وطن کی خوشبو


2022 کی بقر عید ایران میں منائی۔ عید سے دو دن پہلے ایک سہ پہر مشہد پہنچے۔ جس کا ائر پورٹ مختصر، خاموش اور صاف ستھرا ہے۔ اترتے ساتھ آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ آپ ایران میں ہیں۔ ہر چیز فارسی میں۔ دکانوں کے نام، اشتہارات، خبریں، اشارے، ہدایات وغیرہ وغیرہ۔ جس سے یہ پیغام ضرور ملتا ہے کہ انھیں اس کی فکر نہیں کہ غیر ملکی، زبان ناآشنا ان کے ملک میں کس طرح رہیں گے؟ بلکہ ان کو یہ پرواہ ہے کہ اس ملک کے باشندوں کو سب سمجھ آنا چاہیے۔ قومی زبان کی اہمیت کا عکس جگہ جگہ نظر آتا ہے۔

ائر پورٹ سے ٹیکسی کشادہ، سر سبز، اور صاف شاہراہوں سے گزارتی ہوئی شہر کے ایک مصروف، پر رونق علاقے میں اتار گئی۔ مرکزی، پر ہجوم سڑک، جس کے ایک طرف روضہ امام رضا علیہ السلام اور دوسری طرف ایک گلی چھوڑ کر ہمارا قیام تھا۔ ہوٹل میں سامان چھوڑنے اور کچھ تازہ دم ہونے کے بعد بس اتنا وقت تھا کہ نماز کے لئے حرم پہنچتے۔ دو گھنٹے وہاں رہنے کے بعد واپس کمرے میں آئے اور سو گئے۔ اگلا دن عید کا تھا۔ بوجوہ سفر کی تھکن، چھوٹے بچوں کا ساتھ اور دیار غیر، پھر بھی صبح جلدی آنکھ کھلی۔ کسل مندی طاری تھی۔ لیکن سال میں ایک بار آنے والی نماز عید، اجتماع اور حرم امام رضا علیہ السلام میں اس کی ادائیگی کی فضیلت اور موقع چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، اس لئے ہم سب تیار ہوئے اور جانب حرم چلے۔

کمرے سے باہر نکلے تو سب کچھ حسب معمول تھا۔ سوچا ہوٹل سے باہر عید کے نظارے ملیں گے۔ لیکن وہاں بھی زندگی ویسے ہی تھی، جیسی کل رات بستر پر جانے سے پہلے۔ نہ لباس میں کچھ بدلاؤ نہ تہوار کی گہما گہمی۔ نہ چھٹی، نہ خاص کھانے، نہ تیاری۔ خیر نماز کے لئے صحن حرم میں پہنچے تو اس قدر رش کہ دیکھ کر ہی اچھا لگا۔ خواتین مرد کثیر تعداد میں۔ بچے، بوڑھے، اپاہج، معذور سب صف با صف۔ زندگی میں پہلی بار طویل، پر دعا، پر مغز نماز عید ادا کی۔ خیال تھا کہ شاید آخر میں عید کی مناسبت سے کچھ میٹھا عام بانٹا جائے گا لیکن ندارد۔

وہاں سے نکلے تو پھر امید تھی کہ کچھ تو عید کی مناسبت سے نظر آئے گا۔ نہ قربانی کی گائے، اونٹ، دنبے بکرے، نہ ذبح کا شور، نہ جانوروں کی آخری وقت کی بے چینی، نہ قربانی کرنے کی دوڑ اور اشتیاق۔ سب کچھ ویسا ہی معمول پر تھا جیسے باقی دنوں میں ہوتا تھا۔ کسی نے ایک ریستوران کا بتایا تھا کہ وہاں سے بچوں کی پسند کا کھانا ملتا تھا۔ دو میل کے پیدل مارچ کے بعد جب وہ بند ملا۔ تو بھوک اور بچوں کے ’آف موڈز‘ کے ساتھ اسی بازار میں آ گئے جو سڑک کے ساتھ ساتھ بنا تھا اور ہماری قیام گاہ سے قریب تھا۔ وہاں تندور کی ایک لمبی قطار میں ایک گھنٹہ لگ کے صاحب نے روٹیاں لیں (تازہ پنیر اور شہد نہ مل سکے کہ ختم ہو گئے تھے ) ، ایک چھوٹی دکان سے کباب لئے اور ٹماٹر اور کچی ہری مرچ کے سلاد کے ساتھ کھائے۔ اور واپس قیلولہ کرنے ہوٹل آ گئے۔

شام میں بچوں کو گھمانے نکلے۔ شہر کی گلیوں، کوچوں، محلوں سے گزر ہوا لیکن عید کا کوئی نشان نہ شہریوں میں دیکھنے کو ملا نہ کہیں اور۔ قربانی کی آلائش تو دور کی بات، گوشت کی دید کے لئے بھی آنکھیں ترس گئیں۔ یوں لگا کہ سارا ایران تفریح کے لئے گھروں سے باہر آیا ہوا ہے۔ ہنسی، فراغت، جھولے، چہل قدمی، پانی، خشکی ہر طرح کے کھیل اور مواقع تھے۔ لیکن بقر عید کا وہ رنگ، مہک، مہمان نوازی اور ذائقہ جس کو ہم بچپن سے دیکھنے کے عادی تھے۔

وہ نہیں تھا۔ سارا دن ذہن میں اپنے ملک کی پر ہنگام عید کی صبح یاد آتی رہی۔ جس میں بعد از نماز فجر، عید کی تیاری، عید گاہ جانے سے قبل کچھ میٹھا کھانا، نماز عید کی ادائیگی، آتے جاتے رشتے داروں، عزیزوں، احباب سے عید ملنی، واپسی پر کپڑے تبدیل کر کے مردوں کا جانور ذبح کرنے کی دوڑ، ہوہو کار، خواتین کا لمبے چوڑے خاندان کے لئے پہلے کھانے کی تیاری، گوشت کے حصے، بانٹ۔ پہلے روز زیادہ قربانی کا زور، اگلے دو دن نسبتاً کم لیکن قربانی کی فضا محسوس ہوتی رہتی۔

ہم اسلامی ملک میں بھی ’اوپرے‘ تھے۔ حلال کھانوں کے درمیاں بھی، عید کے دن اپنے گھر کے چسکے ’مس‘ کر رہے تھے۔ گوشت کی صفائی، کٹائی اور تقسیم کے خواہاں تھے۔ عقیدہ ایک تھا لیکن خاندان، زمین، مٹی ہماری نہیں تھی۔ یوں جیسے آپ کہیں مہمان گئے ہوں، چاہے کتنی مہمان نوازی ہو، من و سلوی آپ کے لئے میز پر سجا ہو، آرام دہ، پر آسائش بستر ہو لیکن دو چار دنوں میں ہی وہ آرام، کانٹوں بھرا لگتا ہے۔ گھر کی دال بھاجی یاد آتی ہے۔ اکڑے، چوکنا اعصاب اپنے وطن، گھر، کمرے میں پہنچتے ہی پر سکون اور ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔ ملک سے باہر دو ہفتوں کا قیام پر ’جی اوبنے‘ لگتا ہے۔

ایران میں گزری اس مختلف عید کی تصویریں آج کل دل اور دماغ کے پردوں پر اور گہری ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حضرت محمد ﷺ کی مکہ کو چھوڑنے اور اس کی یاد میں تکلیف بھی شدت سے تڑپاتی ہے۔ جب ج میں فلسطینیوں کی اپنے وطن کے لئے تڑپ و بے کسی، اور فلسطین و غزہ کی تنگ ہوتی زمین کو دیکھتی ہوں۔ عرب کی وہ زمین جو مقامی باشندوں سے چھنتے چھنتے ستائیس کلومیٹر کی پٹی تک محدود و محصور ہو گئی ہے۔ جہاں کے رہنے والوں کے پاس یا تو اسی جگہ ظلم کی چکی میں پسنے کی مجبوری ہے یا اپنے حق میں لڑنے کی یا جلا وطنی کی۔

جو ایک دفعہ دیس سے نکلا، واپس مڑ نہیں سکتا۔ زندگی کی بقا کے لئے دیار غیر میں رہنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی ’آپشن‘ نہیں۔ اپنی مٹی کو چھونے کی پیاس، اپنے وطن کی باس، اپنے قبیلے کی پہچان، اپنے خاندان کا ساتھ، اپنے محلوں کا ماحول، یاروں کی چہک، محبوب کا لمس سب ان کے لئے پرائے ہو جاتے ہیں۔ ان کی مثال ’ڈار سے بچھڑی کونج‘ ، ’گواچی گاں‘ اور اس جوان لیکن مرجھائے ہوئے درخت کی سی ہوتی ہے جس کے عین شباب میں آپ جڑیں نکال کے نئی اور پرائی مٹی میں بو دیں۔

اس لئے اپنے وطن کی اس جنگ میں ان کا ساتھ دیں۔ حق سے جینے کی آگ میں ان کی آواز بنیں۔ زندگی کی نمو کے لئے ان کی مدد کریں۔ کیونکہ پناہ گزین آپ انھیں بنانا نہیں چاہتے۔ اور اگر کوئی ان میں سے بن بھی گیا تو یوسف علیہ السلام کی طرح دہائیاں گزرنے پر بھی وہ اپنے وطن کے لئے گریہ کرتے رہیں گے اور خود کو ’اوپرا‘ سمجھتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS