پراجیکٹ عمران خان کے بعد پراجیکٹ نواز شریف


اکیس اکتوبر 2023 کو نواز شریف کی واپسی ہوئی اور مینار پاکستان میں فقید المثال جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ ملک بھر سے قافلے کی صورت لوگ پہنچے اور یہ ایسا ہی منظر پیش کر رہا تھا جب بینظیر طویل جلا وطنی کاٹ کر اٹھارہ اکتوبر 2007 میں پاکستان پہنچی تو کراچی ائر پورٹ پر استقبال کے لیے ایک جم غفیر امنڈ آیا تھا۔ سکیورٹی کے ناقص انتظامات تھے۔ استقبالی جلسے پر بم دھماکہ ہوا۔ سینکڑوں کارکن لقمہ اجل بنے۔ بے نظیر اس وقت تو بال بال بچ گئیں مگر دو ماہ بعد ایک ایسی خون رنگ داستان رقم ہوئی جس کے دھبے آج تک نہیں دھل پائے ہیں۔

نواز شریف نے مینار پاکستان میں جلسے سے خطاب کیا اور ساتھ ہی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل اور بیانیے کے ابتدائی نقوش پیش کیے۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نواز شریف کے جرم خانہ خراب کو اسی بارگاہ سے عفوئے بندہ نوازی کا پروانہ ملا جہاں سے وہ راندہ درگاہ ہو کر نکلے تھے۔

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے دل میں بدلے کی تمنا نہیں ہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دوں، میں ایسا نہیں کرتا۔ اسٹبلشمنٹ کا تذکرہ صرف دو بار کیا اور وہ بھی اشاروں کنایوں میں۔ نواز شریف کی تقریر سے واضح تھا کہ وہ جی ٹی روڈ پر نعرہ زن ”ووٹ کو عزت دو“ والے نواز شریف نہیں ہیں۔ یہ بیانیہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اور اس بدلاؤ کی وجوہات بھی واضح ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمارا بیانیہ روٹی کی قیمت سے پوچھو۔ ڈالر کے ریٹ سے پوچھو۔ پیٹرول کی قیمتوں سے پوچھو۔ ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ مہنگائی کو قابو کیا۔ معیشت مضبوط کی۔ میٹرو بنائے۔ موٹرویز کی جال بچھائی۔ عمران خان کا کوئی ایک منصوبہ بتاؤ جو پایہ تکمیل کو پہنچا ہو۔ معیشت تباہ ہو گئی۔ پٹرول میرے دور میں 60 روپے فی لیٹر تھا۔ آج تین سو کا ہو گیا۔ ڈالر 104 سے چھلانگ لگا کر 250 تک پہنچ گیا۔ روٹی کی قیمت 4 روپے تھی۔ آج 20 کی ہو گئی ہے۔ بجلی کے بل غریب عوام کے بس سے باہر ہیں۔ ہم نے ملک کو اندھیروں سے نکالا۔ لوڈشیڈنگ ختم کی۔ آج ہمیں وہیں سے شروع کرنا ہے جہاں ہم نے خراب کیا۔ ہمیں ایک نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔

علاوہ ازیں نواز شریف نے اپنی قربانیوں، مظلومیت اور جھوٹے مقدمات میں پھنسائے جانے کی روداد بھی سنائی۔

مجموعی طور پر نواز شریف کی تقریر میں دم تھا۔ بہت ساری چیزیں حقائق پر مبنی ہیں۔ موٹرویز، میٹروز، معیشت کی بحالی اور خارجہ تعلقات میں بہتری سمیت اقدار سے نکالے جانے کی باتیں الظہرمن اشمس ہیں۔ اگر معروضی بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے تو نواز شریف کا اقتدار قدرے بہتر رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی وہی بہتر آپشن کے طور پر موجود ہیں۔ ہر چند اس میں شک نہیں کہ اداروں کو مضبوط کرنے، نظام میں بہتری لانے اور جمہوریت کی داغ بیل ڈالنے میں نواز شریف نے بھی دیگر سیاست دانوں کی طرح کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا۔

تین بار اقتدار ملنے کے باوجود ان کی ترجیحات سسٹم کو مضبوط کرنے یا لانگ ٹرم معاشی، جمہوری، سماجی اور تعلیمی پالیسیاں تشکیل دینے کے بجائے میگا پراجیکٹس رہے۔ زیادہ تر عارضی اور اگلے الیکشن تک کے اقدامات ہی اٹھائے گئے۔ آج سسٹم جان بہ بلب ہے۔ نظام عدل کی بے انصافیاں، بیوروکریسی کی من مانیاں، تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، سسٹم میں زہر کی طرح پھیلتا کرپشن، رشوت خوری اور اقربا پروری، طاقت ور اداروں کی اپنی حدود سے تجاوز کرتی کارستانیاں اسی طرح موجود ہیں۔ اس باب میں نواز شریف بھی اتنے ہی مجرم ہیں جتنے باقی سیاست دان۔

نواز شریف اور باقی سیاست دان یہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ آج تک کسی وزیراعظم کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، اصل حاکم کوئی اور ہے، طاقت کا سرچشمہ کہیں اور سے پھوٹتا ہے، یعنی ”چاہتے ہیں سو آپ، کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا“ مگر سوال یہ ہے کہ اس اصل حاکم کو بیرکوں اور سرحدوں تک محدود کرنے میں آپ جمہور نوازوں کا کیا کردار رہا؟ آپ سب سیاست دان مل کر کوئی لائحہ عمل طے کیوں نہیں کرتے؟ آپ لوگ اقتدار تک رسائی کے لیے ان پامال راستوں کا ہی کیوں انتخاب کرتے ہو جن پر چل کر کوئی بھی آج تک منزل مقصود تک نہیں پہنچا؟

آپ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے، سیاسی حریف کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنے کے لیے آخر اس حاکم کی طرف ہی کیوں دیکھتے ہیں جو آج تک کسی کا اپنا نہ ہوسکا؟ آج بھی آپ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہو جس نے آپ سب کو اپاہج کیا، سسٹم کو چلنے نہیں دیا، سیاسی، معاشی استحکام آنے نہیں دیا۔ کل آپ اس سایۂ مہربان سے محروم تھے تو اس حاکم کو دوش دے رہے تھے۔ آج اگر کوئی اور زیر عتاب ہے تو کیا کل پھر سے آپ کی واٹ نہیں لگے گی؟ آپ آخر کب تک ان دائروں میں سفر کرتے رہیں گے؟

نواز شریف کے گھنٹے سے طویل خطاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے، فوج اور مخالفین کے گناہ معاف کرنے، معیشت اور عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کے لیے پرعزم ہیں۔

فوج کے گناہ معاف کرنا آسان ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیا وہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو بھی بخش دیں گے؟ اس سوال کا جواب محل نظر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ مقتدرہ عمران خان کو ٹھکانے لگانے اور پی ٹی آئی کو اقتدار کے ایوانوں سے محروم کرنے کا ”ادارہ جاتی“ فیصلہ کرچکی ہے، بظاہر یہ مشکل لگتا ہے کہ نواز شریف روایت سے ہٹ کر کوئی چال چلیں گے۔ اس کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی مجبوریوں کو پاؤں تلے روند کر اور مصلحت کیشی کا دامن جھاڑ کر اعلٰی ظرفی اور جمہوریت نوازی کی خوئے دل نوازی درکار ہے۔ یہ خوبی موجودہ کسی سیاست دان میں نہیں ہے۔

وطن واپسی سے پہلے لندن میں سہیل وڑائچ کی جب نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ تجربہ کار اور کہنہ مشق سیاست دان ہیں۔ آپ کو عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی انتقامی کارروائیوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اس پر نواز شریف کا کہنا تھا:

تحریک انصاف کے چیئرمین سیاستدان نہیں بلکہ وہ تو سیاست اور سیاست دانوں کے سرے سے ہی مخالف ہیں اب جبکہ وہ خود اپنی ہی پالیسیوں کی سزا بھگت رہے ہیں تو ہمیں ان کو بچانے کی کیا ضرورت ہے؟

اقتدار کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ نواز شریف اور مقتدر حلقے بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان کو ”لیول پلینگ فیلڈ“ کا موقع دیا گیا تو عوامی مقبولیت اور انتقامی کارروائی کی وجہ سے مظلومیت کی قبا اوڑھے خان صاحب کلین سویپ کر جائیں گے۔ سیاسی حریف کے لیے یہ کشادہ دلی اور اصولوں کی سیاست اپنے ہاں عنقا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ ایک مقبول سیاست دان کو جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال کر اکیلے دوڑ کر فرسٹ آ بھی گئے تو یہ کیسی جیت ہوئی؟ اس پر کیا جشن طرب منانا۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ لڑکوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ تین بار وزارت عظمٰی سے محرومیوں کے بعد یہ نکتہ تو آپ کی سمجھ میں آ جانا چاہیے تھا۔ کل آپ کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا تھا، آپ کو کیسز میں پھنسایا گیا، عمران خان کو لانچ کیا گیا۔ آج پنڈی کی دلفریب ہوائیں آپ پر مہربان ہیں اور عمران خان طوفانوں کے زد میں ہیں۔ مستقبل میں یہ سیاہ تاریخ اسی طرح خود کو دہراتی بھی تو سکتی ہے۔ یہاں تو ڈراما ایک ہی چلتا ہے اور اسکرپٹ بھی نہیں بدلتا۔ صرف کردار بدلے جاتے ہیں۔

کل عمران خان آپ کے حلق میں اسیری کا طوق ڈال کر جلسوں میں بڑی رعونت سے کہتا تھا کہ میں نواز شریف کے سیل سے ٹی وی اور اے سی نکال دوں گا۔ آج وہ قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہا ہے۔ اس آگ کو بنی گالہ سے ہوتی ہوئی جاتی امرا پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

جلتے گھر کو دیکھنے والوں پھوس کا چھپر آپ کا ہے
آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے، آگے مقدر آپ کا ہے
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

Facebook Comments HS