میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
تاریخ کے قرطاس پہ، کئی محاذوں پہ، داستانیں رقم کرتے ہوئے مشاہیر کی مادر علمی، یکم جنوری 1864 کو منصہ شہود پر آئی، جسے گورنمنٹ کالج کے اسم سے نوازا گیا۔ ادارے کے آدرش، قواعد و ضوابط، اور تعلیمی و تنظیمی معاملات، ارتقائی مراحل سے سجل سے گزرتے، مرتب ہوئے۔ ڈیڑھ صدی سے زائد کے دورانیے میں، آزادی اور تقسیم کی لکیروں کے کھینچنے کے اثرات بھی عیاں ہیں۔ ادارے کا بنیادی نصب العین، courage to know عظمت کی بالا قامت کا استعارہ ہے۔ غالباً گزشتہ برس، جناب وجاہت مسعود نے انہی صفحات پہ کیا خوب جواہر بکھیرتے ہوئے لکھا، ”گورنمنٹ کالج لاہور ایک درس گاہ نہیں، ہمارے تمدنی ارتقا کا اشاریہ تھا۔“ جاننے کی جستجو ”اس ادارے کا اعلان ہی نہیں تھا، یہاں ایک ایک اینٹ پر علم، تحقیق اور تخلیق کے نشان ثبت تھے۔“
ہندوستان کی زمین پہ، سوچ کے دریچے وا کرنے والی اولین درسگاہوں میں گورنمنٹ کالج، ایک کلیدی مقام کا محصول ہے۔ اس کے ماحصل، کرہ ارض پہ پھیلی غارت گری اور شب کی سیاہی سے مجادلے میں عمر گزارتے۔ اس سلسلے میں، خوبصورتی کی معراج محسوس کیجیے کہ فرخ مند، ریاست کے نصاب میں مسند نشیں، محمد اقبال اور شہر کے گوشوں میں بکھرے ہوئے سر بریدہ خوابوں کو ترتیب دینے والے ”اندھا کباڑی“ کا تخلیق کار، نذر محمد راشد، دونوں کے تعلق کی ڈوری، اسی ادارے سے بندھی ہوئی ہے۔
اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی موانست کے شاہد، اسی ادارے کے ”باغیچہ محبت“ کے انہی کے ہاتھوں کے لگائے ہوئے محبت کے پھول ہیں۔ اسی کالج کا شہاب، پنجاب پبلک لائبریری میں ایمن آباد کی چندراوتی کو کتاب اور دل دیتے ہوئے، لاہور سے، فلپس کی بائیسکل پر، ایمن آباد کا سفر طے کرتے ہوئے ایک خوبصورت داستان چھوڑ جاتا ہے۔ وہی قدرت اللہ شہاب، انڈین سول سروس میں ممتاز کامرانی کا سہرا سجاتا ہے۔ لمحے زقند بھرتے ہیں اور سامراج کی رخصتی تقدیر کے لوح پہ کندہ ہو جاتی ہے۔ آزادی کی عطا کے ساتھ تقسیم کا تحفہ ملتا ہے۔ ادارہ، نودمیدہ مملکت میں گیان کی تقسیم کے ہتھیار سے جہل کے عفریت کو ہزیمت کی ہم رکابی ودیعت کرنے کی خاطر، مصمم عزم باندھتا ہے۔
تقسیم کے بعد ، میکالے کی تعلیمی پالیسی سے انحراف کے سائے میں، دشت و بیاباں کی بنجر زمین کو سیراب کرنے کا بیڑا اٹھائے، گورنمنٹ کالج کے ارباب علم و دانش نے بے شمار تلامذہ کی تشنہ لبی کو آب لبریزی میں مبدل کرنے کی سعی فرمائی۔ ان میں کئی اسم گرامی تاریخ کے قرطاس پہ سنہری حروف میں کندہ ہو کر اپنی جہد سنا کر ورطہ تحیر میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جاننے کی جستجو والوں کے لیے، سرمد صہبائی صاحب نے چند ماہ قبل، ڈاکٹر نذیر احمد صاحب، بصارت میں، پرنسپل کے عہدے پہ متمکن، مگر بصیرت میں تلامذہ گورنمنٹ کالج کے لیے باپ کا درجہ رکھے ہوئے، کے خوبصورت انداز فکر کو زیب قرطاس کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی، ارض کے اس اقلیم کے درماندہ انسانوں کی زندگی کی شب میں چراغ کی روشنی سے عبارت اور نہایت عاجزی کا پیکر تھی۔
اساتذہ کے الطاف میں خامہ فرسائی کے ذوق کی آبیاری، درجہ اول ہے۔ کاغذ پہ بکھرے لفظوں کی سیاہی سونگھنے اور خیال کو سمیٹنے کی خواہش ہوئی، اظہار سے قبل، جہالت کو شکست دینے کے عہدے پہ مرتبت اساتذہ نے سنٹرل لائبریری کی جانب دھکیل دیا جہاں رفتگان سے شناسائی پائی۔ لشٹم پشٹم، دشت نوردی کی خواہش کے مکین کو سرما کی مدھم دھوپ کی کرنوں میں اوول گراؤنڈ کے سبز فرش پہ تکیہ کر کے، رفتگان کے خیال کی کھوج کا موقع میسر آیا۔
