ایک روحانی سفر ۔ مدینہ منورہ
سب سے پہلے تو ایک معذرت گزشتہ آرٹیکل میں سہوا عورتوں کے بال چوتھائی کاٹنے کا لکھ دیا گیا تھا۔ برائے مہربانی تصحیح فرما لیں۔ عورتیں بالوں کو اکٹھا کر کے انگلی کے ایک پور یا اس سے کم مقدار میں بالوں کو کاٹ سکتی ہیں۔ آئیے! اب بلا تاخیر آگے بڑھتے ہیں روحانی سفر کی دوسری روداد کی طرف۔
مدینہ منورہ میں مقدس مقامات بارے اظہار خیال کی جسارت کر رہا ہوں۔ جہاں انوار کی بارش برستی ہے، قسمتیں بدلتی ہیں، فرشتوں کی ایک جماعت اگر آ کر زیارت کر لے تو ستر سال مزید انتظار کرنا پڑتا ہے تب جا کر دوبارہ حاضری نصیب ہوتی ہے اور ایک ہم ہیں اللہ تعالٰی کا جب فضل ہوتا ہے تو اپنے اور نبی مکرم ص کے در کی زیارت کی سعادت بخش دیتا ہے۔ ہم بے قدری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہماری حرکات قابل غور و قابل گرفت ہوتی ہیں۔ لیکن اس کی رحمت ہے کی ڈھیل مل جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
آئیں شروع کرتے ہیں مسجد نبوی سے۔ کائنات نے پہلی بار ایک عجب نظارہ دیکھا جب خاتم النیین بذات خود بڑھ چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ آپ ص کی اونٹنی قصوہ جس جگہ بیٹھی وہ دو یتیم بھائیوں سہل اور سہیل کی تھی۔ آنحضرت ص نے اس زمین پر مسجد کی تعمیر کی خواہش ظاہر کی تو دونوں بھائیوں نے اسے بطور تحفہ دینا چاہا لیکن نبی اکرم ص اس پر رضا مند نہ ہوئے اور آخر زمین کی قیمت ادا کرنے کے بعد اس پر مسجد کی تعمیر ہوئی۔ حضرت ایوب انصاری نے زمین کی قیمت ادا کی۔ نبی مکرم نے اس مسجد کو ان کے نام وقف کر دیا۔
ابتداء میں مسجد نبوی، مسجد، کمیونٹی سنٹر، عدالت اور نبیﷺ کے دین اسلام کی تبلیغ کا مرکز ٹھہرا۔ آنحضرت کے پردہ فرما جانے کے بعد مسلمان حکمرانوں نے اس کی توسیع میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مسجد نبوی میں جنوب مشرق جانب سبز رنگ کا گنبد ایک خاص اہمیت کا حامل جہاں دو جہانوں کے سردار صاحب استراحت ہیں۔ ان کے پہلو میں ان کے بچپن کے دوست و یار غار ابو بکر صدیق رض اور عمر فاروق رض جن سے شیطان بھی پناہ مانگتا تھا، آرام فرما رہے ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید دوئم نے 1901 میں یہاں بجلی کا انتظام کیا۔ ماشاءاللہ اب مسجد کافی کشادہ و وسیع ہو چکی ہے۔ اسی گنبد سے آگے جنت البقیع ہے جہاں ایک روایت کے مطابق دس ہزار صحابہ مدفون ہیں۔
مسجد الغمامہ: مدینہ منورہ کی پرانی مساجد میں سے ایک مسجد جہاں آقا دو جہاں عید ین و نماز استسقاء ( بارشوں کے لئے نماز ) ادا کرتے۔ یہ اکثر اوقات مسجد نبوی کے نزدیک ہونے کے باعث بند رہتی تھی لیکن اب اس کی دوبارہ تزئین کی گئی ہے۔ اب یہاں پنجگانہ نماز ادا کی جاتی ہے لیکن اس بات کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ اس کا اندرونی مواصلاتی نظام مسجد نبوی کے مواصلاتی نظام میں گڑ بڑ پیدا نہ کرے۔ یہ مسجد نبوی کے باب الاسلام سے مغرب جانب تقریباً 500 گز کی دوری پر واقع ہے۔
عربی میں غمامہ کی معنی بارش کے ہیں۔ اس مسجد کو ہمیشہ بادل اپنے سائے میں رکھتے تھے۔ مسجد مستطیل نما ہے جس کے دو حصے ہیں پہلا مستطیل نما دروازہ جس کے اوپر پانچ گنبد بنے ہوئے ہیں۔ مسجد کے ہال کی لمبائی 30 میٹرز اور چوڑائی 15 میٹرز ہے اور اس کے اوپر گول دائرے میں چھ گنبد استادہ ہیں۔ سب سے بڑا گنبد محراب کے اوپر واقع ہے۔ مسجد پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ اسے عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور حکومت میں تعمیر کروایا تھا۔ بعد کے حکمرانوں نے اس کی تزئین کو جاری رکھا۔
