طبعی یا غیر طبعی موت


غیر طبعی موت کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جس میں ضرورت سے زیادہ کھانا پینا بھی شامل ہے۔ دراصل جیسے مشین کو ایک خاص حد تک تیل وغیرہ درکار ہوتا ہے ویسے ہی انسان کو بھی اعتدال میں رہ کر کھانا پینا ہوتا ہے۔ لیکن بے اعتدالی کی ابتداء بچپن میں ہی ہو جاتی ہے جب والدین بچوں کو زیادہ میٹھا یا نمکین کھانے کی کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں جس سے چھوٹی عمر ہی میں ان میں ذیابیطس، بلند فشار خون وغیرہ کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں

اسی طرح ذہنی دباؤ بھی موت کی بہت بڑی وجہ ہیں جس کی ابتداء بچپن میں یوں ہو جاتی ہے کہ والدین بچوں کو ان کے مطالبے پر ہر چیز مہیا کر دیتے ہیں۔ جبکہ بعد کی زندگی میں انہیں ایسی عیاشی نہیں ملتی۔ جس سے ان میں ذہنی اضمحلال، دباؤ اور پریشانی جیسے امراض لاحق ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ جو خودکشی پر بھی منتج ہو جاتے ہیں۔

پھر بچے بیمار ہونے کے باوجود نوکروں کو رشوت دے کر بیمار کرنے والی چیزیں خرید لیتے ہیں۔ ہم ایک ایسے بچے سے واقف ہیں کہ جسے روزانہ انسولین کے ٹیکے لگتے ہیں لیکن وہ پھر بھی نوکروں کو رشوت دے کر میٹھی چیزیں خریدتا ہے۔ حالانکہ یہاں ہونا یہ چاہیے کہ والدین ایسے بچوں کو ایک خاص عمر تک خود اپنے ہمراہ خریداری کرائیں۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جو آگے چل کر ایسے بچوں کی طبعی عمر کم کر دیتا ہے۔ ہم ایک ایسے امیر گھرانے سے بھی واقف ہیں کہ جن کے بچوں میں پیدائشی طور پر گردے میں پتھریاں ہوتی ہیں لیکن وہ بچوں کو تیتر، بٹیر، مور اور ایسے نایاب جانوروں کا گوشت کھلاتے کہ جو ہاضمے کے دوران گردوں پر بھاری پڑتے ہیں۔

نتیجتا یہ کہ ان میں سے ایک بچے کے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایسے بچوں کو شروع ہی سے ایسے کھانے کھانے کی عادت ڈالنی چاہیے تھی کہ جو گردوں پر کم سے کم دباؤ ڈالیں۔ اسی طرح لوگ آلو کے چپس، نمکو وغیرہ بہت زیادہ کھانے لگے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب تک بچے بڑے ہوتے ہیں، تو ان میں مضر صحت اشیاء کھانے کی عادت پختہ ہو چکی ہوتی ہے۔ اب لوگ مختلف نمکو بسکٹ کے بڑے بڑے ڈبے لا کر گھرمیں رکھ دیتے ہیں کہ تھوک کے بھاؤ یہ سستے پڑتے ہیں لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ وہ جب چاہیے ایک کھا لیتے ہیں یوں بچوں اور بڑوں دونوں کی صحت خراب ہو رہی ہے۔

ہسپتال جائیں تو ایسی عمارتیں بیمار بچوں، بڑوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ لوگ احتیاط خود نہیں کرتے اور پھر الزام ڈاکٹروں پر آ جاتا ہے۔

