کینیڈا کے سہانے سپنے اور امیگریشن فراڈ


چلو چلو کینیڈا چلو۔ اس کا اچھی سی انگریزی میں تیار پینا فلیکس، اور کینیڈا کی بلند بالا بلڈنگز، سی این ٹاور، نیاگرا فالز وغیرہ کے بڑے بڑے پوسٹر لگائی ہوئی دکانوں کی پاکستان میں بھرمار ہو گئی ہے اور ہر کسی نے سادہ لوح عوام کو کینیڈا کے سنہرے سپنے دکھا کر مختلف طرح سے لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔

وزٹ ویزا، بزنس ویزا، فیملی کلاس، اسٹوڈنٹ داخلہ اور مشہور و معروف ایل ایم آئی اے کے نام پر بازی گروں نے دھوکے بازی، جھوٹ، فریب اور مکر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

پاکستان کے چپے چپے، گلی کوچے میں کینیڈا چلو کے نعرے، میاں دے نعروں سے زیادہ وج رہے ہیں، لگتا یوں ہے کہ اب کوئی بھی شہری ہمارے سیاستدانوں والی مدینہ کی ریاست، روشن خیال بیانیے، یا ملک بچا لو نواز شریف جیسے ترانوں سے تنگ آ کر وہاں سے بھاگ نکلنے کو تیار بیٹھے ہیں اور اس چکر میں اپنی عمر بھر کی کمائی داؤ پہ لگا کر ایجنٹوں کو پکڑا رہے ہیں لیکن افسوس اس کے بدلے انہیں بھائی پھیرو تک دیکھنا نصیب نہیں ہوتا ہے۔

چند ہزار روپوں کی بات ہوتی تو انسان صبر کر لیتا ہے، لیکن یہاں تو یاروں نے پچاس لاکھ سے کروڑوں تک کی حق حلال کی جمع پونجی نیلے پاسپورٹ کی خاطر ان لٹیروں کو تھما دی۔

یاد رہے کہ کینیڈا میں ایسا کوئی طریقہ یا ضمانت نہیں ہے کہ دنیا کا کوئی بھی امیگریشن ایجنٹ چاہے وہ لائسنس یافتہ ہو یا پھر ایوئیں خوامخواہ والا وہ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کسی کا بھی کیس حکومت کینیڈا منظور صرف اس لئے کر دے گی کہ وہ کیس اس مایہ ناز ایجنٹ کی دکان سے اسے جمع کروا یا گیا ہے۔

پچھلے دنوں کینیڈا میں بھی اس نوعیت کے بہت سے کیسز سننے میں آئے جہاں نہ صرف پاکستان، بلکہ دبئی، قطر، سعودی عرب جیسے ممالک سے لوگوں نے کینیڈا میں بغیر کسی تحقیق کیے لوگوں پہ اعتبار کیا اور اپنی رقم گنوا بیٹھے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ کالم پڑھنے والوں سے میری یہ اپیل ہے کہ وہ اپنا کیس کسی کے بھی حوالے کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں اور ایسے ہی کسی کو بھی لاکھوں ڈالر ہاتھ میں نہ پکڑا دیا کریں۔ یاد رہے کہ نقد رقم کے معاملات کو ثابت کرنا ناممکن ہوتا ہے اس لئے باقاعدہ بینک کے ذریعے فیسوں کی ادائیگی کیا کریں۔

پچھلے دنوں واٹس ایپ گروپس میں بھی ایک بنگلہ دیشی خاتون کی ویڈیو گردش میں رہی جنہوں نے کوئی چار لاکھ ڈالر کے قریب کسی پر بھروسا کر کے دی اور اب ان کے مطابق مبینہ طور پر نہ تو ان کی امیگریشن ہوئی نہ ہی رقم واپس ملی، اس دوران ان کے شوہر ایکسیڈینٹ میں وفات پاگئے، یہ بے سہارا بیوہ عورت اب سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رقم کا تقاضا کر رہی ہے۔

عام طور پر کینیڈا میں مختلف نوعیت کے فراڈ کرنے والے اس طرح کے افراد بہت طاقتور ہوتے ہیں اور وہ اپنے پیسے کی طاقت سے چند ٹکوں کے عوض بکنے والے مقامی بکاؤ میڈیا کا سہارا لے کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر کے کمیونٹی کے خودساختہ لیڈر کہلائے جانے کا اختیار بھی از خود حاصل کر لیتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹھگوں کے اس گروہ میں کچھ پاکستانی نژاد کینیڈینز کا نام بھی لیا جا رہا ہے، اور حکومت یا ان کے ادارے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔

شاید یہ وقت ہے کہ اسی ٹیسٹ کیس کو لے کر مکمل تحقیقات کی جائیں، منی ٹریل سے ٹریس کیا جائے، بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات جانچی جائیں، کون امیگریشن ایجنٹ اس میں ملوث رہا ہے اس کا پتہ چلا کر حلفیہ بیان لیا جائے اور ایسے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جائے جو ذریعہ معاش (آمدن) سے زیادہ کی پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں اور کروڑوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ اس بات کا پتہ لگانا ہو گا کہ کچھ لوگ چند سال قبل ایک غربت زدہ زندگی سے راتوں رات مہنگے محلات اور لگژری گاڑیوں تک اچانک کیسے پہنچے۔

رئیل اسٹیٹ، مارگیج، امیگریشن، منی ایکسچینج یا چیریٹی کی آڑ میں جو لوگ یہ کھیل کھیل رہے ہیں، امید ہے پولیس یا آر سی ایم پی کی تفتیش کے بعد ان کے جرائم کا کھرا یہیں سے مل جائے گا اور آئندہ کوئی کم از کم کینیڈا میں بیٹھ کر دھڑلے سے کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں ہو گا۔

گناہ گار کا تعین انہی سے شروع کرنا ہو گا جو لوگوں کو جھانسا دے کر رقم بٹورتے ہیں اور پھر اپنے جیسے کرپٹ دوستوں کی آڑ میں ستی ساوتری بن کر اگلے شکار کی تلاش میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح یہ گھناؤنا کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس گروہ کے سبھی آلہ کار اور ان کے سہولت کار بھی اپنے انجام تک نہیں پہنچ جاتے، کیونکہ معصوم عوام کی عمر بھر کی کمائی کو لوٹنے والے ٹھگوں کے اس گروہ میں وہ بھی اتنے ہی شریک جرم ہیں اور اتنی ہی سزا کے حقدار ہیں۔

جہاں تک غریبوں کی آواز اٹھانے والے سو کالڈ صحافیوں، نام نہاد میڈیا اور دانشور طبقے کی بات ہے تو بقول شاعر۔

قدم قدم پہ صلیبوں کے جال پھیلا دو
کہ سرکشی کو تو عادت ہے سر اٹھانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

Facebook Comments HS

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 27 posts and counting.See all posts by anis-farooqui