اختر رضا سلیمی کے ناول ’جندر‘ پر ایک نظر
شاعر و فکشن نگار اختر رضا سلیمی اپنے معیاری کام کی وجہ سے اردو ادب میں خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سے ہے اور وہ 2006 سے اکادمی ادبیات پاکستان سے منسلک ہیں۔ ان کے دو ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ 2015 اور ”جندر“ 2017 میں منظر عام پر آ کر مقبول ہوئے۔ ان کا تیسرا ناول ”لواخ“ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے چار شعری مجموعے بھی داد سمیٹ چکے ہیں۔ مذکورہ تبصرہ میں ہم ان کے ناول ”جندر“ پر گفتگو کریں گے۔ جندر ایک مختصر ناول ہے جو 121 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے 18 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ناول یو بی ایل ادبی ایوارڈ برائے فکشن بھی حاصل کر چکا ہے۔ جندر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے انقرہ یونیورسٹی (ترکیہ) کے اردو نصاب میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی، سماجی و ثقافتی ناول ہے جس میں فلسفے کی مہک رچی ہوئی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ولی خان ہے اور کہانی صیغہ واحد متکلم میں بیان کی گئی ہے۔ ناول میں اختر رضا سلیمی نے ایک ایسی تہذیب سے متعارف کروایا ہے جو معدوم ہونے کے قریب ہے۔ ولی خان پیشے سے جندروئی ہے اور لوگوں کے لیے آٹا پیسنے کے فرائض انجام دیتا ہے۔
سب سے پہلے جندر کے بارے میں مختصراً بیان کیے دیتے ہیں کیوں کہ ناول کا پلاٹ اسی کے گرد گھومتا ہے۔ جندر آٹا پیسنے والی ایسی پن چکی ہے جو شمالی علاقہ جات میں ندیوں کے کنارے آٹا پیسنے کے لیے نصب کی جاتی ہے۔ یہ انتہائی سادہ ٹیکنالوجی پر چلتا ہے جسے چلانے کے لیے کسی ایندھن وغیرہ کی ضرورت پیش نہیں آتی البتہ پانی کا تیز یا زیادہ بہاؤ اس کی رفتار پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔
اب کہانی کی طرف آتے ہیں۔ ولی خان پیدا ہوا تو اس کی والدہ انتقال کر گئیں۔ اس نے دسویں جماعت پاس کی تو والد بھی چل بسے۔ جندر چلانے کی ذمہ داری ولی خان پر آن ٹکی۔ ولی خان ایسا کردار ہے جو تنہائی پسند اور کم سخن ہے۔ جندر اس کی کمزوری ہے اور اس کی شدید خواہش ہے کہ یہ سدا گھومتا رہے تا کہ اس کی سریلی گونج اسے راحت بخشتی رہے اور اس کے کانوں کو سہلاتی رہے۔ لیکن جب یہ چونگ کے بغیر خالی گھومنا شروع کر دیتا ہے تو اس کی کوک اداس ہو جاتی ہے اور جب وہ اداس ہوتی ہے تو ولی خان بھی سہم جاتا ہے۔
جب وہ سوتا ہے تو وہ پانی کے بہاؤ کو کم کر کے اناج کی بوری لگا دیتا ہے تا کہ اس کے اٹھنے تک یہ چلتا رہے اور وہ پرسکون سویا رہے۔ پھر ولی خان کی زندگی میں اس کے چچا کی بیٹی حاجرہ داخل ہوتی ہے۔ وہ ولی خان کو بچپن سے ہی چاہتی ہے۔ حاجرہ گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے اور چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔ ولی خان اور حاجرہ دونوں کو کتاب بینی کا شوق ہے اور انہوں نے مختلف موضوعات پر بے شمار کتب کا مطالعہ کر رکھا ہے۔
حاجرہ کی ولی خان کو پسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ اس کی آزادی ہے۔ وہ اسے زندگی کے تمام بکھیڑوں اور بندھنوں سے آزاد سمجھتی ہے۔ لیکن جب شادی کے بعد اسے انکشاف ہوتا ہے کہ ولی خان تو جندر کی گونج کا قیدی ہے اور اس کو سنے بغیر اسے نیند نہیں آتی تو وہ علیحدگی اختیار کر لیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ولی خان بوڑھا ہو جاتا ہے اور پینتالیس دن پہلے اس نے جندر میں آخری چونگ انڈیلی تھی۔ جب اس نے آٹا ڈالنے کے لیے بوری کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا تو وہ یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جندر اور اس کی زندگی کی آخری چونگ ہے۔
جندر بند ہونے کی وجہ گاؤں میں لگنے والی برقی آٹا چکی ہے جس پر لوگ زیادہ اعتبار کرنے لگے ہیں۔ یہ چکی کسی غیر نے نہیں بلکہ اس کے بیٹے راحیل نے مسجد کے خادم کو لگا کر دی ہے تا کہ چونگیں جندر تک نہ پہنچ سکیں اور اس کا باپ جندر کو چھوڑ کر اس کے ساتھ شہر جانے پر مجبور ہو جائے۔ وہ باپ کے اس کام کو ناپسند کرتا ہے۔ وہ اس احساس سے نابلد ہے کہ یہ جندر اس کے باپ کی زندگی ہے اور اس کی سریلی گونج ہی اسے زندہ رکھے ہوئے تھی۔
جندر سے اقتباس: ”میرے بعد یہاں آنے والا پہلا شخص کون ہو گا؟ یہ سوال میرے ذہن میں پہلی بار آج سے پینتالیس دن پہلے اس وقت ابھرا تھا، جب میں نے اپنی اور جندر دونوں کی زندگی کی آخری چونگ پیس کر ، گھومتے پاٹ کے ساتھ لگی لکڑی کی وہ کیل کھینچی تھی، جس کے کھینچنے سے جندر کا اوپر والا پاٹ، اپنی جگہ تھوڑا سا اوپر اٹھ کر معمول سے دوگنی رفتار سے گھومنا شروع کر دیتا ہے اور اس کی سریلی گونج یک دم ایک اداس کوک میں بدل جاتی ہے۔“
جندر خلوت، امید اور معدومیت کی کہانی ہے۔ اختر رضا سلیمی نے ناول میں فلیش بیک طریقہ تحریر کو اپنایا ہے جس میں مرکزی کردار بار بار ماضی میں جا کر کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ وہ خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر قاری تک پہنچا دیتا ہے اور قاری ان احساسات کو پا لیتا ہے جو وہ پہنچانا چاہتا ہے۔ مصنف نے ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہونے کے عمل کو بخوبی انجام دیا ہے اور یہ باور کروانے میں کامیاب رہا ہے کہ لوگ کس طرح اس عمل کے دوران متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کے مضمرات کو بھی موضوع سخن بنایا ہے۔ اختر رضا سلیمی نے نپی تلی کہانی، مضبوط پلاٹ اور محدود کرداروں سے یہ ثابت کیا ہے کہ معیاری کام کے لیے ناول کا ضخیم ہونا ضروری نہیں۔


