پاکستان میں فوجی عدالتوں کی تاریخ اور طریقہ کار

سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے نو اور دس مئی کے واقعات میں ملوث تمام 103 گرفتار افراد کی فہرست یا اس کے علاوہ بھی اگر کوئی عام شہری ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ شق ٹو ون ڈی کیا ہے؟ آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی ایوب خان کے دور میں متعارف کرایا گیا۔ 1965 کی پاک، انڈیا جنگ کے بعد ہونے والے مذاکرات کے خلاف پاکستان میں مظاہرے شروع ہوئے، تو انہیں کنٹرول کرنے کے لئے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت عام شہریوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جا سکتے تھے۔ اس سے پہلے آرمی ایکٹ میں صرف تین شقیں تھیں۔
1۔ ٹو ون اے فوج میں حاضر سروس افسران اور جوانوں سے متعلق ہے یعنی اگر کوئی اہلکار کسی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا ٹرائل اس قانون کے تحت کیا جائے گا۔
2۔ ٹو ون بی کے تحت ان سویلین کا ٹرائل کیا جاتا ہے جو وزارت دفاع میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہوں اور ان کے خلاف کوئی شکایت ہو تو ان کے اس قانون کے تحت ٹرائل ہوتے ہیں۔
3۔ ٹو ون سی میڈیا کے ان افراد کے بارے میں ہے جنھیں آپریشنل کارروائیوں کے دوران لے جایا جائے اور وہ وہاں جا کر فوج کی موومنٹ کے بارے میں خفیہ راز فاش کریں۔
انڈیا اور پاکستان دونوں کے آرمی ایکٹ برٹش انڈین آرمی ایکٹ 1911 کے مطابق تشکیل دیے گئے لیکن انڈیا میں اس قانون کو سویلینز پر مقدمہ چلانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان میں حالات مختلف رہے۔
پاکستان میں فوجی عدالتیں پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت قائم کی جاتی ہیں اور فوج کے حاضر سروس افسران ہی ان عدالتوں میں بطور جج بیٹھتے ہیں۔
ملٹری کورٹ میں ملٹری قوانین یا اصول و ضوابط کے تحت فوجیوں کی ملازمتوں کی سہولیات اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈسپلن کی خلاف ورزی یا بغاوت جیسے جرائم کے ارتکاب پر مقدمات چلائے جاتے ہیں۔ جب کسی مقدمے میں فوج کے افسران شامل ہوں تو اسے عموماً ملٹری کورٹس کہا جاتا ہے۔
فوج سے تعلق رکھنے افراد کسی جرم میں ملوث ہوں تو انھیں آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابتدا میں یہ قانون صرف فوج سے تعلق رکھنے والے افراد پر لاگو ہوتا تھا لیکن بعد ازاں اس میں کچھ دوسرے جرائم مثلاً فوجی تنصیبات پر حملہ، ملک کے خلاف بغاوت یا کسی فوجی رینک میں بغاوت کو بھی شامل کر دیا گیا۔
پاکستان کے آرمی ایکٹ 1952 میں انڈین ایکٹ 1950 کی طرح ’افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران اور فوج کے وارنٹ افسران‘ اس کے احاطے میں آتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ آزادی سے پہلے کے انڈین آرمی 1911 کے تحت فوج میں شامل دیگر افراد بھی اسی قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔
آرمی ایکٹ 1952 میں سیکشن 2 (d) ترمیم کر کے 1967 میں شامل کیا گیا تھا اور یہی شق سویلین پر ملٹری کورٹس میں مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کی گئی۔ دہشت گردی یا دہشت گردوں کو اس قانون کے دائرے میں لانے کی ترامیم بعد میں متعارف کرائی گئیں۔
سیکشن 2 کی دیگر ذیلی شقوں میں دہشت گردی سے لے کر ائر فورس اور نیوی کے ان افسران پر اس قانون کے اطلاق کا ذکر ہے جو آرمی میں عارضی طور پر منتقل ہو کر آتے ہیں۔
اگر کسی شخص پر الزام ہو کہ اس نے فوج کی کمان کے خلاف کوئی بیان جاری کیا یا تقریر کی یا فوج کے ماتحت افسران کو اپنی کمان کے خلاف بغاوت پر اکسایا، یا فوج سے متعلق حساس معلومات کسی غیر ملکی کو دیں اور یا پھر جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کو اقتدار سنبھالنے پر اکسایا تو اس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔
