا ہے۔ اس لیے جدید افسانوں میں بیانیہ کے غائب ہونے کی بات کی جاتی ہے مگر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جدید افسانوں کے محتسبوں نے بیانیہ کی گمشدگی کے بعد جدید افسانوں میں پائے جانے والے اصل عنصر کی تلاش کیوں نہیں کی، کیونکہ اگر بیانیہ غیب ہوا تھا تو کیا صرف بیان Statement موجود ہے؟

ظاہر ہے کہ اس کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ جدید ادیبوں نے ترقی پسند افسانوں پر جو اعتراضات کیے اس کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ ترقی پسند افسانوں میں جو بیانیہ ہے وہ سپاٹ ہے۔ اب اس سپاٹ بیانیہ میں بیان کنندہ خواہ اپنا کتنا ہی تفاعل کیوں نہ ظاہر کرے، مگر جب اس کا بیان سپاٹ ہے تو یہ بیان بیانیہ نہیں ہے صرف بیان یعنی سٹیٹمنٹ ہے۔

ترقی پسند افسانوں میں موجود بیان سٹیٹمنٹ کے سپاٹ پن کو رد کرنے کے لیے اور بیان کو تونگر بنانے کے لیے جدید ادیبوں نے بلاغت کے مختلف پیرائے اختیار کیے ہیں، جن میں تلمیح، پیکر، تشبیہ، استعارہ اور علامت وغیرہ کو اختصار اور بالادستی حاصل تھی۔ مگر خاطر نشان رہے کیونکہ مذکورہ بالا تمام صنعتوں کا استعمال بیان کے ترفع کی ایک شعوری کوشش ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ صنعت گری یعنی Craftsmanship کا تخلیق سے کیا تعلق ہے؟

یہ ایک الگ امر ہے جس پر مختصراً اتنا کہا جا سکتا ہے کہ صنعت گری تخلیق کے عناصر میں تو داخل ہے مگر فی نفسہ صنعت گری تخلیق نہیں ہے۔ اسے بازی گری کی صنف میں رکھا جا سکتا ہے حالانکہ خود بازی گری میں بھی جو محنت، ریاضت اور فنی استغراق مطلوب ہے وہ بازی گری کو بھی تخلیق کے مدارج تک پہنچا سکتا ہے مگر اپنے آپ میں بازی گری بھی تخلیق نہیں ہے۔

جدید افسانوں میں صنعت گری پر جو زور دیا گیا وہ اسے ادب برائے ادب سے زیادہ ادب برائے بازی گری کے خانے میں رکھنے کا متقاضی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ خود جدید ادیبوں کا ترقی پسند ادیبوں پر جو اعتراض رہا وہ ان کے اسی میکانکی عمل پر رہا جس کے سبب بہ قول جدید ناقدین ایسے سپاٹ بیانیہ کو اعتبار حاصل ہوا جس میں بیان کے عناصر زیادہ موجود تھے۔ گویا صنعت گری کا عمل ترقی پسند افسانوں میں بھی موجود ہے اور جدید افسانوں میں بھی۔

ترقی افسانوں میں یہ صنعت قصہ، پلاٹ، کردار، ماحول، فضا، کلائمکس، اینٹی کلائمکس اور پیغام وغیرہ کا احاطہ کرتی ہے جبکہ جدید افسانوں میں یہ اظہار، بیانیہ کنندہ کے اشاراتی، تلمیحی، تمثیلی، تشبیہی، استعاراتی اور علامتی اظہار کا مظہر ہے۔ ترقی پسند افسانے میں صرف افسانے کی صنعت کی شرائط کی پابندی مقصود بالذات سمجھی گئی تھی اور جدید افسانے میں مجموعی طور پر ادبی شرائط پیش نظر رکھی گئیں۔ مگر جو چیز اظہار یا بیان کو تخلیق بناتی ہے وہ ایک طرح سے دونوں کے یہاں مفقود تھی۔

اس لئے 1970ء اور 1970ء سے پہلے کے جدید بیان کو خیر باد کہتے ہوئے افسانے کے تخلیقی بیانیہ پر نگاہ مرکوز کی۔ حالاں کہ اسی درمیان کچھ افسانہ نگار افسانے کی دنیا میں اس طرح داخل ہوئے کہ بیان اور صراحت کی بندشیں ٹوٹنے لگیں۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اگر کل افسانے میں انفرادیت اور انوکھے پن کی تلاش تھی تو آج زندگی کے حقائق کی غیر مشروط جستجو اور شناخت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی کیوں کہ زندگی اور فن دونوں میں نمایاں فرق آ چکا ہے۔ اور یہ فرق فکشن کے اسالیب میں بھی منعکس ہو کر رہے گا۔

