قومی یک جہتی کے لیے اردو ناگزیر ہے


جب تک انسان اپنی بات دوسرے تک نہ پہنچا سکے اور دوسرے کی بات سمجھ نہ سکے اس وقت تک ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہی ہم آہنگی یکجہتی اور اتحاد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ایک دوسرے کو سمجھا جا سکے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ وہ ذریعہ ایک زبان کا ہونا ہے۔ یہ زبان ہی ہے جو انسانوں کو دوسری مخلوق سے ممیز کر کے اعلیٰ مقام عطا کرتی ہے۔ اگر زبان نہ ہو تو انسانی معاشرت، تہذیب و تمدن کا وجود بے معنی ہو جائے۔

زمانہ قدیم سے مختلف علاقوں اور نسلوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اشاروں، کنایوں، مختلف آوازوں کا سہارا لیا۔ یہی آوازیں بتدریج زبانوں کا درجہ حاصل کر گئیں۔ ڈاکٹر جمشید نظر ہم سب میں شائع اپنے مضمون ”اشاروں ہی اشاروں میں“ میں رقم طراز ہیں :

”اشاروں کی۔ زبان اس روئے زمین کی سب سے قدیم زبان ہے۔ ماہرین کے مطابق قدیم دور میں جب انسانوں کو کوئی بھی زبان بولنی نہیں آتی تھی تو وہ ہاتھوں کے اشاروں سے اپنی بات سمجھاتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ قدیم دور کے انسان نے جانوروں اور پرندوں کی آوازیں سن کر ان کی طرح آوازیں نکالنا شروع کر دیں اور انھی آوازوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ بولنا شروع کر دیا“

یہ زبانیں اپنے خطے، اقوام، تہذیب کی پہچان بنتی گئیں۔ برصغیر پاک و ہند میں خود رو پودے کی طرح پروان چڑھنے والی زبان اردو متعدد مراحل طے کر کے ارتقائی سفر سے گزر کر آج تناور درخت بن چکی ہے۔ اسے شعرا و ادبا اور اہل زبان نے اپنے فکر و شعور سے سینچا ہے۔ یہ نہ صرف دنیا کے کونے کونے میں سمجھی اور بولی جاتی ہے بلکہ کئی ممالک میں اسے قومی زبان کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

پاکستان بننے کے بعد سے اسے قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستانی سماجی محرکات و عوامل کی پابند ہے۔ یہ اپنے ماحول اور معاشرے سے ناتا توڑ کر زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ قومی زبان اپنے ملک میں بسنے والوں کی دھڑکن ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو قومی یکجہتی کو فروغ دے سکتا ہے۔ قومی زبان قومی اتحاد کی ضامن ہے۔ اردو زبان نے دوسری زبانوں سے اثر قبول ہی نہیں کیا بلکہ دوسری علاقائی زبانوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری ”اردو تدریس، الوکار پبلی کیشنز“ میں لکھتے ہیں :

”حقیقت یہ ہے کہ اردو زبان میں خود اس کا اپنا کچھ نہیں ہے بلکہ اس کا سارا سرمایہ دوسری زبانوں سے آیا ہے“

اس کے باوجود اردو زبان کی اپنی اہمیت، تاثیر، چاشنی اور وسعت ہے جو اسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ زبان کسی کی مقلد نہیں ہے بلکہ صورت و سیرت کے لحاظ سے مستقل زبان ہے۔ ہماری قومی زبان کی حیثیت سے یہ متحدہ قومیت کا جذبہ پروان چڑھانے میں اہم عنصر ہے جو مختلف طبائع رکھنے والے افراد میں یکجہتی، یگانگت اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ یہ قوم کے لیے باعث افتخار ہے۔ جب ہمارے ملک کے اعلیٰ طبقات اسی زبان کو استعمال کرتے ہیں تو طبقاتی اور قومی فرق مٹ جاتا ہے جو خوش سگالی، یکجہتی کا باعث ہے۔

اس زبان نے اپنے ملک کے باشندوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ زبان وہ خزانہ رکھتی ہے جو کسی قوم و تہذیب کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی مضمون ”زبانوں کی تہذیب“ میں لکھتے ہیں : ”زبان سماجی اور معاشرتی ضرورت کے لیے بے حد ناگزیر ہے۔ ہر ملک کی تہذیب اور سماجی قدروں کی بقا و تقویت کے لیے زبان اہم رول ادا کر سکتی ہے۔“

قومی زبان کو جن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے وہ سب اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ پاکستان ایک وسیع علاقہ ہے جو مختلف خطوں میں منقسم ہے۔ یہاں مختلف النوع قبائل اور نسلیں آباد ہیں جو اپنی اپنی علاقائی بولیاں بولتے ہیں۔ سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو وغیرہ لیکن یہ سب محدود ہیں۔ ان میں وہ جامعیت اور ہمہ گیری نہیں ہے جو پاکستانی قوم کی نمائندگی کر سکیں۔ ایک قوم کی نمائندگی اور یکجہتی کے لیے قومی زبان ”اردو“ کا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ قوم کے شیرازے کو استحکام بخشتی ہے۔ اسے منتشر ہونے سے بچاتی ہے۔ یہ جذبوں اور ولولوں کو تروتازہ رکھتی ہے۔

پاکستان کے آئین کی روسے بھی اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم ہمارے ملک میں انگریزی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نظام تعلیم میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا کر بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ جو وقت کا ضیاع کا باعث ہے۔ ارشاد حسن خاں اپنے مضمون اردو قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کی علامت ”میں کہتے ہیں :

”موجودہ آئین میں بھی اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ برسوں میں دفتری زبان بنانے کی دفعہ بھی شامل تھی“

لیکن ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ یہ امر حقیقت بر مبنی ہے کہ اردو زبان میں تعلیم دی جائے تو طلبہ زیادہ ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ قومی زبان میں تحصیل تعلیم ان میں آزادانہ سوچ بچار پیدا کرتا ہے۔ ان کی قابلیت کو جلا ملتی ہے۔ جب ہماری نسل اردو زبان کو ترقی دینے کے لیے جد و جہد کریں گے، اسے ترقی دینا اپنا شعار بنائیں گے تو ہی علاقائی اور صوبائی تعصب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اس لیے ان حالات کے پیش نظر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اردو زبان قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے ناگزیر ہے۔

زبان اہم ذریعہ ہوتی ہے جس کے ذریعے فرد اپنے احساسات، جذبات اور امنگوں کا اظہار کرتا ہے۔ یہ عمل ایک فرد کے علاوہ قوم کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زبان قوم کے افراد کو جوڑتی اور ایک دوسرے کے نزدیک لاتی ہے اور لوگوں میں اپنائیت کی سوچ پیدا کرتی ہے۔ یہ ہی خصوصیت اردو زبان میں بھی ہے جو پاکستان میں قومی یک جہتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اردو پاکستان کی قومی نفسیات اور یک جہتی کی علامت ہے۔ یہ زبان پاکستان کے صوبوں کی مشترکہ ثقافتی اور سماجی، ورثے اور پہچان کی عکاس ہے۔ اردو نے صدیوں کے پس منظر میں زبانوں اور ثقافتوں کے امتزاج سے کلاسیکی صورت اور حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اب اردو قومی یک جہتی کے حوالے سے پاکستان کے تمام لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی ہے۔

اردو پاکستان کے سیاسی، ثقافتی اور تعلیمی منظر نامے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اردو نہ صرف پاکستان کی دوسری زبانوں پر اثر انداز ہوئی ہے بلکہ صوبوں کو زنجیر کی طرح جوڑے ہوئے ہے۔

زبان قومی یک جہتی کے جذبے کو فروغ دیتی ہے اور قوم کے افراد میں احساس ذمہ داری خوش سگالی اور قوت برداشت پیدا کرتی ہے۔ یہ نفسیاتی اور تعلیمی عمل قومی یک جہتی کو پروان چڑھاتا ہے اور قوم کے افراد میں بہتر تعلقات، ذہنی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے اور ملک و قوم سے پیار کے جذبات ابھارتا ہے۔

اس لیے قومی یک جہتی کے لیے اردو اہم ہے کیوں کہ یہ ”اردو“ قوم کے لیے ایک ایسی شاہراہ ہے جو ملک کے لوگوں کو خواہ علاقہ کوئی بھی ہو، رنگ و نسل کوئی بھی ہو، سب کو متحد کرتی۔ 1973 کے آئین کی ایک دفعہ میں اردو کو دفتری زبان قرار دیا گیا ہے۔ تاہم تا حال مکمل طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

(کانفرنس کے لیے لکھا گیا مقالہ)

Facebook Comments HS