محنت میں عظمت۔ عوامی جمہوریہ چین کا آنکھوں دیکھا حال (4)
چین اور پاکستان کے لوگوں کا اگر میں تقابل کروں تو چین کے لوگ ہمارے مقابلے میں دھن کے زیادہ پکے اور پرعزم ہیں۔ ان کے ہاں ہماری طرح زبانوں کے خالصتاً علمی اور سماجی مسئلے کو لے کر سیاست نہیں ہوتی۔ گو کہ دنیا کے ہر مسئلے کے پیچھے ایک سیاست ہی کارفرما ہوتی ہے او ر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پاکستان میں زبانوں کا مسئلہ علمی سے زیادہ سیاسی ہے۔ او ر سیاست بھی ہماری والی۔ گندی، بھدی اور انتہائی سطحی، شاؤنزم کو چھوتی ہماری نیشنلزم کتنی پیچیدہ ہے، قوم پرستی تو خیر ہمارے ہاں کسی اور ہی معنوں میں مستعمل ہے لیکن چین میں ایسا کوئی تصور نہیں وہاں زبان محض رابطے کا ذریعہ ہے آپ کسی کے منہ سے یہ نہیں سنیں گے کہ مینڈارن چینی (جسے معیاری چینی ) کہا جاتا ہے کیوں بولوں؟ انہیں پتہ ہے کہ دیگر بولیوں اور لہجے والوں کے ساتھ یہ رابطے کا اچھا اور سہل لہجہ ہے تو اسی پر اکتفا بہتر ہے، لیکن اپنی بولی بھی نہیں بھولنی۔ مجھے پشتو شعر یاد آ گیا
د ہ بل ژبہ زدہ کول کہ لوئے کمال دئی
خپلہ ژبہ ہیرول بے کمالی دہ
یعنی ”اوروں کی زبان سیکھنا کمال ہے۔ اور اپنی زبان بھولنا بے کمالی“
پاکستان کی طرح چین بھی لسانی اعتبار سے ایک متنوع ملک ہے۔ چینی زبان کی بہت سی بولیاں یا لہجے ہیں لیکن سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان مینڈارن چینی ہے۔ جسے عام طور پر چینی ہی کہا جاتا ہے یہ عوامی جمہوریہ چین کی سرکاری زبان ہے اور سب سے زیادہ بھی یہی زبان بولی جاتی ہے سرکاری خط و کتابت اسی میں ہوتی ہے، تقاریب، لین دین، روز مرہ امور اور دیگر مادری زبانوں کے مابین اسے رابطے کی زبان کا بھی درجہ حاصل ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ او رمکاؤ میں کینٹونیز زیادہ بولی جاتی ہے، شنگھائی شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں شنگھائی وو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے، جنوبی چین میں حقا نام کی چینی بولی زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے یہی لہجہ تائیوان میں بھی بہت سے علاقوں میں بولا اور سمجھا جاتا ہے ، ایک اور صوبہ ہے فوجیان وہاں ہوکیئن زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے اسی طرح سیچوان بھی ایک بولی ہے جو صوبہ سچوان میں بولی جاتی ہے، تبت میں تبتی بولی اور سمجھی جاتی ہے بعض علاقوں میں جہاں منگول آباد ہیں وہاں منگولیائی بولی اور سمجھی جاتی ہے شمال مغرب مین سنکیانگ میں اویغور زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے جو ایغور نسل کے لوگ بولتے ہیں، جنوب مغربی چین میں جہاں مختلف نسلی گروہ آباد ہیں وہ نکسی، یئی اور بائی زبانیں، شمالی کوریا اور روس کے ساتھ سرحد پر آباد علاقوں میں روسی اور کوریائی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں لیکن سرکاری زبان مینڈاران چینی ہے جو پورے چین میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
