اساتذہ کی طرف سے قوم کو سبق


ویسے تو اس ملک پاکستان نے بہت سے کامیاب اور ناکام احتجاج دیکھے رکھے ہیں۔ ان میں سے وکلا کی ’کامیاب افتخار چودھری بحالی تحریک‘ بہت متاثر کن رہی۔ اس تحریک کے نتائج کیا برآمد ہو رہے۔ تاریخ میں اسے کیسے یاد رکھا جائے گا، اس سے ہٹ کر اگر صرف دیکھا جائے کہ احتجاجی تحریک کیسی ہونی چاہیے تو اس تحریک سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

اس دفعہ جب اساتذہ اکرام اپنی پینشن اور کچھ الاؤنس وغیرہ کی کٹوتی۔ گورنمنٹ سکولوں کو پرائیویٹ کرنے یا خیراتی اداروں کے حوالے کرنے کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو لگا کہ یہ اپنے احتجاج کو کامیاب اور مثالی بنانے کے لیے ضرور کچھ نیا کریں گئے۔

’ٹرینڈز‘ کی دنیا میں جہاں ہر روز کوئی نہ کوئی ایشو یا انوکھی سی حرکت سوشل میڈیا پر رینک اور پھر ان گراؤنڈ ’امپلیمنٹ‘ ہو رہی ہوتی، یہ تحریک بھی اپنے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ایک نیا رخ دے گی۔ پاکستان جیسے ملک کے باسی، جنہیں آئے دن کسی نہ کسی مانگ کے لیے احتجاجاً سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کے بنیادی انسانی حقوق تک کے لیے سڑکوں پر لاشیں رکھے احتجاج کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شاید یہ لوگ اس تحریک سے کچھ ایسا پر امن، پر اثر طریقہ ضرور سیکھ لیں گئے جو آنے والے وقتوں میں ان کے لیے رہنما اصول بن جائے گا۔

گو کہ اساتذہ کے پاس اپنے مطالبات منوانے کے لیے یہ بہترین وقت تھا۔ پہلا سب سے بڑا پوائنٹ تو ان کے پاس ملک میں نگران حکومت کے اختیارات کو لے کر تھا۔ دوسرا اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کی حکمرانی نہ ہونے پر انہیں کسی سیاسی دباؤ یا مخالفت کا بھی سامنا نہ تھا۔ بلکہ ایسے معاملات میں تو ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی احتجاج ہائی جیک کرنے کی۔ سو وہ متاثرہ لوگوں سے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے ہیں اور اسے کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اوپر سے ملکی حالات بھی ایسے کہ مہنگائی کے ستائے عوام بھی تیار بیٹھے ہوں تو کون ایسے موقعوں کو جانے دے گا۔

ایسی بہترین ٹائمنگ اور حمایت حاصل کرنے کے مواقعوں کے باوجود یہ لوگ کوئی بھی بڑا پر اثر مظاہرہ یا اجتماع نہ کر سکے۔ بلکہ اگر اس تحریک کے نتائج کو دیکھیں تو قومی معماروں کے یونین لیڈران کے بیان سن کر ’شرمندگی‘ سی محسوس ہو رہی ہے۔ جسے بیان کرنے کے لیے صرف ایک جملہ ہی کافی ہے۔

”اساتذہ نے مریم نواز کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا“

اب مریم بی بی نے کس حیثیت میں انہیں کیا یقین دہانی کروائی اور محترم اساتذہ نے ان پر کیسے یقین کامل کر لیا یہ کوئی علم غیب رکھنے والا ہی جان سکتا ہے۔ ہم مایوس بالکل نہیں۔ یا پھر اساتذہ کی طرف حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہم سب کے لیے یہی ’سبق‘ ہے۔

Facebook Comments HS