اگر کسی سویلین کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو فوج کے ایڈووکیٹ جنرل یعنی جیگ برانچ کا نمائندہ متعلقہ سیشن جج کو ملزم کی حوالگی کے بارے میں درخواست دیتا ہے۔ اگر ملزم پارٹی کی طرف سے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے تو پھر سیشن جج یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھجوا سکتا ہے اور وفاقی حکومت سے منظوری ملنے کے بعد متعلقہ سیشن جج ملزم کو فوج کے حوالے کرتا ہے۔
نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے غالباً اسی لیے قرار داد منظور کی۔ جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے۔
جب کسی سویلین کا معاملہ فوجی عدالت میں چلا جائے تو فوج کی پراسیکیوشن برانچ کا ایک افسر ملزم کے خلاف تمام شواہد اکٹھے کرتا اور تمام شواہد کا ریکارڈ ملزم کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ شواہد کا ریکارڈ فراہم کرنے کے 24 گھنٹوں بعد مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔
یہ خصوصی عدالت تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور سربراہی کرنے والے کو پریزیڈنٹ کہا جاتا ہے جو کہ لیفٹیننٹ کرنل رینک کا افسر ہوتا ہے۔ ملزم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اسے اپنے دفاع کے لیے سات روز کا وقت دیا جاتا ہے۔ فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکیوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کرنے اور اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویزات بھی پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔ سات روز میں کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ تین رکنی بینچ اپنی رائے مرتب کر کے کنوئنگ اتھارٹی کو بھیجتا ہے اور یہ اتھارٹی برگیڈئر یا میجر جنرل رینک کے افسر کی ہوتی ہے۔
مجرم کو سزا سے آگاہ کیے جانے کے بعد اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور مجرم اس سزا کے خلاف 40 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتا ہے۔
اپیل سننے کے لیے کورٹ آف اپیل قائم کی جاتی ہے جو ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سنا دیتی ہے۔ اگر مجرم کی نظرثانی کی درخواست کورٹ آف اپیل سے مسترد ہو جائے تو اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق ہوتا ہے۔ ہائی کورٹ بھی فوجی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھے تو پھر اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ حالیہ فیصلے کے بعد بھی ماہرین قانون کے مطابق آئین میں مشروط ترمیم کے ذریعے مخصوص حالات اور مقدمات کے لیے فوجی عدالتیں مقررہ مدت کے لیے قائم کی جا سکتی ہیں۔ 2015 میں آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے مجرمان کے مقدمات چلانے کے لیے آئین میں مشروط ترمیم کی گئی تھی جو دو سال بعد ختم ہو گئی۔ اس وقت پارلیمنٹ کا فورم دستیاب نہیں اس لیے ابھی عام شہریوں کے خلاف مقدمات سننے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکتا۔
عدالت کے تفصیلی فیصلے سے یہ پتا چلے گا کہ اس کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر ہو سکے گا یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی طرف سے جو مختصر فیصلہ آیا ہے اس سے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کو ریلیف ملے گا۔ تفصیلی فیصلے میں یہ بات سامنے آئے گی کہ کیا اس فیصلے کا اطلاق ان افراد پر بھی ہو گا جو شدت پسندی اور فوجی افسران کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ملوث ہیں، جن کا مختلف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چل رہا ہے۔ بہرحال صدر ایوب نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں 1967 میں دو مرتبہ یعنی ستمبر اور اکتوبر میں صدارتی حکمنامے کے ذریعے ایسی ترامیم کیں۔ جن سے اس قانون کے احاطے میں سویلینز بھی آ گئے۔ ترامیم کے الفاظ یہ ہیں۔
کسی شخص کو اس کی ذمہ داری یا حکومت سے وفاداری سے بہکانے یا بہکانے کی کوشش کرنے کا الزام، یا آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 تحت ان کا کوئی فعل جرم بنتا ہے۔ ’
1967 میں پاکستان کے صدر اور فیلڈ مارشل ایوب خان عدم استحکام کے خدشات میں گھرے ہوئے تھے۔ پاکستان انڈیا جنگ 1965 کے بعد جنوری 1966 میں تاشقند میں ہونے والے پاکستان اور انڈیا کے درمیان معاہدے کے بعد صدر ایوب خان کی سیاسی ساکھ کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ کمزور ایوب خان نے اسی دور میں ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ لکھی تھی جو امریکہ سے خراب ہوتے ہوئے تعلقات کی جانب ایک اشارہ تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچستان میں شورش بڑھ رہی تھی، ذوالفقار علی بھٹو مستعفی ہو کر ایوب خان کے لیے سیاسی خطرہ بن چکے تھے اور مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش کی بازگشت سنی جا رہی تھی۔
اگرتلہ سازش کیس میں بنگالی فوجی افسران بھی مبینہ طور پر شامل تھے اس لیے 1968 میں ان کا کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن حکومت سیاستدانوں پر بھی مقدمہ چلانا چاہتی تھی۔ لہٰذا ان مقدمات کو سویلین عدالتوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ شاید اسے ستم ظریفی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سویلینز پر پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت ملٹری کورٹس میں پہلا مقدمہ چلانے کا اقدام بھٹو کی حکومت نے 1977 میں گیا تھا لیکن یہ اقدام سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
بھٹو نے یہ ملٹری کورٹس اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد ہونے والی شورش پر قابو پانے کے لیے تشکیل دی تھیں تاہم یہ عملاً کام ہی نہ کر سکیں۔
جنرل ضیا الحق نے 1977 میں مارشل لا لگانے کے بعد مارشل لا آرڈیننس کے ذریعے ایک سو سے زیادہ ملٹری کورٹس بنائیں۔ ان میں سویلینز پر مقدمات چلا کر سزائے موت اور کوڑوں سمیت جرمانے اور قید کی بھی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
مارشل لا کے ذریعے آئین کو معطل کر دیا گیا تھا۔ پھر ملٹری کورٹس کا قیام 1998 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران ہوا۔ تب سپیشل ملٹری ٹریبونل بنائے گئے تھے، جو ایک قسم کے ملٹری کورٹس ہی تھیں لیکن یہ بھی بعد میں غیر آئینی قرار دی گئیں۔
2014 کے آرمی پبلک سکول پشاور کے حملے کے بعد دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے آئین میں 21 ویں ترمیم کی گئی اور ملٹری کورٹس قائم کی گئیں۔ بعد میں 23 ویں ترمیم کے ذریعے ملٹری کورٹس کو مزید دو برس کے لیے توسیع دے دی گئی تھی۔ اس طرح یہ ملٹری کورٹس جنوری 2019 تک کام کرتی رہیں۔ 2021 میں بھی انسانی حقوق کے ایک کارکن ادریس خٹک پر اسی آئینی ترمیم کا سہارا لے کر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ فیصلہ بعض آئینی اور قانونی ماہرین کے نزدیک بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بڑے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے اور یہ عدل و انصاف پر مبنی اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔ تاہم اگر تصویر کا دوسرا رخ یعنی نو مئی کے واقعات کے تناظر میں آرمی تنصیبات اور فوجی عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان دیکھا جائے تو پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے تھا۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی صورت میں یہ مقدمات روزانہ کی بنیاد پر بھی نمٹائے جا سکتے ہیں جبکہ فوجداری عدالتوں میں مقدمات کی سماعت طویل عرصے تک چلتی رہتی ہے۔
سبکدوش ہونے والی قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے حق میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔ شنید ہے کہ حکومت نے فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ نظرثانی کی اپیل کے بعد بھی وہی فیصلہ برقرار رہتا ہے جو عدالت پہلے سے سنا چکی ہوتی ہے۔ خدا کرے یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے عدالتیں سیاسی مقدمات کے بجائے فوجداری مقدمات میں عوام کو انصاف مہیا کریں۔ ملٹری ٹرائل کی مخالفت ہر ذی شعور کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ سول عدالتوں میں ”تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی“ کے تحت مقدمات برسوں چلتے اور نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

