شمالی سندھ میں خواتین کے مسائل اجاگر نہیں ہو پاتے
سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی سحرش کھوکھر کا کہنا ہے کہ ریاست کے چوتھے ستون صحافت سے گزشتہ 13 سال وابستہ ہوں، میں نے شروعاتی طور پر اردو نیوز چینل فائیو میں بطور رپورٹر اپنے کریئر کا آغاز کیا، دو سال چینل فائیو میں گزارنے کے بعد مجھے پرنٹ میڈیا سے آفر ہوئی اور مناسب تنخواہ اور مزید تجربہ حاصل کرنے کا سوچ کر میں نے عوامی آواز گروپ کے اردو اخبار روزنامہ انجام میں بطور بیورو رپورٹر ہوئی اور خبریں اخبار میں کالم لکھنا بھی شروع کر دیا تھا، تقریباً تین سال تک روزنامہ انجام سمیت مختلف اردو اخبارات کے لیے اپنے صحافتی فرائض سرانجام دیتی رہی ہوں، یہ سحرش کھوکھر سینئر رپورٹر اینڈ اسائنمنٹ ایڈیٹر اے آر وائی نیوز سکھر بیورو ہے جس نے اپنی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے بتایا۔ سحرش نے کہا کہ مجھے 2014 میں پاکستان کے بڑے نیوز چینل اے آر وائی نیوز میں کام کرنے کی آفر ملی اور میں نے وہ آفر قبول کی جس کے بعد مین اسٹریم میڈیا کے بڑے نام ور ادارے اے آر وائی نیوز کے ساتھ منسلک ہو گئی اور آج تک اے آر وائی نیوز کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔
انتھک محنت اور جدوجہد مسلسل جاری رہی ہے، حوصلہ افزائی ملتی رہی تو پاکستان کی نمایاں تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس میں بطور ممبر فیڈرل ایگزیکیٹو کمیٹی منتخب ہوئی تھی، جبکہ اس وقت سکھر پریس کلب کی موجودہ خازن بھی ہوں۔
سحرش نے مزید یہ بھی کہا کہ خواتین کے میڈیا لائن میں نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں خاص طور پر معاشرے کی بے حسی ہے۔ ایک خاتون کو میڈیا کی فیلڈ میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، بلوچستان اور کے پی کے علاوہ بالخصوص سندھ میں بھی خواتین کو نوکری کروانا معیوب سمجھا جاتا ہے، سندھ کے کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں عورت اگر کسی نامحرم سے بات بھی کر لے تو اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے، ایسے حالات میں عورت کا نوکری کرنا اور وہ بھی صحافت کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے، اس کا خاتمہ ممکن ہے اگر تعلیم اور شعور کے لیے آگاہی پروگرام ترتیب دیے جائیں۔
سحرش کا کہنا تھا خواتین کے صحافت میں نہ ہونے کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اندرون سندھ کی وہ خواتین جو کہ داد کی مستحق ہیں یا وہ خواتین جنہیں کئی گھریلو پیچیدگیوں کا سامنا ہے، اور ہمارے سندھ کی وہ ہنر مند خواتین جو کہ ثقافت کو اجاگر کیے ہوئے ہیں ان کو ہم نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر متعارف نہیں کروا پاتے۔ کئی رپورٹنگ کے پہلو ایسے ہوتے ہیں جو کہ خواتین صرف خاتون رپورٹر کو ہی بتانا بہتر محسوس کرتی ہیں مگر خواتین کی نمائندگی نہ ہونے سے خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم بھی کئی حد تک سامنے نہیں آ پاتے۔ کئی حساس ادارے جن میں خواتین نمائندہ با آسانی جا کر رپورٹ کر سکتی ہے کسی بھی زاویئے سے، وہ بھی نہیں ہو پاتا۔
سحرش کے مطابق صحافت کے شعبے سے منسلک خواتین خوف کا شکار ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ اداروں کے رویے، پریس کلبس یا یونین کی سیاست میں نمائندگی نہ ملنا، اس کے علاوہ لوگوں کے رویے ان کو خوف میں مبتلا کرتے ہیں۔ آج بھی کئی ایسی صحافی خواتین ہیں جو اس فیلڈ کو جوائن کرنا چاہتی ہیں مگر حالات اور واقعات انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔
سحرش کا کہنا ہے کہ صحافت میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ہمیں ایسے ماحول کو پیدا کرنا ہو گا جہاں خاتون خود کو محفوظ محسوس کرے۔
خواتین صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تو ممکن ہے کہ خواتین اس فیلڈ میں بلاخوف آ سکتی ہیں۔ سحرش نے کہا کہ ایک خاتون رپورٹر کو دوران فیلڈ سینکڑوں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن میں سر فہرست ہراساں کرنا ہے، اس کے علاوہ خاتون کو مختلف طریقوں سے پریشان کرنا ہے، خاتون کے لیے ماحول خراب کرنا ہے، ایک خاتون صحافی فیلڈ میں معاشرے کی باتیں سنتی ہے جبکہ اسے اکثر و بیشتر اپنے کام کرنے کی جگہ پر بھی ایسی مشکلات سہنی پڑتی ہیں، خاتون رپورٹر اگر کسی سیاسی پہلو سے رپورٹنگ کرے، کسی سیاست دان پہ لکھے، کسی تاجر پہ لکھے، کسی بلیک میلر پہ لکھے، کسی پارلر میں خفیہ کیمروں کا پردہ چاک کرے، دارالامان جیسے ادارے میں خواتین پہ ڈھائے مظالم کو اپنے قلم کی طاقت سے عوام تک پہنچائے، ایوانوں میں اس کی رپورٹنگ کے نوٹس لیے جائیں، تو پھر ایک خاتون کو خاموش کروانے کا گھٹیا راستہ اپنانا عام شیوہ بن چکا ہے، خاتون صحافی کے صحافتی کام کے بجائے پہلا وار اس کے کردار پہ کیا جاتا ہے۔
میں بطور خاتون صحافی اپنی زندگی کے تیرہ سال مسلسل جدوجہد جاری رکھتے ہوئے آج رویوں سے لڑنا سیکھ چکی ہوں، میں بلا خوف اپنے صحافتی فرائض سر انجام دے رہی ہوں، حالانکہ میں ان سب مسائل کا سامنا کر چکی ہوں اور کر بھی رہی ہوں، لیکن میں پھر بھی اپنی بہنوں سے بالخصوص میڈیا میں کام کرنے والی اسٹوڈنٹ سے گزارش کروں گی کہ وہ ریاست کے چوتھے ستون میں بلاخوف آئیں اور مقابلہ کریں کیونکہ عورت کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتی، اس کی اصل طاقت اس کا اپنا اعتماد اور یقین ہے جس کے ذریعے وہ خود کو اس معاشرے میں ایک اعلی مقام دلوا سکتی ہے۔
*امداد بوزدار، صدر سکھر یونین آف جرنلسٹس*
خواتین صحافتی فیلڈ میں بہت کم ہونے کی دو اہم وجوہات پر منحصر ہے، ایک تو اداروں کی جانب سے تنخواہ نہ ملنا اگر ہوگی بھی تو 25 ہزار سے 30 ہزار تک جو کہ بہت ہی کم ہے۔
خاتون صحافی کو کم سے کم تنخواہ پچاس ہزار تک دی جائے تاکہ وہ کسی بھی واقعے کو کور کرنے کے لیے کنوینس حاصل کرسکے۔ مرد صحافی فیلڈ میں جاتے ہوئے خود کو تو کنوینس کرنے کے لیے لفٹ مانگ کر کنوینس کر سکتا ہے جبکہ ایک خاتون صحافی کسی سے لفٹ نہیں مانگ سکتی۔
دوسرا معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بھی عورتیں صحافت کے پیشے سے دور ہیں۔ عورت جرنلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے خواتین اور معصوم بچیوں کے مسائل اجاگر نہیں ہو پاتے۔
سات سال قبل سکھر پریس کلب میں 13 خواتین سمیت 172 جرنلسٹ تھے۔ تنخواہ نا ملنے کے باعث کچھ فی میل صحافی سکھر سے کراچی شفٹ ہو گئیں جن میں نومیتا گل اور سیرت آسیہ بھی شامل ہیں۔
اسی طرح تین فی میل جرنلسٹ نے شادی کرلی اور صحافتی دنیا چھوڑ گئیں۔ اس وقت سکھر پریس کلب میں سحرش کھوکھر، اے آر وائی نیوز، کرن مرزا ڈی ڈبلیو، لائیبہ، این ٹی این، کلثوم اردو پوائنٹ، صبا بھٹی نیوز ون، زبیدہ کنول فری لانسر کام کر رہی ہیں جو کہ پریس کلب سکھر کے ارکان ہیں۔ جن میں سحرش کھوکھر فنانس سیکریٹری، کرن مرزا ایگزیکٹیو ممبر کے عہدوں پر فائز ہے۔
بینظیر حکومت دور 1992 سے لے کر پرویز مشرف کے دور تک ملک کے دیگر شہروں کی طرح سندھ کی خواتین کو جاب کرنے کے لیے اجاگر کیا گیا، اس وقت اسمبلیوں سے لے کر دیگر شعبہ جات میں کافی خواتین آنے لگی تھی مگر واحد صحافت کا شعبہ ہے جس میں اندرون سندھ کے 23 اضلاع میں فیلڈ رپورٹر فیمیل صفر ہے۔
30 فیصد معاشرتی مجبوری ہے جبکہ 70 فیصد تنخواہوں کی عدم فراہمی کے باعث عورتیں صحافت کے پیشے سے عدم دلچسپی رکھتی ہیں۔
سکھر پریس کلب کے آئین کے مطابق خواتین رپورٹر کو ممبر کرنے کے لیے نرمی کے قوانین استعمال کیے جاتے ہیں، تین ماہ تک کسی بھی ادارے سے کام کرنی والی فی میل صحافی کو فورا ممبر شپ حاصل ہوجاتی ہے۔
میل صحافی کے لیے کم سے کم پانچ سال تک کسی ادارے میں کام کرنے کی شرائط لاگو ہے۔
شمالی سندھ کے وہ اضلاع *جن اضلاع میں خاتون صحافی نہیں ہے ان اضلاع کی نام اور پاپولیشن* ادارہ شماریات پاکستان بیورو اسٹیٹکس (PBS) 2023 کی تازہ ترین پاپولیشن کے مطابق ، جیکب آباد۔ 1174097، قمبر شہداد کوٹ۔ 1514869، کشمور۔ 1233957، لاڑکانہ۔ 1784453، شکارپور۔ 1386330، سکھر۔ 1639897، خیرپور۔ 2597535، گھوٹکی 1772609 شامل ہیں ان مذکورہ اضلاع میں خواتین کی آبادی مجموعی 50 فیصد تک ہے مگر افسوس کے ان اضلاع کی خواتین صحافت کے شعبے میں صفر ہے جبکہ دیگر شعبہ جات ایجوکیشن 22 فیصد، ہیلتھ اور نجی این اوز میں 20 فیصد خواتین نوکریاں کر رہی ہیں۔ جبکہ اس وقت سکھر، خیرپور اور لاڑکانہ میں مجموعی 9 خاتون صحافی ہیں۔
*سید مہدی شاہ، کنٹرولر شاہ لطیف خیرپور یونیورسٹی* نے بتایا ہے کہ شاہ لطیف یونیورسٹی میں ماس کمیونیکشن کا سیشن تاحال تک شروع نہیں کیا گیا ہے جبکہ ایم اے جرنلزم کے لیے سال 2022 میں 55 طلباء و طالبات نے ایڈمیشن لیا ہے جن میں 18 لڑکیاں جبکہ 37 لڑکے ہیں جو ریگولر کلاسز اٹینڈ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم اے جرنلزم کی ڈگری کے لیے کم ہی طلباء اپلائی کر رہے ہیں یا تو پھر کچھ ایسے طلباء بھی ہیں جو آن لائن کلاسز اٹینڈ کرتے ہیں۔
سال 2022 کے طلباء کے امتحانات کی تیاریاں چل رہی ہیں دسمبر کے مہینے میں امتحانات ہوں گے سلپوں کی تقسیم کا مرحلہ چل رہا ہے اس سے قبل سال 2021 میں ایم اے جرنلزم سیشن کے لیے تعداد 36 تھی جن میں 11 لڑکیاں شامل تھی جو امتحانات کا مرحلہ مکمل کر کے ڈگریاں حاصل کرلی تھی جبکہ اس سال ایڈمیشن میں اضافہ ہوا ہے۔
*ویج بورڈ قوانین*
ویج بورڈ قوانین کے لئے تین قوانین ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں ادائیگی اجرت کا قانون / پے منٹ آف ویجز ایکٹ 1936 قانون اقل اجرت/ کم از کم اجرت کا قانون 1961 پاکستان کا قانون اقل اجرت برائے غیر مہارت یافتہ کارکنان 1969 کوئلے کی کان میں کام کرنے والے کارکنان کی اجرتوں کے تعین کا قانون 1960 کے مطابق فی میل رپورٹر کی کم سے کم تنخواہ ایک لاکھ تک ہوگی اور اس قانون پر عمل کیا جائے تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ سکھر پریس کلب میں پچاس فیصد خواتین رپورٹر نظر آئیں گیں۔
*جمیلاں منگی، ممبر ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان خیرپور* نے کہا کہ بہت سارے ایسے ایشوز ہیں جن میں دارالامان، زنانہ جیل خانہ جات، ہسپتالوں میں زچگی وارڈوں کی عورتوں کے کئی مسائل ہوتے ہیں جو اکثر عورتیں مرد رپورٹر کے ساتھ شیئر نہیں کر پاتی ہیں۔ وہاں پر عورت رپورٹر ہوگی تو کئی سٹوریز نکل آئیں گی۔ میں نے پانچ سال قبل خیرپور یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم کیا تھا میرا خود شوق تھا کہ میں صحافی بنوں مگر میرے گھر والے ہر گز راضی نہیں ہوئے وہ کہتے تھے کہ کوئی بھی جاب کرلو مگر جرنلسٹ نا بنو اگرچہ میری سپورٹ میرے ماں باپ کرتے تو شاید آج میں ایک ادارے سے منسلک ہوتی وجہ یہ تھی کہ صحافی کو زیادہ خطرے ہوتے ہیں جانی جسمانی اس کے علاوہ عدم تحفظات ہونے کی اہم وجہ ہے جس سے اہل خانہ نہیں چاہتے کہ اپنی بیٹی کو اس خطرناک کام سے جڑنے دیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ ہراسانی کے واقعات کا بھی خوف ہوتا ہے مگر اکثر ماحول بہتر ہو گیا ہے عورتوں کو جاب کی اشد ضرورت ہے وہ نکلنا چاہتی ہیں انہیں ادارے سپورٹ کریں تو صحافتی پیشے میں بیشتر عورتیں کام کریں گیں۔ حیدرآباد کے بعد سکھر میں 6، لاڑکانہ 1 جبکہ خیرپور میں بھی ایک خاتون رپورٹر ہے جو فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔
*ڈاکٹر عائشہ دھاریجو، چیئرپرسن سندھ سھائی ساتھ سکھر*، انہوں نے کہا کہ ہمارے ریسرچ کے مطابق پاکستان میں 86 فیصد مردوں کے مقابلے صرف 26 فیصد خواتین کو کام کرنے کے مواقع میسر ہیں۔ پاکستان میں جہاں مردوں کی شرح خواندگی 70 فیصد ہے وہیں خواتین کی شرح 46 فیصد ہے۔ پارلیمنٹ میں 79 فیصد مردوں کے مقابلے 21 فیصد خواتین ہیں جبکہ پاکستان میں 97 فیصد بڑے عہدے مردوں کے پاس ہیں اور محض 3 فیصد عہدے خواتین کے ہاتھوں میں ہیں، پاکستان میں 78 فیصد مردوں کے مقابلے میں صرف 22 فیصد خواتین ماہرانہ پیشہ ور طبقے میں شمار ہوتی ہیں۔
جہاں تک صحافت کے شعبے کی بات ہے تو خاص کر کے اندروں سندھ کے اکثر اضلاع میں خاتون صحافی نہیں ہیں جس کی وجہ خاتون کو مرد حضرات آگے بڑھنے نہیں دیتے صحافت کے شعبے میں جس پریس کلب میں عورت ہوگی تو مردوں کو اچھا نہیں لگے گا جس وجہ سے مرد حضرات صحافی بن کر اپنے پاور کو استعمال کرتے ہیں اسی طرح خاتون ہوگی تو وہ پروفیشنل اپنے پیشے کو استعمال کرسکے گی انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی تنظیم میں عورتوں کو آگاہی پروگرام منعقد کر کے انہیں صحافت کے شعبے میں لانے کی کوشش کروں گی
اسی طرح خاتون دیگر شعبہ جات میں سب سے آگے نظر آتی ہیں جبکہ صحافت میں عدم دلچسپی کے کئی وجوہات ہیں حیدرآباد کے بھی کئی اضلاع ہیں جہاں پر پریس کلبز کے اندر خاتون صحافی ممبرشپ صفر ہے حکومتی اداروں کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو چاہیے کہ ملک کے چوتھی ستون صحافت کے پیشے میں عورتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس شعبے میں شامل ہو کر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرسکیں۔


