ہیپی ہیلووین: کون پھرتا ہے نہ جانے کس کا چہرہ اوڑھ کر
مجھے یاد ہے نوّے کی دہائی تک جرمنی میں ہیلووین نام کا کوئی تہوار نہیں منایا جاتا تھا۔ کم از کم کولون اور اس کے گردونواح میں تو ہرگز نہیں۔ کولون میں منائے جانے والے قابلِ ذکر موسمی یا ثقافتی تہواروں میں مقبول ترین تو رنگا رنگ کارنیوال تھا جو ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا۔ اس کا مرکزی جلوس تو شہر کے مرکزی حصہ ہی سے نکلتا تھا جس کا آنکھوں دیکھا حال ٹی وی، ریڈیو پر براہِ راست نشر کیا جاتا تھا۔ اس بڑے جلوس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے علاقائی جلوسوں کا اہتمام بھی باقاعدگی سے کیا جاتا تھا اور مختلف ادارے اپنے ملازمین کی ضیافتِ طبع کے لیے کارنیوال پارٹیز کے نام پر خصوصی تقریبات کا انعقاد بھی کیا کرتے تھے۔
پہلی کارنیوال پارٹی میں شرکت کا موقع مجھے جرمنی پہنچتے ہی ریڈیو ڈوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کے کیفے ٹیریا میں مل گیا تھا۔ مختلف ثقافتوں کی ترجمانی کرتے لباس پہنے چھوٹے چھوٹے جلوس تو مجھے نزدیکی گلی محلوں میں بھی گھومتے پھرتے دکھائی دے گئے تھے جن کے شرکا کھٹی میٹھی گولیاں ٹافیاں لٹا رہے تھے جنھیں چھوٹے بڑے سبھی آگے بڑھ بڑھ کر کیچ کر رہے تھے اور جیبوں یا تھیلوں میں بھر رہے تھے۔ میرے دفتر کے کیفے ٹیریا میں منعقدہ پارٹی کا ماحول البتہ قدرے مختلف تھا۔ لباس تو متنوع تھے کہ ایک یورپی کارکن شلوار قمیص اور پگڑی باندھے بالکل افغان باشندے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک جوڑے نے روایتی منگولوں کی وضع قطع بنائی ہوئی تھی۔ دو ایک عرب لباس میں بھی دکھائی دیے۔ کچھ خواتین و حضرات غالباً فلمی اداکاروں کے روپ دھارے ہوئے تھے اور موسیقی کی تیز دُھن پر تھرک رہے تھے۔ جام پر جام لڑھکائے جا رہے تھے اور سارا کیفے ٹیریا قہقہوں اور گیتوں سے گونج رہا تھا۔
وہاں سے واپسی پر ٹی وی کے سامنے بیٹھا تو کولون میں کارنیوال کے مرکزی جلوس کا سفر نشر کیا جا رہا تھا۔ بتایا جا رہا تھا برازیل سے باہر نکلنے والے کارنیوال کے جلوسوں میں سے کولون کا جلوس کافی بڑا اور اہم ہوتا ہے جس میں شرکت کے لیے بیرونِ ملک سے بھی سینکڑوں شائقین آتے ہیں۔
ہاں تو کارنیوال تھا مگر ہیلووین عنقا تھی۔ البتہ تیس اپریل کو ہیلووین سے ملتا جلتا ایک قدیم تہوار ”چڑیلوں کی رات“ وہاں مقامی آبادی میں کافی مقبول تھا۔ جرمنی کی لوک داستانوں میں ہے کہ ایک زمانے میں لوگ چڑیلوں اور بدروحوں کو بھگانے کے لیے یا تو آگ کے الاؤ سلگایا کرتے تھے یا پھر رقص کیا کرتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تہوار کے معمولات میں بھی بہت تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ اب بچے اس روز پڑوسیوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر، ان کے دروازوں کے ہینڈلز پر دھنیے کی چٹنی لگا کر، راہگیروں پر انڈے پھینک کر اور کاروں کو ٹائلٹ پیپرز میں لپیٹ کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔
اب سننے میں آیا ہے کہ ہیلووین، جو ابتداً جرمنی میں تعینات امریکی فوجی اور ان کے اہلِ خانہ ہی منایا کرتے تھے، رفتہ رفتہ جرمن باشندوں کی جانب سے بھی قبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اور یہ سب گزشتہ دو عشروں میں ہوا ہے۔
ہیلووین کے بارے میں کہا تو یہی جاتا ہے کہ یہ تہوار یورپ یعنی آئر لینڈ کے باشندوں کی وساطت سے اِدھر کینیڈا، شمالی امریکا کے خطہ میں پہنچا ہے مگر جس جوش و خروش سے اِسے یہاں منایا جاتا ہے اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اس نے یہیں جنم لیا ہو۔ گزشتہ صدی کے آخری برس کا موسمِ گرما بھی آخری دموں پر تھا جب میں اپنی بیگم اور تین ننھے منے بیٹوں کے ساتھ مستقل سکونت کا ارادہ باندھ کر کینیڈا وارد ہوا تھا۔ ستمبر کے ماہ میں بچوں کا سکول آغاز ہوا اور اکتوبر میں پہلے تہوار کا اطلاع نامہ موصول ہوا۔ جی، یہ یہی ہیلووین کا تہوار تھا جس کے لیے سکول کے طلبا و طالبات کو بہروپ بھر کر سکول آنے کی ترغیب دی گئی تھی۔
”یہ ہیلووین کیا بلا ہے؟“
پوچھنے پر ہمیں بتایا گیا کہ یہ چڑیلوں اور بھوتوں یعنی واقعی ”بلا“ کا تہوار ہے۔ جو اٹھارہویں صدی سے ہر سال 31 اکتوبر کی رات کو یہاں منایا جا رہا ہے۔ سیلٹک روایت کے مطابق یہ رات سال کو روشن اور تاریک دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ایسی رات جس میں زندہ اور مُردہ افراد کے درمیان موجود حدود کافی کم زور ہوجاتی ہیں چناں چہ مُردے بھی کم از کم ایک رات کے لیے زندوں کی بستیوں میں گھومنے پھرنے کی قوت پا لیتے ہیں اور انھیں بھگانے کے لیے زندہ لوگ ڈراونے روپ دھار لیتے ہیں یا ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے ان کی تواضع کر کے انھیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ”ٹرک و ٹریٹ“ کی روایت شروع ہوتی ہے۔ ہیلووین کی شب بڑے اور بچے بھیس بدل کر گھر گھر جاتے ہیں اور ”ٹرک و ٹریٹ ’کا نعرہ بلند کر کے اہلِ خانہ سے سے ٹافیاں، گولیاں، چاکلیٹ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے تحائف پاتے ہیں۔ شمالی امریکہ میں ہیلووین پر بہروپ بھرنے کی پہلی مثال وینکوور، برٹش کولمبیا میں 1898 میں قائم ہوئی تھی، جب کہ“ ٹرک و ٹریٹ‘ کی اصطلاح کا پہلا ریکارڈ 1927 میں لیتھ برج، البرٹا میں ملتا ہے۔ اب اس تہوار کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کاروباری طور پر یہ کرسمس کے بعد دوسرا بڑا منافع بخش تہوار بن گیا ہے۔