1970ء کے بعد اردو افسانے کے تفاعل پر گفتگو کرنے سے پہلے اس امر کی طرف نشاندہی ضروری ہے کہ گزشتہ سطور میں بیانیہ کے سلسلے میں اصل صورت حال کو سمجھنے کی کوشش نے اظہار کے تین رخ نمایاں کیے۔ اول: بیان، دوم : بیانیہ اور سوم: صراحت یا وضاحت۔ اظہار کے مذکورہ بالا تینوں پہلوؤں میں سے پہلے اور تیسرے یعنی بیان اور صراحت کا تخلیقی نثر میں کتنا عمل دخل ہے غالباً خود یہ معاملہ بہت وضاحت طلب نہیں۔ ترقی پسند ہوں یا جدید دونوں رجحانات کے کسی بھی مؤقر ناقد نے ہنوز بیان اور صراحت کو تخلیقی نثر کے اوصاف میں شمار نہیں کیا ہے۔

اس کا بنیادی تعلق غیر تخلیقی یعنی تنقیدی یا توضیحی نثر سے ہے جس کے نمونے تنقیدی تحریروں کے علاوہ مضامین کی دیگر قسموں میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ 1970ء کے بعد والوں نے خصوصاً شوکت حیات، اقبال مجید، اسد محمد خاں، آصف فرخی، نیر مسعود، سید محمد اشرف، خالد جاوید او ر مشرف عالم ذوقی نے ایک طرح سے اردو افسانے کو بیان اور صراحت کی قید سے نجات دلائی ہے۔ یہاں محض نام گننا مقصود نہیں بلکہ بیانیے کی واپسی کے نقطہ نظر سے معاصر افسانے کے خد و خال کو اس مختصر سے مضمون میں سمیٹنے اور باور کرانے کا ہے کہ ہمارے آج کے افسانہ نگاروں نے اپنے عہد کے فنی اور فکری مسائل پر بھرپور توجہ دی ہے اور کسی دباؤ میں آ کر یا کسی مصلحت کے پیش نظر فن پارے تخلیق نہیں کیے بلکہ رائج رویوں سے کسب فیض کرتے ہوئے کثیر الجہتی بیانیہ خلق کیا ہے۔

جس سے اردو افسانے کے وقار کو اور بھی اعتبار حاصل ہوا ہے۔ مثال کے طور پر شوکت حیات نے شروع سے ہی اپنے افسانوں میں حقیقت، علامت اور رمزیت کی باہمی آمیزش سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے جو صراحت کے باوجود پہلو دار بھی ہے اور خیال انگیز بھی۔ سلام بن رزاق نے خارجیت اور داخلیت کے سکہ بند تصورات سے احتراز کرتے ہوئے زندگی اور سماج کی بازیافت کی۔ اسد محمد خان نے اساطیر اور علامتوں کو نئے معنوں سے ہم آہنگ کر کے اپنے دور کی داستان سنائی ہے جس کے لئے عموماً قاری کے لاشعور سے مکالمہ قائم کرتے ہیں اور پھر گرد و پیش کی زندگی کا نچوڑ پیش کرتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ 1970 اور 72 تک اردو افسانہ بیان اور صراحت کا قیدی رہا۔ نئی نسل نے کہانی کو اس کی مانوس ہیئت میں واپس لانے کی کوشش کی۔ ہمارے اس نئے دور میں ابہام اور تجرید سے مکمل گریز تو نہیں ہے لیکن کہانی کا مرکز و محور انسان کے وہ تجربات قرار پائے جو اس کے خوابوں اور باطنی زندگی تک محدود نہیں ہیں اور جو اس کا رشتہ سماج اور عام زندگی سے جوڑتے ہیں۔ دراصل جسے ہم بیانیہ کی واپسی کہتے ہیں وہ شعوری یا لاشعوری طور پر مصنف کی اس خواہش کا اظہار ہے کہ اس کی بات قاری تک پہنچے اور شاید اس امر کا اعتراف بھی ہے کہ مصنف معاشرہ کا ایک حصہ ہے۔

لہٰذا وہ یا اس کی لکھی ہوئی کہانی خود مکتفی نہیں ہے اور صرف افسانہ نہیں بلکہ داستان اور ناول یعنی مجموعی طور پر تاریخ کے بڑے بیانیے کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح ترسیل کے جتن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پیش رو علامتی اور تجریدی افسانہ نگاروں کی روش سے ہٹ کر آج کا افسانہ نگار وقت سماج اور فن کے ایک دوسرے تصور پر اصرار کر رہا ہے، جس میں فرد کی ذات اور فرد کے باطنی تجربات اہم ہیں۔ لیکن یہ فکشن کی کائنات کا واحد محور نہیں ہے۔

Facebook Comments HS