جو ہے بس وہی خوبصورت ہے
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وہ لوگ اداس کیوں ہوتے ہیں جو ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اور اس بات کا اندازہ ان کے سوشل میڈیا یا وٹس ایپ وغیرہ پر ایسے پیغامات دیکھنے سے اکثر ہوتا ہے کیونکہ اصل میں بات کرتے ہوئے وہ ایسا کچھ ظاہر نہیں کرتے یا شاید کرتے ہوں لیکن طریقہ ایسا ہو کہ سمجھ نہ آتا ہو۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ جو یہاں ہیں مجھ اور میری جنریشن کے بہت سے لوگ، جن میں سے اکثر ملک کو چھوڑ دینا چاہتے ہیں لیکن فی الحال وہ یہیں ہیں بالکل ان باہر چلے جانے والوں کی طرح، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وہ یہیں تھے۔
یہ تو طے پایا کہ ہم اپنے لوگوں کو، اپنے ملک کو چھوڑ جانے کے بعد اداس تو ہوں گے، پہلے جانے والوں کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے لیکن ہمیں جو میسر ہے ہم اس سے خوش کیوں نہیں ہیں؟ ہمیں ہمارے لوگ یا میسر نعمتیں خوشی کیوں نہیں دیتیں۔ یہ ملک سے باہر جانے یا یہاں رہنے والی فقط ایک مثال ہے، ایسی بے شمار چیزیں ہیں۔ زندگی کی ہزاروں نعمتیں ہیں، ذرا سوچیے اس بازو کے بارے میں جسے آپ بھرپور طریقے سے ابھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن آج سے چند سال قبل جب آپ ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے تو صرف ایک بوجھ کی طرح لگ بھگ ایک ماہ تک یہ آپ کے گلے میں لٹکا رہا تھا، کوئی کام نہیں ہو پایا تھا اس سے تب۔
یا چلیں ہو سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ حادثے سے محفوظ رہے ہوں، لیکن پھر بھی ایسی ہزاروں چیزیں ہیں جو آپ کو میسر ہیں اور آج سے چند ماہ یا چند سال پہلے وہ آپ کی دسترس سے باہر تھیں۔ آپ کے سامنے پڑا ہوا جدید ترین لیپ ٹاپ، یا ہاتھ میں پکڑا ہوا مہنگا فون۔ ذرا سوچیے کہ کیا یہ کبھی آپ کی خواہش نہیں تھے؟ آج آپ کا جو مقام ہے یا سٹیٹس ہے کسی بھی وجہ سے، آپ کے پیشے کی وجہ سے، یا آپ کو ملنے والی دولت کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے۔
کیا یہ کبھی سوچا تھا آپ نے کہ ایسا بھی کبھی ہو گا؟ آپ ذرا تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں آپ کو سب معجزہ سا لگے گا، ہم اکثر یہ بات کرتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو کچھ کامیابی حاصل کرچکے ہیں وہ دنیا کے سامنے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے اس سب کو حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے اور ایسی بہت سی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن درحقیقت انہیں بھی اندر سے یہ معجزہ لگتا ہے، کوئی خواب جو بس پلک جھپکتے حقیقت بن گیا ہو۔ پتا ہے کیوں؟
کیونکہ انسان اتنا مکمل بنایا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی ذات کو کل سمجھے، وہ ڈھونگ ضرور کر سکتا ہے کاملیت کا، لیکن درحقیقت اس کی عقل اس چیز کو تسلیم نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عقل پھر اسے دوڑاتی ہے کاملیت کے سراب کی طرف، جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ اسی لیے انسان ساری زندگی امریکی، برطانوی یا کسی بھی شہریت کے پیچھے بھاگتا ہے، سر دھڑ کی بازی لگاتا ہے، لیکن جب وہ مل جاتی ہے تو گھر کو بھاگنا چاہتا ہے۔ کاملیت کا سراب اپنے نقص دکھانے لگتا ہے، یونہی کوئی بھاگتا ہے اور بھاگ بھاگ کر کامیابی کی آخری سیڑھی کو پہنچتا ہے تو خالی پن کا طوفان اسے لپیٹ میں لینے لگتا ہے۔
سہولیات سے آراستہ بڑے سے دفتر کی خاموشی اسے کھانے لگتی ہے، بہانے بہانے سے محفلوں کا رخ کرنے لگتا ہے۔ سراب ایک بار پھر ناقص نکلتا ہے۔ حقیقت بس یہی ہے کہ ”جو ہے بس وہی خوبصورت ہے“ نقطہ سمجھنا بہت مشکل بھی ہے اور آسان بھی، میں خود اسی مسئلے سے دوچار ہوں، دماغ ماننے کی ترغیب دیتا ہے اور دل کہتا ہے کہ سراب کے پیچھے بھاگے چلے جاؤ، کامل ہو جاؤ گے تو سب پالو گے! لیکن سب کہاں ملتا ہے؟ سب کچھ پا لینا کہاں ممکن ہے۔ ؟