کبھی سرمئی گھٹا میں ٹاور کے نیچے پناہ ڈھونڈی تو پطرس بخاری کے دور کے گورنمنٹ کالج کو، تخیل میں رقص کرتے پایا۔ کسی شام، دل مچل اٹھا، تو حلقہ یاراں میں، ایمفی تھیٹر ، کی نشستوں پہ جا بسیرا کیا، ن م راشد کی نظم سے شناسائی پائی، فیض صاحب کے کلام کو خوبصورت لحن میں سنا، کلاسیکی ادب کے کسی ڈرامے کی ریہرسل کی بصارت میں، یا عمدہ موسیقی کے ساز میں آسودگی کو پایا۔ پوسٹ گریجویٹ بلاک کی عمارت میں لگاتار کئی گھنٹے بیٹھنے سے اکتاہٹ ہوئی تو بخاری آڈیٹوریم کا رخ کیا، جہاں کسی سنجیدہ موضوع پہ منعقدہ کانفرنس میں، ایک مخصوص شعبے میں عبور حاصل کیے ہوئے متعلقہ فرد کی گفتگو سے کئی نکات پائے۔
فرحت سے لبریز، برکھا کی برستی بوندوں کی سرسراہٹ میں انٹر کیفے کی چائے سے لذت کشید کرتے شب و روز، لطیف مسکراہٹ کی مشاطگی سے آرائش سرمئی شامیں، بارش کے بعد رات کے سمے، آسمان پہ چاند کی نمائش کی بے کراری اور پھر بصارت، مگر گزر گئے کہ تغیر کو ثبات ہے۔ غالب برجستہ یاد آ گئے، ”جی ڈھونڈتا پھر وہی فرصت کہ رات دن/ بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔“
گمان ہے کہ پڑھنے والے کے لیے، یہ تکلم مثالیت کا عکس ہو یا افسانوی حیثیت رکھتا ہو مگر ایک راوین کے لیے یہی کل متاع شادمانی اور حقیقت ہے۔ انتزاع کی اس گھڑی میں یادوں کی باز آفرینی کا سبب، گزشتہ ایام میں، ابلاغ کے جدید ذرائع کے متفرق پلیٹ فارمز پر گردش کرتیں، وہ عکس بندیاں ہیں جو انہی در و دیوار سے الفت کے دعوی داروں کی ارواح کے لیے خار مغیلاں ہیں کہ ماضی قریب میں بخاری آڈیٹوریم کی دیواریں، عالی مرتبت کی آرزو پہ تمسخر کی منتہا پہ، بدیسی گیت پہ لغو حرکیات سے آشنا ہوئیں۔
ہر چند کہ جمالیاتی ذوق کی آبیاری، گورنمنٹ کالج، کو دیگر اداروں سے ممتاز بناتی ہے، اسی سلسلے میں کئی سوسائٹیز، سرگرم ہیں مگر جمالیات کے ذوق کے معیار، بہت ارفع قامت تھے۔ ابھی بخاری آڈیٹوریم میں کیمرے میں مقید، ویڈیو پہ اشک کا چشمہ تھمنے کو نہ آیا تھا کہ ارجمندان دولت کی فراٹے بھرتی موٹر کاریں، نمائش کی غرض سے گورنمنٹ کالج کے دروازے سے داخل ہو کر، مین ٹاور کے قرب میں مختلف کرتب کرتی دکھائی دیں۔
مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ سمیت، بیشتر شعبوں میں رفعت تک پہنچے، اس درسگاہ کے حاذق سپوت، مادر علمی کی آبروریزی پہ نہ صرف کبیدہ خاطر ہوئے بلکہ رنجیدگی مخفی نہ رکھ سکے اور سر بازار تنقید کے نشتر کا ایک ریلا، مسند نشیں کی جانب آ گرا۔ نالہ فریاد و شیون کا اظہار کیوں نہ کریں کہ گورنمنٹ کالج کے متعلقہ عہدے پہ متمکن، دانش کے منبع، زہد و تقوی کے داعی، صاحب اقتدار نے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کیوں کر کی کہ یہ وہ مسند تھا جہاں کبھی پطرس بخاری، ڈاکٹر نذیر احمد اور کئی معتبرین براجمان ہو کر، اس کے وقار میں اضافے کا باعث بنتے۔ گورنمنٹ کالج کے اس سنہری دور سے واقفیت کی بنیاد پہ محسن نقوی یاد آتے ہیں،
دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح
صورت سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اسی کی نذر ہوئیں
میں نے پایا تھا رت جگوں میں اسے
یہ مگر دیر کی کہانی ہے
یہ مگر دور کا فسانہ ہے
کیا خبر ان دنوں وہ کیسا ہے؟
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا


