باوا بندر، بنوں اور ارتقا
جب مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو میری سب سے زیادہ دلچسپی علم الابدان (اناٹومی) میں پیدا ہوئی۔ اور سچ بتاؤں تو آج یہ دلچسپی پینتالیس سال بعد بھی اُسی طرح برقرار ہے۔ بالکل بچوں کی مانند یہ جسم اب بھی میرے لئے ایک حیرت کدے سے کم نہیں۔ اسی دل چسپی کی بنیاد پر مجھے اناٹومی میں گولڈ میڈل ملا۔
انسانی گھٹنے کے مطالعے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ ایشیائی باشندوں اور مغرب کے رہنے والوں کے گھٹنوں میں تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ گھٹنے کی آنکھ سے نیچے جو پٹّھا نیچے لمبی ہڈی پر اٹکا ہوتا ہے وہ ہم میں تو ترچھا لگا ہوتا ہے جبکہ مغرب کے لوگوں میں سیدھا لگا ہوتا ہے۔ اسی کی وجہ سے ہم آلتی پالتی مار سکتے ہیں اور وہ نہیں۔ خیر اس بات سے مجھے اچنبھا ہوا لیکن بات آئی گئی۔
ہمارے بچپن سے جوانی تک ہماری مسجد میں کُرسیاں نہیں ہوتی تھیں۔ اب اس عُمر میں خود بھی مسجد میں کُرسی کی تلاش ہوتی ہے۔ سوچا تو اچانک اناٹومی کی وہ حقیقت یاد آ گئی۔ تب علم ہوا کہ مغرب کے لوگ کُرسیوں اور صوفوں پر بیٹھنے کے عادی تھے تو ان کے گھٹنے کے پٹھے سیدھے ہو گئے تھے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں ہم زمین سے اُٹھ کر کرسیوں، سٹول اور صوفوں پر بیٹھنے لگے تو قدرت کے نظام کے تحت ہمارے گھٹنے کے پٹھے بھی سیدھے ہونے لگے۔
گزشتہ ہفتے پلاسٹک سرجری کی ایک میٹنگ میں ہاتھ کی اناٹومی کا ذکر ہو رہا تھا۔ اللہ نے ہمارے ہاتھ کو دو شریانوں سے نوازا ہے۔ جب بھی ہاتھ کو بھاری نقصان پہنچتا ہے تو ہم ان دونوں شریانوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم ایک شریان کی مرمت ضرور کرتے ہیں ورنہ ہاتھ کاٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدے میں کئی بار یہ بات آئی کہ ہائی وولٹیج بجلی سے زخمی ہونے والے کئی ہاتھوں کے دونوں شریان بند ہونے کے باوجود وہ کاٹنے سے بچ گئے۔ گزشتہ سال میں نے ارتقائی عمل پر ایک سائنسی مضمون پڑھا تو انکشاف ہوا کہ کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز کی وجہ سے انسان کے ہاتھ میں ایک تیسری شریان اُبھر رہی ہے جو ہاتھوں کے زیادہ استعمال میں مدد دے رہی ہے۔
یہ دینِ فطرت یا قانون فطرت ہے کہ ہر جاندار کو اپنے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور یوں وہ جاندار نت نئے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنتے جاتے ہیں۔ بنگال کے جولاہے نسلاً در نسل بہترین کپڑا کیسے بُن لیتے تھے؟ اسی ارتقائی عمل سے۔ حتیٰ کہ انگریزوں نے ان کے انگوٹھے کٹوا دیے۔
ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ پہلا سائنسدان تھا جس نے آٹھویں صدی عیسوی (یعنی ڈاروِن سے ایک ہزار سال قبل) جانداروں کے ارتقاء کی حقیقت اپنی تصنیف ”کتاب الحیوان“ میں ظاہر کی۔ بس اس کی قسمت اچھی تھی کہ اُس پر اس وقت کفر کا فتویٰ نہیں لگا۔ ڈاروِن نے یہی حقیقت یوں ظاہر کی کہ تمام جاندار وقت اور ماحول کے مطابق جسمانی طور پر بدلتے جاتے ہیں تاکہ ان کی نسل برقرار رہے۔ اُس نے نہ کبھی یہ لکھا کہ انسان بندر کی اولاد ہے اور نہ کبھی بندر کو اپنے اجداد میں شمار کیا۔ تاہم بعد میں آنے والے کئی مذہبی جنونیوں نے ان کے نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اسے خدائی تخلیق میں مداخلت یا کفر کا نظریہ بنا کر اُسے مردود قرار دیا۔
گلیلیو بھی اسی جہالت کا شکار رہا۔ سترہویں صدی کے اوائل میں اُس نے پہلی مرتبہ یہ دریافت پیش کی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس پر اُس زمانے کے منبر و جُبّے والوں نے کفر کے فتوے لگائے اور اُسے مجبور کیا کہ وہ سرِ عام اپنی دریافت سے رجوع کرے اور توبہ کرے کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ البیرونی نے گلیلیو سے چھ صدیاں قبل یہی نظریہ پیش کیا تھا لیکن اُس وقت کوئی احمد رضا بریلوی کے پیروکار نہیں تھے جو ان کو اس بات پر کافر قرار دیتے۔
انسان اور فرشتوں میں اللہ نے علم ہی کا فرق رکھا۔ قرآن میں سارا قصہ موجود ہے۔ اللہ نے آدم ع کو کائنات کا علم (تمام ناموں کا علم) دیا۔ ظاہر ہے دین اور عبادت تو فرشتوں کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اسی لئے وہ آدم ع کا مقابلہ اس کائناتی علم کی بدولت نہ کرنے پائے۔ اللہ نے علم پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ بھلا جاہل اور علم والے کیوں کر برابر ہوسکتے ہیں۔ علم کو اللہ نے شان دی ہے اور اس کی ترقی بڑھتی جاتی ہے۔ 1950 میں شائع ہونے والا علم ستر اسی سال میں دُگنا ہوا تھا۔ 2020 میں اسے دُگنا ہونے میں محض دو سال کا عرصہ لگا۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دُنیا سے جہالت کا خاتمہ ہو گیا۔ امریکہ جیسے ملک میں ابھی ایک سروے ہوا ہے جس میں دس فیصد لوگ اب بھی زمین کو چپٹا مانتے ہیں اور امریکہ کے چاند پر اُترنے کو محض ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو حال اس سے بھی ابتر ہے۔ اس ہفتے ایک بیالوجی کے اُستاد اور سائنس دان کو مولویوں نے بنوں کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اپنے سائنسی نظریات سے رجوع کرنے پر مجبور کیا۔ وہ اس سے قبل بھی محض علم اور جہالت کی جنگ میں ایک حملے کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ مذہبی جنونی تو نہ پختون خواہ کو علم حاصل کرنے دیں گے اور نہ ملک کو۔ لیکن ایک بیوروکریٹ بھی اگر جہالت کا ساتھ دے تو کیسی اُمید اور کیسی خوش فہمی؟ اس سے قبل بھی کئی اساتذہ اسی الزام میں بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں سالوں سے اسیر ہیں۔
ہم اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ بنوں جیسا پس ماندہ علاقہ یونیورسٹی، میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجوں کی بدولت علم کی روشنی سے منور ہو سکے گا۔ لیکن اس ووٹ کا ستیاناس ہو کہ پیشوایانِ دین نے پیر تسمہ پا کی طرح بنوں کو جکڑ کر رکھا ہے۔
خیر، ارتقا کی بات چلی ہے تو اکبر آبادی کے اس شعر کا لطف اٹھائیے
یا الٰہی یہ کیسے بندر ہیں؟
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے


