یہ سامراجی عہدے دار بھاگ بھاگ کے لمز کیوں جاتے ہیں؟
ویسے تو یہ سوال پوچھنا جائز ہے نہ ہی ہماری ذات کے لوگوں کی کوئی شرعی حیثیت کہ اس سوال کا جواب سامراج ہمیں دینا پسند کرے۔ مگر چونکہ ہم رعایا کے لیے بنایا گیا ایک نان فنکشنل غیر اہم قانون، نہ صرف ہمیں یہ اختیار دیتا ہے بلکہ واجب ٹھہراتا ہے کہ ایسے واقعات پہ باقاعدہ سوال کیا جائے جو عوام کو اپنے حقوق سے محروم کرنے میں معاون ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ سامراج رعایا کو سانس لینے جیسے حقوق بھی دینے سے انکاری ہے تو تعلیم، صحت، مکان، یا روزگار جیسے حقوق تو کجا، اور پھر اس پہ کہ ہم سوال کرنے جیسے غیر شرعی، غیر ضروری حق مانگنے لگیں تو یہ اپنے آپ میں ایسا ہے جیسے تن ڈھانپنے کو کپڑا نہ ہو اور آئی فون کی ڈیمانڈ کی جائے۔
خیر جامعہ قائداعظم مارگلہ کی بلند و بانگ، خوبصورت چوٹیوں کے دامن میں واقع پاکستان کی صف اول کی یونیورسٹی ہے جہاں کم و بیش بیس ہزار طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ قائداعظم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اس کا ثقافتی، جغرافیائی اور صوبائی تنوع ہے۔ یہاں ہر صوبے، ثقافت اور زبان کے طلباء کم و بیش برابر مقدار میں موجود ہیں اور یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ جامعہ قائداعظم کے فطرت سے قریب ترین ہونے کی وجہ سے یہاں کا ماحول بہت خوشگوار اور صحت افزا ہے جو طلباء کی ذہنی و جسمانی نشو نما میں اضافے کا باعث ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ جامعہ قائداعظم کے طلباء بین الاقوامی سطح پر ریسرچ میں مانے تانے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس یونیورسٹی کے طلباء کا بڑا حصہ ہر سال پاکستان کی سب سے مطلوب جاب یعنی بیوروکریسی میں مقابلے کے امتحانات پاس کر کے جگہ بنانے کے قابل ہو پاتا ہے۔ جامعہ قائداعظم کے ایک طرف بری امام سرکار کا مزار ہے اور اس کے بالکل ساتھ ڈپلومیٹک انکلیو اور پرائم منسٹر آفس ہے جہاں سے جامعہ کا فاصلہ پانچ کلومیٹر ہے جسے طے کرنے میں بائک پہ دس منٹ لگتے ہیں اور گاڑی میں چھ یا سات۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ جاننا ہے کہ جب جامعہ قائداعظم پاکستان کی صف اول یونیورسٹی بھی ہے، ریسرچ میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور ایسے طلباء کی نمائندہ یونیورسٹی ہے جو پاکستان کے ہر صوبے، ثقافت اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سب کے ساتھ ساتھ سامراجی دفاتر سے فاصلہ بھی محض چند منٹ کی دوری پر ہے، لیکن اس سب کے باوجود بھی یہ سامراجی عہدے داران طلباء سے بات چیت کرنے کے لیے ہمیشہ (سرمایہ داروں کی نمائندہ جامعہ) لمز کا ہی رخ کیوں کرتے ہیں؟ ایسے کون سے جواب ہیں جن کے سوال ڈھونڈنے انھیں خصوصاً کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے لمز جانا پڑتا ہے؟ ایسے کون سے دماغ ہیں جو پاکستان کی صف اول کی یونیورسٹی میں موجود نہیں اور صرف لمز میں ہی میسر ہیں؟
ہم دیکھتے ہیں کہ سامراج کے سابقہ سپہ سالار جنرل باجوہ کو سوالوں کی حاجت ہوئی تو وہ بھی فوراً لمز جا پہنچے، اب موجودہ سامراجی عہدے دار انوارالحق صاحب بھی بھاگے بھاگے لمز جا پناہ لی۔ میری دانست میں تو یہ باقاعدہ ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ رعایا کے کسی بھی فریق کو کوئی حق نہیں دیا جا پہنچتا کہ وہ سامراج سے سوال پوچھے اگرچہ پوچھ بھی لیا جائے تو اس پہ کون سا کوئی فرق پڑ جائے گا مگر پھر بھی سامراج یہ حق رعایا کو دینے کو تیار نہیں۔ ہو سکتا ہے قائد اعظم میں موجود کوئی ساؤتھ پنجاب کی کسم پرسی پہ بات کر بیٹھے، یا بلوچستان کا کوئی بلوچ زندہ رہنے کا حق مانگ لے، یا پنجاب کا کوئی سپوت اوکاڑہ کی زمینوں میں دفن مزارعوں کے لیے کفن کی بات کر بیٹھے، یا پھر سندھ کا کوئی تعلیم کا سوال کر بیٹھے یا کوئی وزیرستان، بلتستان، کشمیر کا طالب علم زندہ رہنے کا حق مانگ لے تو مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ویسے بھی سامراجی طاقتوں کا سرمایہ داروں کے ساتھ ایک خاص قسم کا رومانس ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور اس رومانس کے آرگزم کے لیے سامراجی عہدے داران ہمیشہ سرمایہ داروں کی بنائی ہوئی ننھی منی پری لمز کا ہی انتخاب کرتے ہیں جہاں وہ اپنے اذہان میں پنپ رہے جوابات کے سوال ڈھونڈ کر اپنی دانش کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اگر بھولے سے کہیں کسی قائداعظم، پنجاب، یا اس مثل دوسری عوامی یونیورسٹی میں چلے گئے تو خدشہ رہتا ہے کہ طلباء ایسے سوالات نہ پوچھ بیٹھیں جو نصاب میں موجود نہیں اور جن کے جوابات کے تعاقب میں سامراج کی چولیں ہل جائیں۔ سمجھ سے بالاتر ہیں اس خطہ خراب کے لوگ جن کو یہاں اسلامی فلاحی انقلاب نظر آتا ہے اور قابلِ رحم ہیں وہ اہلِ علم جو اس سامراجی نظام میں جمہور کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
سامراج کا سرمایہ داروں کے ساتھ رومانس سلامت رہے، جوابات کے سوال ڈھونڈنے کو لمز کے طلباء بہت!
نوٹ: اس تحریر کا مقصد لمز کے طلباء کی تضحیک یا لمز یونیورسٹی پہ تنقید نہیں ہے بلکہ سامراجی نظام کے چند اہم پہلوؤں کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔


