متحدہ آزاد کشمیر کی نئی پالیسی (حصہ دوم)
جس طرح عراق وار، کورین وار، ویتنام وار اور افغان وار، عراقیوں، کورین، ویتنامیوں اور افغانوں کی جنگیں نہیں تھیں، بلکہ امریکہ کی تھیں، اسی طرح مسئلہ کشمیر بھی انڈیا اور پاکستان کا مسئلہ نہیں، کشمیریوں کا مسئلہ ہے، جس کو تقسیم کا نامکمل ایجنڈا سمجھایا گیا، اور بزور الگ کر دیے جانے والے کروڑوں کشمیریوں کی تکالیف اور خواہشات کو کسی نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔
بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، لیکن ہم نے کشمیریوں کو ریوڑ سمجھ کر کن گلہ بانوں کے حوالے کیا، یہ سمجھ لینے کے لئے ایک مثال پیش خدمت ہے۔
دریائے نیلم کے کنارے بنے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھے، چند بڑے کشمیری گلہ بان، جن میں ایک برسر اقتدار بھی تھا، ہاتھوں میں گلاس پکڑے، اپنی پارٹی کے پاکستانی وزیراعظم کے بارے میں محو گفتگو تھے۔ بڑے صاحب کا خادم خاص انگاروں پر رکھے تکوں کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ موضوع تھا، کہ کبھی آپ کو پاکستان کی خاتون وزیراعظم نے شٹ اپ کہا ہے۔ سب نے اقرار کیا کہ اس کے ساتھ ایسا واقعہ فلاں فلاں حماقت پر ہو گیا ہے۔
اس وقت کے کشمیری گلہ بان نے قہقہہ لگاتے ہوئے اعتراف کیا، کہ اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا، کیونکہ اس نے کبھی بھی اپنی مرضی یا خود سے کوئی کام کیا نہیں ہے، تو شٹ اپ کیوں سننی پڑتی۔ اس پر مجموعی قہقہہ پڑا، تو وہ گلاس رکھ کر چھوٹی انگلی سے واش روم کا اشارہ کر کے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پینٹ کی زپ بند کرتے ہوئے واپس آیا، تو خادم خاص نمک لینے اندر گیا، اور واپس آیا تو خوشخبری سنائی کہ بڑے صاحب واش روم کا دروازہ کھولنے کی بجائے فریج کا دروازہ کھول کر فارغ ہو گئے ہیں۔
گزشتہ مہینے بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج پورے پاکستان میں ہوئی۔ اگرچہ مہنگائی ختم ہوئی نہ بجلی سستی کردی گئی، لیکن جس تیزی سے یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گئی تھی، اتنی تیزی سے معدوم بھی ہو گئی۔ لیکن پاکستانی کشمیر میں وہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور کمزور ہونے کا نام نہیں لیتی۔ احتجاج کشمیر میں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن اس احتجاج کی سرخیل کشمیر میں پاکستانی پراکسی جماعت اسلامی یا اس قبیل کی کوئی دوسری پرو پاکستانی پارٹی ہوتی۔
لیکن اب احتجاج کی پہلی صف میں کشمیری قوم پرست نظر آتے ہیں۔ جس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ احتجاج پاکستان کے خلاف ہو رہا ہو، کیونکہ ماضی میں کشمیری قوم پرست کبھی بھی پاکستان کی چوائس نہیں رہے۔ پاکستان نے ماضی میں ہمیشہ اسلامی لبادے پہننے اور نعرے لگانے والوں کو کشمیر ٹھیکہ کا دلایا لیکن اس دفعہ وہ صرف اس تحریک سے اتنے لاتعلق ہیں کہ کسی جلسے جلوس میں ان کا جھنڈا تک نظر نہیں آتا۔
حافظ سعید کی پارٹی تو عالمی ریڈار پر ہونے کی وجہ سے کشمیر کے معاملے سے الگ تھلگ کردی گئی ہے، لیکن جماعت اسلامی کو کشمیری سیاست سے اسی طرح الگ کرنا، جس طرح افغانستان سے روس کے نکلنے کے بعد الگ کردی گئی تھی، کوئی اور کہانی سنا رہا ہے۔
جیسا کہ اس کالم کے پہلے حصے میں سرسری ذکر کیا گیا تھا، کہ عمران خان نے باجوہ کی آشیرباد سے ٹرمپ اور مودی کے ساتھ مل کر، کشمیر پر کوئی بڑی پیش رفت کردی تھی، لیکن مودی نے پاکستان کی کمزور مالی اور سفارتی حالت کو بھانپتے ہوئے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیا، اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کو بیک جنبش قلم ہڑپ کر لیا، جس پر عمران خان کئی مواقع پر تقریر کرتے ہوئے بہت سیخ پا ہو گیا تھا۔ پاکستان کی مالی انتظامی اور سیاسی صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئی ہے، اس لیے اب لگتا ہے، کہ بھارت پورے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لئے منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کی ایک مثال بھارتی عدالت کے ذریعے ہڑپ کیے گئے کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرانا اور پھر سارے کشمیر کو نئے سرے سے ہڑپ کرنا لگتا ہے۔ چونکہ پاکستان اس وقت کوئی قابل ذکر عسکری یا نتیجہ خیز سفارتی سرگرمی دکھانے میں ناکام رہا تھا، جب معاہدے سے روگردانی کر کے مودی نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت بدل دی تھی، اس لیے آگے بھی اسے روکے جانے کا کوئی خاص ڈر نہیں ہے۔
”کشمیر بھارت سے واپس چھیننا، بغیر جنگ کیے اس کے لئے سازگار ماحول بنانا، سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھرپور محاذ کھولنا، اور کشمیریوں کو ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد کرنا، پاکستان کی نئی سٹریٹیجی کے اہم نکات ہیں“ یہ جملہ پچھلے کالم کے اختتام پر میں نے اس لیے درج کیا تھا تاکہ موجودہ کالم میں اس کی توضیح ہو سکے۔
مظفر آباد، پونچھ اور کچھ دوسرے علاقوں کی طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر سے متصل پاکستانی علاقوں استور اور سکردو میں بھی، اسی طرح کی ایک احتجاجی تحریک نے، وہاں کے انتظامیہ کو ہفتوں تک شل کر دیا، اگرچہ اس کی وجوہات مہنگائی نہیں بلکہ مسلکی انتشار تھا، جو کہ شہباز حکومت نے جاتے جاتے، مسلکی بنیادوں پر، بلا ضرورت قانون سازی کر کے جان بوجھ کر پیدا کر دیا تھا۔ مسلکی ٹینشن بڑھ جاتی ہے تو گلگت، ہنزہ، استور، سکردو اور متصلہ علاقوں کے باشندوں کی آمدورفت چلاس میں روک دی جاتی ہے۔
اس دفعہ بھی یہی ہوا، تو استور میں احتجاج کرنے والوں کی کارگل کا راستہ کھولنے اور اسے اختیار کرنے کی دھمکیاں سنی گئیں۔ کچھ تجزیہ نگار شمالی علاقوں کے انتشار کو چین اور امریکہ کے درمیان عالمی تنازعہ کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ انتشار واقعی امریکہ نے برپا کر کے سی پیک کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے، تو پھر جواز بنتا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ سے مسلکی بنیادوں پر مبنی مذکورہ قانون سازی بھی امریکہ کے کہنے پر کرائی گئی ہوگی۔ جو کسی طرح بھی صائب تجزیہ نہیں بنتا۔
کشمیر پر نظر رکھنے والوں نے دیکھا ہو گا، کہ پاکستان نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ان گروہوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھا دیا ہے، جو مذہبی پہچان رکھتے ہیں، اور کشمیر بزور شمشیر کا نعرہ لگا کر، اسے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خاطر آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ دوسری طرف متحدہ آزاد کشمیر کے زبردست حامی اور اس کی خاطر انتہائی تکالیف برداشت کرنے والے یاسین ملک اپنے ماضی کے مسلح جدوجہد سے توبہ تائب ہو کر سیاسی جادہ پیمائی پر تیار ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود پرانے کیسز میں بھارتی جیلوں میں قید و بند کی تکالیف اور پھانسی لگائے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
جس طرح اپنے کیے پر پچھتاوا ظاہر کرنے کے باوجود باوجود یاسین ملک پر قتل کے مقدمات دوبارہ چلانے کی بھارتی کارروائی کی بظاہر کوئی تک نہیں بنتی۔ اسی طرح بغیر کسی میرٹ کے یاسین ملک کی بیوی، مشعال ملک کی پاکستان کی نگران کابینہ میں، جس کی پوری نامزدگی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق کا عہدہ سنبھالنے کی بھی کوئی توضیح، اس کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی، کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی بدل دی گئی ہے۔
تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال، پاکستان کی کمزور مالی حیثیت اور سفارتی تنہائی کے بعد ، اندازہ ہے، کہ پاکستان نے اپنی پرانی کشمیر پالیسی تبدیل کردی ہے۔ ستتر سال کی بھرپور کوششوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا تو کجا پاکستان اس کی پرانی حیثیت برقرار رکھنے میں بھی ناکام ہو گیا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ موجود دوسرے آپشنز پر کام شروع کر دیا جائے۔ جس کی سن گن بھارت کو پہلے سے مل چکی ہے، اس لیے اس نے یاسین ملک کے پرانے مقدمات دوبارہ کھول کر اسے میدان سے دور کر دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیری قوم پرستی پر مبنی پاکستانی کشمیر میں بظاہر مہنگائی کے خلاف رواں احتجاجی تحریک، کیا بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کسی طرح مربوط ہو سکتی ہے؟ جہاں سے ہم آواز ہو کر دونوں طرف کے قوم پرست متحدہ آزاد کشمیر کے لئے نئے جدوجہد کا آغاز کر دے۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ بقایا کشمیر بھارت کے ہاتھوں میں جانے سے بچ جائے گا بلکہ پورہ کشمیر ایک آزاد وحدت میں متحد ہو کر پاکستان کا دوست رہے گا۔
استور اور سکردو میں پیدا کیا گیا حکومتی انتشار، پاکستانی کشمیر میں جاری بظاہر مہنگائی کے خلاف احتجاج، اس احتجاج سے جماعت اسلامی کی دوری، بھارت میں بلا عذر گرفتار یاسین ملک، اور پاکستان کی عبوری حکومت میں شامل اس کی بیوی، ایسے کافی نکات ہیں کہ جس کو ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنی پرانی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کر کے متحدہ آزاد کشمیر کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت شروع کردی ہے۔
رہے عادل راجہ اور حیدر مہدی، تو قبل از وقت ریٹائرڈ کرائے جانے والے آرمی افسران اتنے ماہر تجزیہ نگار ہوتے جتنے یہ دونوں دکھائی دیتے ہیں، تو پھر قبل از وقت ریٹائرڈ کیوں کروائے جاتے؟