نصاب میں بھی جو زبان رائج ہے وہ یہی مینڈاران (معیاری چینی) رائج ہے۔ چونکہ مختلف علاقوں کی اپنی مقامی زبانیں اور بولیاں ہیں اس لئے سکول اور کالج میں انہیں معیاری چینی کی شد بد ہوجاتی ہے اور یوں وہ عملی زندگی میں آ تے آتے اسے رابطے کی زبان کے طور پر بروئے کار لانے لگتے ہیں۔ ریاضی، سائنسی اور سماجی علوم اور آئی ٹی کی زبان بھی یہی مینڈارن معیاری چینی ہی ہے۔ میرا یہ خیال تھا کہ شاید چین میں انگریزی پڑھائی نہیں جاتی لیکن واپسی پر میں نے انٹر نیٹ کی مدد لی تو مجھے حیرت ہوئی کہ چین کے نیشنل کریکولم میں انگریزی زبان کی تعلیم لازمی ہے اور پرائمری جماعتوں سے ہی انگریزی پڑھائی جانے لگتی ہے لیکن اولیت چینی زبان کو حاصل ہے وہ اپنے بچوں کو انگریزی کی تعلیم تو ضرور دیتے ہیں لیکن انہیں انگریزی کی فکری غلامی میں مبتلا نہیں ہونے دیتے۔
اور رہ گئی ہماری بات تو واللہ ہم عجیب لوگ ہیں۔ ہم بھی الجھنوں کا شکار، ہماری قیادت بھی بے سمت، پاکستان میں کتنی بہت زبانیں بولی جاتی ہیں، حق ایک بھی زبان کا ادا نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اردو کا بھی ہم حق ادا نہیں کرتے گو کہ سرکاری زبان ہے لیکن ہم اسے آج تک دفاتر اور عدالتوں میں رائج نہیں کرپائے۔ ہمارا بچہ گھر میں کوئی اور زبان بولتا ہے، سکول اور مدرسے میں کوئی اور زبان سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، سکول سے نکل کر گھر آتے ہوئے چھابڑی والے سے کسی اور زبان میں بات کرتا ہے ٹیوشن کی باجی سے کسی اور زبان میں، پاکستان میں کسی بھی زبان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔
حتیٰ کہ اردو کے ساتھ بھی جس کے لئے نہتے طلبہ پر گولیاں چلیں اور آگے جا کر یہ معاملہ ملک کے دولخت ہونے کی بھی بنیاد بنا اور یونیسکو نے بھی مادری زبانوں کے لئے جس دن کا انتخاب کیا وہ وہی دن ہے جب ڈھاکہ میں بنگالی طلباء پر گولی چلی۔ اب اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسکو ہر سال اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن مناتا ہے۔ باقی صوبوں کا مجھے نہیں پتہ لیکن یہاں بلوچستان میں اکیس فروری کو پشتو، بلوچی، براہوی، فارسی، ہزارگی، سندھی، سرائیکی بولنے والے ادیب و شاعر اکٹھے ہوتے ہیں تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں اور اپنے لسانی گروہ کی قوم پرست کہلانے والی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلاتے ہیں وہ بلند و بانگ تقاریر کرتے ہیں بہت سی دیواروں پر آج بھی آپ کو یہ مطالبہ نظر آئے گا کہ ہماری زبان کو تعلیمی زبان قرار دیا جائے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں مادری زبانوں کو نصاب کا حصہ بنانے کے حوالے سے جس حکومت نے پہل کی وہ نواب اکبر بگٹی کی حکومت تھی اور جس حکومت میں یہ فیصلہ واپس لیا گیا اس میں قوم پرست اتحادی تھے۔
دو ہزار تیرہ میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی قیادت میں حکومت بنی تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس کی شراکت دار تھی پتہ نہیں نیشنل پارٹی کا وژن تھا یا پشتونخوا میپ کا کہ انہوں نے ایکٹ پاس کر کے مادری زبانوں کو نصاب میں لازمی مضمون کے طور پر تو شامل کرایا اس کے بعد جو کرنا تھا وہ نہ نیشنل پارٹی نے کیا نہ پشتونخوا میپ نے۔ نہ ہی دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار تئیس تک عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے۔
یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم پرست پارٹیاں جن مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتیں ان میں ایک زبانوں کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ خود کو قوم پرست کہنے والی ان جماعتوں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران ان لوگوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا جو ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں یہ ہماری شاؤنسٹ طرز قوم پرستی ہی کا کمال ہے کہ آج بلوچی کو براہوئی سے، پشتو کو بلوچی سے اور پنجابی کو سرائیکی سے خطرہ درپیش ہے وگرنہ یہ زبانیں آج سے نہیں ہزاروں برس سے بولی جاتی جا رہی ہیں ان زبانوں کے بولنے والے بھی ہزاروں سال سے ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو رہتے آئے ہیں۔
ہرلسانی گروہ کی اپنی تہذیب اور تمدن ہے پشتو، بلوچی اور براہوئی لوک کہانیوں یا مجموعی ادب میں کہیں یہ ذکر نہیں ملے گا کہ فلاں لسانی گروہ ہمارا ولن ہے۔ یہ ولن اور ہیرو ازم تو اب شروع ہوا ہے یہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی دین ہے جس میں تقسیم کا سیاسی فلسفہ اپنا کر گنتی کے چند لوگ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور انہی کے لسانی گروہ کے ننانوے فیصد لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
مسٹر نونگ رونگ کی تقریب سے اٹھ کر ہم کوسٹر میں بیٹھے تو ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا۔ ”اب ہم ہوٹل جائیں گے“ سنا تو میں یہی سمجھا کہ شاید ہوابن ہوٹل جائیں گے اور رات کو دس گیارہ بجے پھر کھانے کے لئے نکلیں گے لیکن میری حیرت کی انتہاء نہیں رہی جب کوسٹر عین مغرب کے وقت شہر کے بیچ ایک جگہ رک گئی اور کیٹی نے اعلان کیا کہ ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی کھانوں کے لئے مشہور ریستوران ”خان بابا“ میں ہم نے رات کا کھانا کھانا تھا، لیکن ابھی رات تو کجا، ٹھیک سے شام بھی نہیں ہوئی تھی۔ شاید عین مغرب کا وقت ہو۔ کچھ بے دلی اور کچھ حیرت و استعجاب کے ساتھ ہم بس سے اتر ے پوچھنے پر پتہ چلا کہ چین میں رات کے کھانے کا یہی وقت ہے۔
تھوڑی سی تحقیق کی تو یہ عقدہ کھلا کہ رات کے کھانے کے حوالے سے نظام الاوقات غیر علانیہ طور پر متعین ہیں۔ غیر علانیہ سے مراد یہ کہ کسی نے آپ پر جبر نہیں کیا کہ آپ اسی وقت کھائیں لیکن جو عام روایت بنی ہے اور جو قدیم دور سے چلی آ رہی ہے وہ یہی ہے کہ شام کو جلد سے جلد کھانا تناول فرمائیں، اور ہلکی پھلکی چہل قدمی کر کے جلد سے جلد سوجائیں اور صبح جلدی اٹھیں۔
چین کے کچھ حصوں میں رات کا کھانا شام چھ بجے یا اس سے بھی پہلے شروع ہوجاتا ہے، ہانگ کانگ اور ایک آدھ دیگر علاقوں میں لوگوں کی غالب اکثریت شام سات بجے کے آس پاس کھانا کھا لیتی ہے اور بیجنگ، شنگھائی اور چنتاؤ جیسے شہر جہاں غیر ملکی زیادہ آتے جاتے ہیں وہاں رات کا کھانا قدرے دیر سے تناول کیا جاتا ہے۔ کتنی دیر؟ ساڑھے سات بجے یا زیادہ سے زیادہ آٹھ بجے۔ نو بجے سارے ہوٹل اور دکانیں، مارکیٹیں، سب کچھ بند ہوجاتا ہے البتہ ان بڑے شہروں کے بعض علاقوں میں اب ویک اینڈ یا دیگر مواقع پر فوڈ سٹریٹس رات گئے تک کھلی رہتی ہیں۔ ہم نے چونکہ فرمائشی طور پر حلال اشیاء کے ریستورانوں ہی میں جانا تھا اس لئے پورا ہفتہ ہم سات سے ساڑھے سات یا آٹھ بجے ہی کھانا کھالیتے تھے کیونکہ میزبانوں کو خدشہ رہتا کہ دیر کی تو ریستوران بند نہ ہوجائیں۔ (جاری ہے )


