کرکٹ کا اصل بحران آگے ہے
کرکٹ کا اصل بحران مجھے ورلڈ کپ کے بعد شروع ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
ٹیمیں ہارتی بھی ہیں اور جیتتی بھی ہیں پاکستان میں مگر جیت کے بعد سب کچھ قالین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جیتنے والی ٹیم کو ایک وننگ کمبینیشن قرار دے کے اس میں گھٹیا پرفارمنس والے پر بھی سوال نہیں اٹھتا مگر جب ٹیم ہارتی ہے تو ایسے ایسے مسئلے سامنے لے کے آئے جاتے ہیں جن کا کرکٹ سے دور دور تک تعلق نہیں ہوتا۔
میڈیا پر بے شمار سابق کرکٹرز اور تجزیہ نگاروں کی فوجیں بیٹھی ہوئی ہیں مگر سچ پوچھیں تو ان کا کرکٹنگ نالج حیران کن حد تک نچلے درجے کا ہے۔ کچھ یہ چاہتے ہیں کہ اس شکست کے بعد ان کے لیے کسی نوکری کا انتظام ہو جائے اور کچھ بجائے کرکٹ پر بات کرنے کے موٹیویشنل سپیچ جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔
کل رمیز راجہ فرما رہے تھے کہ پاکستان کو ایک دیوار پر لکھ لینا چاہیے کہ اگلے چاروں میچ جیتنے ہیں اور اس کو بار بار پڑھنا چاہیئے اس سے انہیں یاد رہے گا کہ آگے کیا کرنا ہے۔
اب اس بات کا کرکٹ سے کیا تعلق ہے؟
سچ پوچھیں تو یہ زیادہ تر ان پڑھوں کے ٹولے ہیں جنہیں آپ کسی کھلاڑی کی کوئی غلطی دور کرنے کا ٹاسک دیں تو انہیں ککھ پتہ نہیں چلے گا کہ اسے کیسے دور کرنا ہے باتیں کروا لو ان سے۔
جو بحران مجھے ورلڈ کپ کے بعد آتا محسوس ہوتا ہے وہ ٹیم میں لمبی اکھاڑ پچھاڑ کا عمل ہے جو بنا سوچے سمجھے ہونے کی توقع ہے۔
ایک دو کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان میں یہی سب سے بہتر کھلاڑی تھے جو ورلڈ کپ کھیلنے گئے تھے آپ جب تک کوئی بہتر متبادل تیار نہیں کرتے آپ کو انہی سے کام چلانا پڑے گا۔
چیئرمین پی سی بی ایک سیاسی آدمی ہے جو سیاسی بلیک میلنگ سے چیئرمین بنا ہے اسے کرکٹ کا کچھ پتہ نہیں اب اس پر تنقید ہو گی تو وہ ایسی ایسی قلابازیاں مارے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے مگر یہ لکھ رکھیں کہ اس کی قلابازیاں پاکستان کرکٹ کا مزید بیڑہ غرق کریں گی۔
جو بحث کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے کیا حالات تھے کہ ٹیم اپنے ابتدائی میچز میں یک دم نوز ڈائیو کر کے نیچے گئی ہے کھلاڑی کیا کیا غلطیاں کر رہے ہیں میچ اویئرنیس کیوں موجود نہیں اور کیوں ان غلطیوں کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
مگر یہاں ایجنڈے طے کئیے جا رہے ہیں کہ کس کو کپتانی سے ہٹا کر کس کو لانا ہے اور کس کس کو قربانی کا بکرا بنانا ہے۔
ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کی ایک ہمیشہ سے چلی آئی مشکل ترین سیریز آسٹریلیا کے خلاف ہے آپ جس کو دل چاہے کپتان بنا کے بھیج دیں وہاں جیتنا مشکل کام ہی ہے۔
اگر بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹاتے ہیں تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہو گا کیونکہ نیا کپتان ایک سیریز کے بعد ہی شدید تنقید کی زد میں آ جائے گا۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بابر اعظم کو ہی کپتان برقرار رکھا جائے اگر آپ کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور بہتر چوائس ہے تو اسے لے آئیں مگر ٹیم کی اپروچ اور مضبوط مائنڈ سیٹ والے ماڈرن ڈے کرکٹرز کی عدم موجودگی میں کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔
پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کوالٹی پلیئرز کیوں پیدا نہیں کر رہی یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
پہلے ڈومیسٹک کرکٹ میں بیس ٹیمیں کھیلتی تھی اس کے علاوہ ڈپارٹمنٹ کرکٹ بھی ہوتی تھی کھلاڑیوں کا پول سینکڑوں میں ہوتا تھا پھر عمران نیازی نے یہاں بھی اپنا ویژن لاگو کیا اور ڈومیسٹک کرکٹ کو چھ ٹیموں تک محدود کر دیا جن میں چند درجن کھلاڑی ہی کھیلتے ہیں باقی کھلاڑیوں کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی چنگ چی چلا رہا ہے تو کوئی مزدوری کر رہا ہے۔
ڈیپارٹمنٹ کرکٹ بند کرنے سے نوجوان کرکٹرز کے لیے نوکریوں کے دروازے بھی بند ہو گئے تو فکر معاش نے ان سے کرکٹ ہی چھڑوا دی۔ کھلاڑیوں کا پول بڑا ہوتا تھا تو کوئی نہ کوئی کھلاڑی اچانک ابھر کے سامنے آ جاتا تھا مگر اب چھ ٹیموں میں شمولیت بھی سفارشوں سے ہوتی ہے۔
اکیڈمیز پر کام بند ہو چکا ہے ہر بڑا سابق کرکٹر قومی ٹیم کا کوچ بننا چاہتا ہے نوجوان کرکٹرز کے ساتھ کام کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ کا کوئی پروگرام نہیں کرتی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لاہور قلندر ٹیلنٹ ہنٹ سے کئی شاندار کھلاڑی قومی ٹیم کو دے چکی ہے تو پی سی بی ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟
کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ چیئرمین پی سی بی میں آخر ایسا کیا ہے جو اس کے فیصلے حکومتوں کو بلیک میل کر کے کروائے جاتے ہیں؟ مجھے شدید خدشہ ہے کہ جس طرح اس ملک کا سارا نظام گل سڑ چکا ہے یہ کرکٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اگر یہی حال رہا تو ہم ہاکی کی طرح یاد کیا کریں گے کہ کبھی ہم بھی کرکٹ میں ٹاپ فور فائیو میں ہوا کرتے تھے۔


