لیک ویڈیو۔ سحر کے نامرد عاشق کی سرکوبی ضروری ہے


ٹک ٹاک جب آیا تو اس وقت سے ہی یہ بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا تھا، پھر اس میں تبدیلی آئی، لوگوں نے اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کو اپنا بھی لیا، پھر دیگر پلیٹ فارمز نے بھی اس قسم کی ویڈیوز کا آپشن نکالا، جو ریلز کے نام سے چلا، اس پر پھر ویلاگنگ بھی آسان ہو گئی، لوگ چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنانے لگے، ان ویڈیوز سے کئی لوگ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے، نوجوان لڑکیاں اس پلیٹ فارم سے اٹھیں اور مین سٹریم اداکارائیں بن گئیں، اور کچھ انہی پلیٹ فارمز پر انفلوئنسرز بن گئے۔

انہی میں سے ایک لڑکی علیزہ سحر یا علیزے سحر بھی ہے، گاؤں کے حوالے سے، پنجاب کے دیہاتی ماحول اور لباس میں اس کی منظر کشی کرتی رہی، اور کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کی، سادگی اور حسن کا امتزاج تھا، مقبول ہوتی گئی، اور پھر نوجوان لڑکے لڑکیاں جب اس عمر میں ہوتے ہیں تو پیار محبت بھی ہو جاتا ہے، تو اس کو بھی ہو گیا، بس مسئلہ یہ ہوا کہ اس بیچاری نے محبت کرنے کے لئے بندہ غلط چن لیا، جس سرزمین میں ہیر کی خاطر خود کو تباہ کرنے والا رانجھا پیدا ہوا ہو، جہاں پنوں پیدا ہوا جو سسی کے ساتھ صحرا میں دفن ہو گیا، جہاں مہینوال سوہنی کی خاطر دریا میں کود گیا، ایسے عاشقوں کی دنیا میں اب ایسے ناہنجار قسم کے لوگ بھی پیدا ہو گئے ہیں جو کسی کے لئے خودکشی کا باعث بن چکے ہیں، ایسے لوگ ناسور ہیں جو کسی کی زندگی تباہ کر دیں، بلیک میلنگ، پھر دباؤ پھر ایک غلطی کے بعد مزید غلطیوں پر اکسانا، مجبور کرنا، اور آخر میں دھوکہ دینا۔ یہ عاشقی نہیں ہے یہ ظلم ہے۔

اور اس سے بڑھ کر ہمارے معاشرے کا المیہ، یہاں دو طرح کے لوگ ہیں، پہلی طرح کے ہمیشہ لڑکی کا قصور نکالتے ہیں، ان کے نزدیک کسی مغربی لباس والی خاتون کے ساتھ ایسا ہو جائے تو بھی اس لڑکی کا قصور اور دیسی رہن سہن والی سحر کے ساتھ کچھ ہو جائے تو وہ بھی لڑکی کا قصور۔ کیا وہ اپنی ویڈیو اکیلے بنا رہی تھی؟ کیا اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں تھا؟ وہ تو مظلوم ہے اس واقعے میں، اپنی مرضی سے اپنی کسی بھی قسم کی ویڈیو بنا کر کسی کو بھیجنا اس کا ذاتی فعل ہے، اس پر صحیح غلط کا فیصلہ وہ شخص کرے جس کو سو فیصد یقین ہے کہ وہ مکمل پاکباز ہے، مسئلہ ہے اس ویڈیو کے اپلوڈ کرنے والے کا ، اس مجرم کو ڈھونڈ کر اس کی سرکوبی کرنے، اس کے خلاف، اس رویے کے خلاف بات کرنے کی بجائے اس بیچاری لڑکی کی ہی کردار کشی کر دی جاتی ہے، انہی وجوہات کے باعث لڑکیاں ایکسلپلائٹ ہوتی ہیں، وہ کسی ایسے شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور عزت بچانے کے چکر میں عزت گنواتی رہتی ہیں، اور ایسے مجرم آزاد گھومتے رہتے ہیں۔

یہ تنقید کرنے والے لوگ عموماً پڑھے لکھے اور مذہبی رجحان والے لوگ ہوتے ہیں جن کی تنقید کا مقصد اپنی طرف سے اصلاح ہوتا ہے لیکن نتائج اصلاح والے نہیں نکلتے۔ جبکہ دوسری قسم کی بات کریں تو وہ الگ ہی مخلوق ہے، ان کی پروفائلز پر فلسطین کی حمایت کے بینر لگے ہوں گے، صیہونیوں کے خلاف مواد پوسٹ ہوا ہو گا، ڈی پی پر مسجد اقصیٰ بنی ہوگی، اور کمنٹس سیکشن میں وہ ”لنک“ مانگ رہے ہوں گے، یہ وہ مجرم ہیں جو اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، یہ اس ویڈیو کی تشہیر کرنے والے لوگ ہیں، اس واقعے کے بعد ہم سب قابل ملامت ہیں نہ کہ وہ لڑکی جس کے ساتھ یہ سب ہوا، بجائے اس کو حوصلہ دینے اس کی کردار کشی شروع کردی گئی اور ساتھ ہی ایک طوفان بدتمیزی امڈ آیا، خوف خدا تو ہے ہی نہیں کم از کم کوئی حیا ہی کر لیں، کیوں کسی کی خودکشی کا باعث بننا ہے،

من حیث القوم ہم ویسے ہی زوال پذیر ہیں، ہمارے اپنے مسائل ہیں، ان پر توجہ ہی نہیں، ایک لڑکی کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے پر اس کی کردار کشی بھی کرنی ہے، ویڈیو دیکھنی بھی ہے اور پھر سارے عالم میں اسلام کا پرچم بھی لہرانا ہے۔ اجتماعی طور پر شعور کی کمی واضح ہے، البتہ کچھ طبقات کی جانب سے مثبت ردعمل بھی آیا، لوگوں نے اس لڑکی کو حوصلہ دیا، اس کو بے قصور کہا اور اس کی حمایت کی، اس کے فینز نے بھی حوصلہ دیا، پڑھے لکھے اور لبرل طبقے کی جانب سے بھی حمایت ہوتی رہی، آہستہ آہستہ امید ہے معاشرے میں یہ تبدیلیاں بڑی سطح پر ہوں گی، بس اس وقت کا انتظار رہے گا، البتہ علیزہ سحر کے اس نامرد عاشق کا پتہ چلنا چاہیے، تاکہ اس کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔

Facebook Comments HS