نواز شریف سے تین سوال
میں نواز شریف کا انیس سو نوے سے فالوور ہوں اور نویں کلاس میں مسلم لیگ نون یوتھ ونگ کا ممبر بنا۔ میری اور مجھ جیسے لوگوں کی یہ قوی رائے ہے کہ نواز شریف کو کام نہیں کرنے دیا گیا اور بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ ترقی کرتے پاکستان کو ڈی ریل کرتے رہے۔ ایک لیڈر کا کام اپنے فالوورز کو لیڈر بنانا ہوتا ہے پھر بھی میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ نواز شریف اگر آپ چوبیس کروڑ عوام میں سے کسی کو اپنی جگہ تیار نہیں کر سکے اور آپ کی بیٹی ہی اس ملک میں اس قابل نکلی تو میں یہ بھی ماننے کے لئے تیار ہوں۔
میرا یہ بھی یقین ہے کہ آپ اس ملک کے حقیقی خیر خواہ ہیں تو کسی نے یہ بھی آپ کو نہیں بتایا ہو گا کہ پچیس ہزار ماہوار کمانے والا عام آدمی چینی چالیس روپے سستی ہونے پر بھی زیادہ سے زیادہ چھ سو بچا پایا ہے جس سے اس کی غربت میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ دس سے بارہ ہزار بجلی کا بل اصل مہنگائی کی وجہ ہے اگر آپ کو یہ بات پتا ہوتی تو یقیناً آپ چینی کم کرنے پر فخر کرتے نہ نظر آتے۔
میں اس خوش گمانی میں مبتلا ہوتے ہوئے کہ اب آپ ہی ملک سنبھال سکتے ہیں تین سوال آپ کے سامنے رکھتا ہوں برائے مہربانی اپنے آپ سے یہ سوال کیجئے اگر آپ واقعی خودکشیاں کرتے غریب کی زندگی سنبھالنا چاہتے ہیں۔
1۔ بجلی مہنگی ہونے کی اصل وجہ کم بجلی نہیں اور نہ ہی اس کا حل بجلی کی بچت۔ سولر پینل یا مارکیٹیں جلد بند کرنا نہیں بلکہ دس ہزار اضافی بجلی جس کے معاہدے آپ نے مشرف نے اور کسی حد تک پیپلز پارٹی نے کیے ۔ آپ حکومت میں آ کر کروڑوں روپے ڈکارنے والے اس بیوروکریٹ کے خلاف کیا ایکشن لیں گے جس نے چھبیس ہزار ٹرانسمشن کپیسٹی والے ملک میں سینتیس ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کی فزییلیٹی پاس کر کے آپ کی ٹیبل تک پہنچائی۔
2۔ اس ملک میں ٹیکس دینے والے اور ٹیکس نہ دینے والے کے درمیان فرق کیسے پیدا کریں گے۔ جو انسان پورا ٹیکس دیتا ہے اسے کیا اضافی سہولت دیں گے۔ میرے خیال میں ہر محکمے میں این ٹی این نمبر والے کا کاؤنٹر الگ بنا دیں اور وہ اگر کسی سرکاری ملازم کی شکایت کر دے تو وہ فوراً معطل ہو جائے۔ پھر تحقیق شروع ہو آخر ایک زاویے سے دیکھا جائے تو وہ ان کا اجر ہے۔ ٹیکس نہ ادا کرنے والے بین الاقوامی سفر۔ جائیداد کی خرید و فروخت نہ کر سکیں آخر جو اتنا کماتا نہیں کہ ٹیکس نیٹ ورک میں اس کے وہ یہ سب خرچ کیسے کر سکتا ہے یہ ہم مریدین کی تجویز ہے آپ بحیثیت لیڈر اس پر کیا رائے رکھتے ہیں اور اس پر کیسے عمل درآمد کروائیں گے۔
3۔ جو اضافی بجلی بن گئی ہے اس کے استعمال کیا کیا بندوبست ہے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ پلانٹ سے کے کر گاڑیوں کی چارجنگ تک یہ وہ تجاویز ہیں جو پاور پلانٹس سے ڈائریکٹ بھی کی جا سکتی ہیں ٹرانسمشن لائنوں پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر۔ آخر ہم پہلے بھی تو سبسڈی دے رہے ہیں یہ سبسڈی استعمال کر کے عوام کو منتقل کر دیں۔ یو پی ایس کی بیٹریاں چارج کروانا بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے۔
باقی کالم اس یقین کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ آپ کی میڈیا مینجمنٹ ٹیم اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی اور آپ کی تعریف کے کالم آپ کے سامنے رکھے گی آپ سب اچھا پر خوش رہیں گے اور جب آپ پر تیسری دفعہ ابتلا آئے گی تو آپ پاکستانی قوم سے ناراضگی کا اظہار کریں گے کہ سکندر اعظم سے لے کر آج تک ہر حملہ اور کے آگے لیٹنے والی قوم اپنے عظیم لیڈرز کے لئے نہیں نکلتی۔