ڈرا کر تحائف پانے والے ان چھوٹے بڑے بھوتوں اور چڑیلوں کو بھی انسانی سماج کے قواعد اور اخلاقیات کی پابندی بہرطور کرنا پڑتی ہے۔ مثلاً جس مکان کی بیرونی روشنی بند ہو، اس کی گھنٹی نہیں دبائی جائے گی۔ کیونکہ روشنی بند ہونے کا مطلب یہی ہے کہ اہلِ خانہ یا تو آرام کر رہے ہیں یا پھر وہ ہیلووین منانا نہیں چاہتے۔ چناں چہ ان کی ترجیحات کا احترام ان نقلی بھوتوں اور چڑیلوں پر بھی لازم ہے۔
اچھا، اگر آج آپ میرے ساتھ واٹر ڈاؤن قصبہ میں واقع میرے محلے کی سیر کریں تو ہیلووین یا ٹرک و ٹریٹ کی رات کا روایتی منظر آپ کی نگاہ میں میری اس نظم کی طرح ابھرے گا:
سُوکھے پتّے ناچ رہے ہیں
پیلی پیلی وحشت، صحن کے چاروں اور
بھٹکتا شور کہ شاخوں سے ڈھلتی تاریک ہوا
اک کھڑکی گہرے خلا میں جا کُھلتی ہے
اُجڑے اُجڑے پنچھی، پیڑ میں دبکا اندھا چاند
یہ نیلے نیلے جالے، جلتی بجھتی مکڑی
حیرانی میں بھٹکتی بلّی
چمگادڑ کے پر اور روحیں چیخ رہی ہیں
لالٹین کے مریل ڈر سے پنجر پنجر کانپ رہا ہے
سارا منظر ہانپ رہا ہے
آہٹ کی زنجیر زمیں پر گرتی ہے
سہمے سہمے تاروں کی کچھ دُھول کہیں پر گرتی ہے
کتبوں پر مٹیالے پھول
کہ کالی دیواروں سے بُھرتے عقبی دنیا کے باشندے
زرد چھلاوے کود رہے ہیں
شاپنگ بیگ میں شور بھرا ہے
گلیوں گلیوں ٹرک او ٹریٹ
شیشے کے اس پار دھواں سا تیر رہا ہے
کہیں وجود و عدم کے بیچ
بے ہنگم سی دُھن پر کوئی درد گٹار بجاتا ہے
کالا ہیٹ پہن کر۔ شب بھر
کاسنی دروازے تک آ کر
دستک ڈر جاتی ہے، خود سے۔
(حامد یزدانی)
جنابِ من! اگر یہ نظم نظم منظر بھی آپ کو ڈرانے میں ناکام رہا ہے تو میں بآسانی اندازہ لگا سکتا ہوں کہ آپ ایک ایسے معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں ڈراونے منظر دیکھنے کے لیے سال بھر انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ وہاں ہر دن کا آغاز کسی الم ناک اعلان سے ہوتا ہے اور ہر شام کسی خوف میں پر پھیلاتی ہے۔ جس کے دن ظلم، جہالت، نا انصافی اور عدم مساوات کے بھوتوں کے قبضے میں ہیں اور جس کی راتیں خود غرضی، شدت پسندی، منافرت اور تعصب کی چڑیلوں کی مہیب چیخوں سے گونجتی ہیں۔ جہاں ابلاغِ عامہ کے ذرائع شب و روز مصلحت پسندی کی آڑ میں ”ٹرِک“ کیا کرتے ہیں اور جس کے سیاسی و معاشی وڈیرے پِسے ہوئے طبقے کو جھوٹے وعدوں کی ”ٹرِیٹ“ دے کر بہلایا کرتے ہیں اور برس ہا برس سے بھیس بدل کر، نت نئے بہروپ بھر کر اقتدار کے تحائف آپس میں بانٹا کرتے ہیں۔ کبھی منتخب رہنما آمریت کا روپ دھار لیتا ہے اور کبھی آمریت ہی انتخاب کا چہرہ پہن کر سامنے آتی رہتی ہے۔ کس نقاب کے پیچھے کس کا چہرہ ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ شاید اب نقاب ہی ان کے چہروں میں ڈھل چکے ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دنوں کی ایک غزل کا مقطع یاد آ رہا ہے :
حامد، اِک سے ایک بڑھ کر ہے یہاں بہروپیا
کون پھرتا ہے نہ جانے کس کا چہرہ اوڑھ کر
”ہیپی ہیلووین“