اسی طرح ہم اکثر سنتے ہیں کہ دولہا یا دلہن شادی کی رات مرہ پائے گئے ہیں۔ اس کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین بچوں کی شادیاں جبر سے طے کرتے ہیں جو بچے برداشت نہیں کر پاتے اور خودکشی کر لیتے ہیں۔ اس میں بچوں اور بڑوں دونوں کا قصور ہوتا ہے۔ اب والدین کو چونکہ ان کے والدین نے بچپن میں جس چیز کی فرمائش کی ہوتی ہے وہ دلا دیتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ جس سے وہ چاہیں، ان کے بچے ان کی مرضی کی شادی کر لیں۔ دوسری طرف ان کے بچے جن کی والدین بچپن سے ہر چھوٹی بڑی فرمائش مان رہے ہوتے ہیں لیکن اب اچانک اپنی مرضی ٹھونستے ہیں تووہ بھی یہ برداشت نہیں کر پاتے۔ اور شخصیات کا یہی تضاد بچوں یا والدین میں سے کسی ایک کی خود کشی یا قتل پر منتج ہوتا ہے۔

اسی طرح اولاد کی خواہش کو دیکھ لیجیے۔ جب کسی کی ایک دو اولادیں ہو جائیں تو اصولاً تو انہیں مزید اولاد کی خواہش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ زمین کے وسائل بھی محدود ہیں اور یہ عمل عورت کے لیے ایک طرح سے مر کر دوبارہ زندہ ہونے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن مرد، دیگر رشتہ دار اور خود عورتیں بھی زیادہ بچے پیدا کرنے کی خواہش میں اس عمل سے بار بار گزرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ یا تو وہ بہت کمزور یا پھر بہت زیادہ فربہی کا شکار ہو جاتی ہیں جو کہ آخر کار ان کی طبعی عمر کے عرصے کو کم کر دیتی ہے یا پھر زچگی کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ایسی صورت میں قدرتی موت صرف اس صورت میں کہی جا سکتی ہے کہ جب عورت حاملہ ہونے سے پہلے مکمل صحت مند ہو، حمل کے دوران عورت اور بچے کی غذائی ضروریات اور ادویات کا خیال رکھا گیا ہو اور زچگی کے وقت ڈاکٹر سے کوئی غفلت نہ ہوئی ہو اور زچگی کے دوچار مہینوں بعد تک بھی عورت کی غذائی ضروریات اور ادویات کا مکمل خیال رکھا گیا ہو اور پھر بھی عورت کا انتقال ہو جائے تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ واقعی فلاں کا ”بہ قضائے الہی“ انتقال ہوا ہے، ورنہ نہیں۔

اسی طرح شادیوں پر ہوائی گولی لگنے سے بے گناہ لوگ مر جاتے ہیں لیکن ہم ان کو بہ قضائے الہی ہر ہر گز نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو سراسر قتل ہوتا ہے، طبعی یا قضائے الہی کی موت نہیں کیونکہ لوگ اگر شادیوں پر ہوا میں گولیاں نہ چلائیں تو کوئی نہیں مرے گا۔ اپنی نا اہلی اور بے گناہوں کی جان کی پروا نہ کرنے کو رضائے الہی ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے افراد پر سیدھا سیدھا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل عمد (مرڈر فرسٹ ڈگری) کا مقدمہ چلا کر سزا دینی چاہیے۔

اگر ایسے ہی گولیاں چلا کر خوشی منانا ہے تو پھر جب بڑے پیمانے پر جنگ چھڑتی ہے تو اس وقت اس کی مذمت کیوں کرتے ہیں؟ اس پر بھی خوشی منانا چاہیے۔ اگر کہا جائے کہ وہ تو بندوق کی گولیاں ہوتی ہیں اور یہ میزائل ہوتے ہیں تو امیر لوگوں کے لیے میزائل بھی مہنگے نہیں، وہ میزائل بھی مار کر خوشی منا سکتے ہیں۔ پھر پٹاخے کیوں پھوڑیں، ہینڈ گرنیڈ مار کر خوشی منائیں۔

آخر میں صرف اتنا کہ اگر تو یہ کالم پڑھ کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں
اپنی طویل غیر حاضری کے حوالے سے اتنا کہہ دیتے ہیں کہ
بشر دلی راز کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے
نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بے کار ہوتا ہے

Facebook Comments HS