مسجد قباء: اسلام کی پہلی مسجد جو نبی اکرم ص کے دور مبارک میں آپ کی مدینہ آمد پر تعمیر کی گئی۔ جس سے ثابت ہوا مسلمان جب کسی دوسرے جگہ ہجرت کریں تو سب سے پہلا کام مسجد کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس مسجد کو اپنی بنیاد کا پہلا پتھر رکھنے کی سعادت نبی اکرم ص کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی۔ پھر آپ ص کے جانثاروں نے اس کی تعمیر مکمل کی۔ آپ ص نے 14 دن یہاں پر قصر کی نماز اس وقت تک ادا کی جب تک حضرت علی مدینہ نہیں پہنچ گئے۔
یہاں پر دو رکعات نفل پڑھنے کا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے۔ اسی لئے یہاں مومنین نماز کی ادائیگی ضرور کرتے ہیں۔ آپ ص ہر ہفتے کے دن وہاں جا کر نماز ادا کرتے تھے اور سب کو فرمایا کرتے تھے کہ گھروں سے وضو کرنے اور یہاں آ کر نماز ادا کرنے سے ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ یہ مسجد مدینہ سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر قباء نامی گاؤں میں واقع ہے۔ جو اب مدینہ شہر کا حصہ بن چکا ہے۔
مسجد القبلتین: یہ وہ مسجد جہاں 15 شعبان کو نماز ظہر کے دوران سرکار دو عالم پر وحی نازل ہوتی ہے اور قبلے کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تاقیامت تبدیل کر دیا جا تا ہے۔ آپ کی بار بار کعبہ کی طرف اٹھتی نگاہوں پر اللہ تعالٰی نے قبلہ تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ تاریخی پس منظر رکھنے کی وجہ سے مسلمان یہاں نوافل ادا کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں اس کا شرعی حکم نہیں اور نہ ہی یہ حج و عمرہ کے ارکان میں شامل ہے۔
دنیا کی واحد مسجد جس میں مختلف سمتوں میں دو محراب بنے ہوئے تھے۔ اسے سواد بن غنام بن کعب انصاری نے تعمیر کروایا تھا۔ سعودی حکمران شاہ فہد مرحوم نے اسے دوبارہ 1987 میں از سر نو تعمیر کروایا اور بیت المقدس کی طرف محراب کو گرا دیا گیا۔ لیکن اس محراب کی جگہ وحی کے تاریخی الفاظ کو کنندہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ اس جانب تھا۔ مسجد نبوی اور مسجد قباء کے بعد یہ مسجد مسلمانوں کے ابتدائی دور کی مساجد میں شامل ہے۔
مدینہ جہاں قدم قدم پر آپ کو تاریخی حامل کی جگہیں ملتی ہیں۔ جن میں جنگ خندق، جنگ احد قابل ذکر ہیں۔ احد والے پہاڑ پر نبی مکرم ص ابوبکر صدیق و عمر رض کے ساتھ کھڑے تھے تو وہ لرزنے لگا۔ اس پر آپ نے اس پہاڑ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ تو نہیں جانتا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید کھڑے ہیں۔
دل تو چاہتا ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک ایک چیز کے بارے بیان کروں لیکن مضمون کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیا جا رہا ہے۔ سب جاننے، نہ جاننے والوں کے لئے، پاکستان و تمام امت مسلمہ کی سلامتی کے لئے دل سے دعا اٹھتی رہی۔ اللہ تعالٰی سب کو سلامت رکھے۔ سب کی حاجات پوری ہوں۔ بیماروں کو شفاء کاملہ و عاجلہ عطا ہو۔ آمین


