رائج سیاسی نظام اور عوام!
پاکستان اللہ تعالی کا عطاء کردہ ایک ایسا زرخیز خطہ ہے جس کا جغرافیائی خد و خال بہترین ’قدرتی وسائل سے مالا مال‘ بہترین آب پاشی نظام ’زراعت میں خودکفیل اور چاروں موسموں کی دھرتی ہے لیکن اس کے باوجود سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ ملک مانگے کی بیساکھیوں کے سہارے لاغر قدموں کے ساتھ چل رہا ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال ہر حکمران کے لئے ٹیسٹ کیس بنی رہی جس کے باعث نہ ریاستی امور چلانے میں کبھی بہتری آئی اور نہ ہی بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات عام آدمی کو ریاست فراہم کر سکی یہ المیہ آج بھی ہے۔
مفادات‘ اختیارات اور اقتدار کی رسہ کشی نے ملک کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیا الزامات اور انتقامی سیاست نے ہمیشہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار رکھا جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو گا تو معاشی صورتحال کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں جو سیاسی جمہوری نظام رائج ہے وہ خود ساختہ ہے جو صرف اشرافیہ کا چوکیدار ہے اس نظام میں عام آدمی کی حیثیت ایک ووٹر سے زیادہ نہیں ہے مراعات یافتہ طبقہ کے لئے یہ سیاسی نظام آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے اور عام آدمی کے لئے یہی نظام سوہان روح سے کم نہیں ہے۔
ایسے خود ساختہ سیاسی نظام کو جمہوری کہنا کسی طور بھی درست نہیں ہے کیونکہ یہ سیاسی نظام جب عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات نہیں دے سکتا تو یہ کیسے جمہوری ہو سکتا ہے جمہوری سیاسی نظام میں عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کیے جاتے ہیں روزگار کے یکساں مواقع فراہم کر کے معاشرے سے غربت اور بے روزگاری ختم کی جاتی ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے عام آدمی کو قومی دھارے میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ جہاں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے وہیں ملک کی معیشت کو بھی دوام مل سکے۔
لیکن ملک میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھیں تو مسائل عوام کی پشت پر کوڑے کی صورت برس رہے ہیں بڑی دلدوز حقائق ہیں موروثی و روایتی سیاست نے عوام کو ایسے مہلک مسائل سے دوچار کر دیا ہے جن سے نکلنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ خاندانوں کی سیاست نے ملک کے وسائل اور قومی سیاست پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے ملک میں جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر رکھی ہیں جن کو کریدنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے کیوں کہ موجودہ سیاسی و روایتی نظام کی بنیادیں ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں تک محدود نہیں بلکہ مقامی حکومتیں بھی اس نظام کے زیر اثر ہیں۔
پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موروثی سیاست کا حصہ 53 فیصد سے بھی زائد ہے اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں موروثی سیاست کی یہ شرح نا قابل قبول ہے جنرل ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات کو سامنے رکھ لیں ان انتخابات میں جو چہرے منتخب ہو کر آئے وہ چہروں کی آج بھی سیاست پر اجارہ داری قائم ہے۔ جب سیاست میں دولت کا عنصر غالب آیا تو ملک کی سیاست نے کاروبار کی حیثیت اختیار کر لی سیاسی تاریخ اس بات کی غماز ہے خاندانی سیاست نے ملک میں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر لی ہیں کہ وہی چہرے وفاداریاں بدل کر ہر نئی بننے والی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔
اقتدار ’اختیارات اور مفادات کے تحفظ کے لئے سیاستدانوں نے عوام کو بیانیوں میں تقسیم کر رکھا ہے یہ حالات اس بات کے شاہد ہیں کہ ملک کا سیاسی نظام نظریاتی اساس پر قائم نہیں یہی وجہ ہے کہ عوام متحد ہو کر ایک قوم نہ بن سکی جہاں نظریہ ضرورت کے تحت بیانیوں میں تقسیم کر کے عوام کو قربان کیا جائے تو ایسے ممالک کیسے ترقی کی دوڑ میں شام ہو سکتے ہیں۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سیاسی نظام عام آدمی کو جمہوری لوازمات سے مستفید نہ کر سکا اقوام متحدہ کے چارٹر آئین پاکستان یہ آرٹیکل موجود ہے کہ روٹی‘ کپڑا ’مکان‘ تعلیم اور صحت کی سہولیات شہریوں کو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود بنیادی انسانی حقوق کا یہ آرٹیکل آج بھی معطل ہے۔
سیاست دانوں نے ہمیشہ نعروں ’وعدوں اور دلنشین اعلانات کے ذریعے اس عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی بنیادی حقوق‘ اختیارات ’اقتدار صرف اشرافیہ کو حاصل ہے عام آدمی مسائل کی عمیق دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ ملک کا سیاسی نظام نسل نو کو سیاسی شعور دینے سے قاصر ہے اور یہ خودساختہ سیاسی نظام آمرانہ جمہوریت کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے لیں ان سیاسی جماعتوں کے اندر کوئی ایسا ادارہ موجودہ نہیں جو کارکنان کی سیاسی شعور کی پختگی کے لئے کام کرتا ہو ملک میں قائم سیاسی نظام عوام کو فیصلہ سازی سے یکسر محروم رکھے ہوئے ہے جس کے عوام تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔
عوامی خواہشات کے پیش نظر کبھی اس ملک میں فیصلے اور اقدامات نہیں لئے جاتے اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں نے مفاد عامہ کے برعکس فیصلے کرتے ہوئے ہمیشہ عوام کو مزید مسائل کی گرداب میں دھکیلا۔ ملک میں ضرورت ایسے سیاسی نظام کی ہے جس کی نظریاتی اساس عوام کو طاقت کا سر چشمہ تسلیم کرتے ہوئے انسانی بنیادی حقوق عام آدمی کی دہلیز پر پہنچائے عوام کی امنگوں کے مطابق نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ موجودہ سیاسی نظام ہماری نسل کو غلامی کی زنجیروں میں تو جکڑ سکتا ہے لیکن اسے جمہوری معاشرے کا مہذب فرد نہیں بنا سکتا یہ نظام موروثیت کے باعث عمل اور کردار کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا صرف مفاداتی سیاست ملک کے سیاستدانوں کا وتیرہ بن چکی ہے جس کے باعث ملک میں جمہوری اقدار‘ روایات اور اخلاقیات زوال پذیر ہیں۔
پاکستان میں اشرافیہ نے مغرب سے لے کر جمہوریت کا لفظ تو اس ملک کے ساتھ جوڑ دیا لیکن اس لفظ کی حساسیت کو مد نظر نہیں رکھا صرف عوام کو ہمیشہ اس لفظ کی آڑ میں قربان کیا اور اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے عمل سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اس نظام کے ہوتے ہوئے نسل نو پر خوشگوار اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ مفادات ’اقتدار اور اختیارات کی جنگ اگر سیاست دان ملک و ملت کے مفادات کے برعکس اگلے محاذوں پر ایسے ہی لڑتے رہے تو ملک میں جمہوری روایات اور اقدار کو دفن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ملک میں سیاست دانوں کی طرز سیاست کے باعث معاشرے میں افراتفری اور بے یقینی کی صورتحال جنم لے چکی ہے اور ایسی صورتحال میں نہ ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے اور نہ ہی ملک کی معیشت پٹڑی پر چڑھ سکتی ہے ایسی صورتحال کسی بھی ملک کے معاشرے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ ملک کا سیاسی نام بہت بڑے اصلاحاتی آپریشن کا متقاضی ہے نظریہ ضرورت کے تحت ٹیسٹ ٹیوب سیاست نے ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا لیکن عوام کا دامن ہمیشہ خالی رہا۔
یہ ایسا نظام ہے جو عوام کے بنیادی حقوق کا گلا گھونٹ رہا ہے اس لئے ملک میں رائج سیاسی نظام کا ازسر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے جمہوریت کے ثمرات صحیح معنوں میں عام آدمی کی دہلیز اسی صورت پار کر سکتے ہیں جب اس نظام کو ملک و ملت کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دے کر عملاً نافذ کیا جائے گا۔ اگر موجودہ نظام میں اصلاحات نہ لائی گئیں اور اسے جمہور کے مفادات کے ساتھ نہ جوڑا گیا تو عوام کی خواہشات اس موروثی و روایتی مفاداتی سیاسی نظام پر قربان ہوتی رہیں گی۔


