ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان۔ ایک اور سفید ہاتھی

مملکت خداداد پاکستان گزشتہ ستر برس سے زیادہ عرصہ ہوا مشکلات میں ہے۔ یہ مشکلات کیا ہیں۔ اس کا تعین ہم ابھی تک نہیں کرسکے۔ دنیا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بے شمار ممالک آزاد ہوئے۔ بہت ساری مشکلات کے باوجود ان ممالک نے ترقی کی اور مزید ترقی کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں بسنے والے لوگوں کی زندگی بہتر ہو رہی ہے۔ مالی، سماجی اور معاشی ترقی کی وجہ سے وہ سارے ممالک ہم سے کہیں آگے نکل گئے۔ پاکستان ان گزشتہ دہائیوں میں اپنا ادھا حصہ کھو بیٹھا۔ جو ادھا حصہ اس وقت ہمارے پاس ہے اس میں کوئی بھی ادارہ کام نہیں کر رہا۔ پی آئی اے۔ ریلوے، سٹیل مل، اور دیگر اداروں کی جو حالت ہے اس کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
سرکاری تحویل میں جو بھی ادارہ ہے وہ سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ یہ ادارے ملک چلانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اور اب ہماری قسمت دیکھیں کہ ان اداروں کو چلانے کے لیے ہمیں اس مملکت خداداد کو رہن رکھنا پڑ رہا ہے۔ نادرا پاکستانیوں کو شناخت دینے کے لیے بنا تھا جبکہ حالیہ دنوں کے انکشافات سے پتہ چلا کہ یہ ادارہ تو پاکستانیوں کی شناخت فروخت کرنے کا فعال ادارہ ہے۔ اس مملکت خداداد میں ہر ادارہ اب حکومت اور ریاست کے لیے لائبلٹی بن چکا ہے۔ اس لیے ہم ترقی کرنے کی جگہ ان ذمہ داریوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں انتظامی امور سنبھالنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں افسران اور ماتحت موجود ہیں۔ ہمارے صرف ایک کراچی شہر میں انتظامی اہلکاروں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے۔
یہ سارے ادارے سفید ہاتھی کیسے بنے۔ یہ کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ پاکستان کو جب انگریزوں نے انتظامی طور پر ہندوستان سے الگ کیا تو اس کے کرتا دھرتا اور انتظامیہ وہ تھی جو برٹش سرکار کے لیے کام کرتی تھی، اس خطے میں وہ لوگ معتبر تھے جو ان انگریزوں کے لیے مخبری کرتے تھے، یا ان کی چاپلوسی کر کے عزت مند اور صاحب ثروت و جائیداد بنے تھے۔ اس خطے میں پڑھے لکھے لوگ بھی وہی تھی جو انگریزوں کی رضا و خوشنودی کے لیے ہر غلط کام کرنے کو اپنا ایمان سمجھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کا خوف تھا کہ وہ ان کی گرفت کریں گے۔ مگر جب انگریز رخصت ہوا تو ان کا یہ خوف بھی دور ہو گیا۔ یوں ان کو کھلی اجازت ملی کہ جو تربیت ان کو ان کے پرکھوں سے وراثت اور تہذیبی لاشعور میں ملی تھی اس کا کھل کر مظاہرہ کرسکیں۔ اس عملی مظاہرے کا نتیجہ آج کا پاکستان ہے۔
یہاں انتظام سنبھالنے والے خائن تھے، چور تھے، کام چور تھے، بددیانت تھے، نا اہل تھے، چاپلوس تھے، موقع پرست تھے، عیاش تھے، ظالم تھے، متعصب تھے، اب ایسے لوگوں سے یہ امید لگا لینا کہ وہ ایمانداری سے اس ملک کو چلائیں گے، یہاں ترقی کے بیچ بوئیں گے، دنیا کی ترقی کے سفر میں ان کا ساتھ دیں گے۔ کار بیکار تھا۔ یہ لوگ پہلے انگریزوں کو لوٹتے تھے لیکن انگریزوں نے ان کو ایک خاص دائرے میں لوٹ کھسوٹ کی اجازت دے رکھی تھی۔ باقی فائدے وہ خود اٹھاتے تھے اور وہ اپنی سلطنت سے وفادار تھے اس لیے فائدے اٹھا کر اپنے ملک لے کر جاتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد تو یہاں کھلی چھوٹ مل گئی۔ جس کو موقع ملا اس نے اس ملک کو لوٹا یہاں کے لوگوں کی ذہنیت بھی وہی غلامی والی ہے۔ اس لیے وہ لٹتے رہے اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ ان کے پاس لٹانے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ اب ان کو گروی رکھ کر ان کے نام اور زمین کے بدلے قرضے لیے جا رہے ہیں اور قرضے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کا اتارنا اب کسی صورت ممکن نظر ہی نہیں آ رہا۔ اس لیے کہ اتارے گا کون، قرضے لیے ہی ہڑپنے کے لیے تھے۔
اس ملک کو اگر مصیبت سے کوئی شعبہ نکال سکتا تھا تو وہ شعبہ تعلیم کا تھا۔ مگر بدقسمتی دیکھیں کہ اس شعبہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ تاکہ اس سے ایسے لوگ نہ نکلیں کہ وہ ان انگریزوں کے غلام ذہنیت والے لوگوں کو چیلنج کرسکیں۔ اس لیے لارڈ میکالے کا نظام ہی برقرار رکھا گیا۔ بلکہ اس نظام کو بھی بگاڑنے کے لیے اس شعبہ میں جان بوجھ کر مراعات کم کر کے ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا جو اس قابل تھے ہی نہیں کہ وہ تربیت کرسکیں۔ یہ قوم جو کبھی انگریزوں کی جنگیں لڑا کرتی تھی، آزادی کے بعد یہ امریکی جنگیں لڑتی رہی ہے۔ اپنے لوگوں کو تعلیم دینے کی جگہ یہ افغانستان کی جنگوں کے لیے مجاہد پیدا کرتی رہی ہے۔ خود کفالت کی جگہ ہم نے بھیک مانگنے کو ترجیح دی۔ جس کا انجام اب ہمارے سامنے ہے۔
جو ادارہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں اس دائمی مصیبت سے پاکستان کو نکال سکتا تھا۔ اس کا نام ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان تھا۔ اس ادارے کا قیام 2002 میں عمل میں لایا گیا اس سے پہلے ملک میں ٹرشری ایجوکیشن کو یونیورسٹی گرانٹ کمیشن دیکھا کرتا تھا۔ اس ادارے کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ملک میں ٹرشری ایجوکیشن کو فعال کیا جائے، پورے ملک میں جو یونیورسٹیاں ہیں ان کو بہتر کیا جائے، پاکستان کی ٹرشری ایجوکیشن کو دنیا کے معیارات کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ اور ملک میں نئی یونیورسٹیوں کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی اور وسائل کا انتظام کیا جائے۔ ملک میں جو تعلیم ہے اس کو دنیا کی طرح ایکریڈیٹ کیا جائے۔ اس ادارے کو جدید بنیادوں پر بنایا گیا اور اس کو وہ تمام سہولیات دی گئیں جو دنیا میں کسی بھی ایسے ادارے کو دی جاتی ہیں۔ کالونیل دفتری نظام سے ہٹ کر اس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا۔ اس کو شروع میں اتنے وسائل دیے گئے کہ اتنے وسائل کا اس دور میں ہمارے پڑوسی ممالک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے چیئرمین کی حیثیت وفاقی وزیر کے برابر رکھی گئی۔ اس کو اسلام آباد کے قلب اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بہترین بلڈنگز بنا کر دی گئیں۔ اس کے لیے جو فریم ورک تیار کیا گیا وہ بہت ہی خوش کن تھا۔ مگر اس کا انتظام کسی پروفیشنل کی بجائے نااہل شخص کے ہاتھوں میں دیا گیا۔ جس نے ان بے تحاشا وسائل کو ٹھکانے لگانے لیے وہ اقدامات کیے جو کوئی بھی ٹرشری ایجوکیشن کو سمجھنا والا بندہ نہ کرتا۔
ایچ ای سی کے قیام کے فوراً بعد جو سب سے پہلا کام کرنا تھا وہ پورے پاکستان کی سکول میپنگ کرنا تھا۔ جو کیمسٹری کے ایک پروفیسر کے شاید علم میں بھی نہیں تھا کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ سکول میپنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں آج تک پتہ نہیں چلا کہ ہمیں کس قسم کی تعلیم کی ضرورت ہے، ہماری آبادی اور وسائل کو حقیقی معنوں میں استعمال میں لانے کے لیے ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے۔ اداروں کی ضرورت کہاں کہاں اور کس کس شعبہ میں ہے۔ نظام تعلیم کو دس برسوں یا پھر پچاس برسوں میں کیسی ترتیب دینی ہے جس سے اعلی تعلیم کا ملک کو فائدہ ہو گا۔ نہ ہی کوئی سورٹ تجزیہ کیا گیا اور نہ ہی پسٹ یا پسٹل تجزیہ کیا گیا۔ چند گندم نما جو فروشوں کو کنسلٹنٹ رکھا گیا اور کچھ کنسلٹنسی فرم خود کھولی گئیں۔ اور اس وقت کے انٹرنیٹ پر جس ملک کا جو کچھ ملا اس کی ترتیب بدل کر کتابیں بنائیں گئیں۔ اور جاہل حکمرانوں کو دکھایا گیا اور پورے پاکستان میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے سیمنٹ کے پہاڑ کھڑے کر کے عمارتیں بنائی گئیں، ایسی ایسی لیب کی مشینیں اور آلات درآمد کیے گئے جن کو آج تک استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ اور پھر جو کچھ دنیا میں چل رہا تھا اس کی کاپی کر کے یہاں ویسا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو آج تک زور و شور سے جاری ہے۔
یہ نہیں سوچا گیا کہ جو ممالک جو مضامین پڑھا رہے ہیں اور اس میں تحقیق کر رہے ہیں اس کی ان کو ضرورت ہے اور وہ اس میں قابلیت و صلاحیت اور وسائل رکھتے ہیں ان ممالک نے اس کی منصوبہ بندی کئی عشروں سے کی ہوئی ہوتی ہے۔ تب کہیں جاکر وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ اس مضمون کے شعبہ کھولتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن بننے سے پہلے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تدریس پر بہت زور دیا جاتا تھا اور اس کے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبا اس قابل ہوتے تھے کہ وہ اپنے سیکھے ہوئے علوم سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ مگر جونہی ایچ ای سی بنی تدریس کو یونیورسٹیوں میں یک دم فراموش کیا گیا اور تحقیق پر زور دیا گیا جو کہ ایک اچھا عمل تھا مگر عملاً اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ تیس ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لیے بھجوایا گیا۔ مگر کسی بزرجمہر نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ان کو کس مقصد کے لیے بھیج رہے ہیں۔ ان کی ریسرچ کس موضوع پر ہونی چاہیے اور کیا اس ریسرچ سے جو بیرون ملک کر کے آئیں گے اس سے یونیورسٹیوں اور ملک کا کچھ بھلا ہو گا۔ کیا اس سے ان کی تدریس بہتر ہو جائے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا گیا بس چن چن کر لوگوں کو بیرون ملک بھیج کر وہاں سے وہ چاہے جس بھی ایریا میں ریسرچ کرتے اس کی اجازت دی گئی۔ جس کے نتیجے میں ملک میں تیس ہزار پی ایچ ڈیز تو آ گئے مگر نہ ان کی تحقیق سے اس ملک کا کچھ فائدہ ہوا نہ ان کی تدریس پر اس کا کوئی اثر پڑا۔ اس عمل میں ملک کے کھربوں روپے خرچ کیے گئے جو اگر منصوبہ بندی سے خرچ کرتے تو آج ہم اعلی تعلیم میں کہیں اور ہوتے۔
صرف یہی نہیں کیا گیا بلکہ چن چن کر قومی وسائل کو اپنے ذاتی فائدے اور مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ادارے سے وابستہ بعض لوگوں نے اپنے پرائیویٹ اور نیم سرکاری ادارے بنائے اور ان کو اربوں روپے کے گرانٹس دیے جس کا پاکستان اور تعلیم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پورے ملک میں بائیو ٹیکنالوجی کے درجنوں سینٹر بنائے گئے۔ جہاں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ سینکڑوں افراد کو اس فیلڈ میں پی ایچ ڈی کروائی گئی۔ ان کو اربوں روپوں کے ریسرچ آلات دیے گئے۔ ان کے لیے تمام سہولتوں سے آراستہ عمارتیں بنائی گئیں۔ لیکن جب کورونا آیا تو ایک چھوٹی سی دکان ”چغتائی لیب“ والوں کو حکومت نے اربوں روپے دیے کہ وہ اس قدرتی آفت سے نکالنے میں ہماری مدد کرے۔ بغیر منصوبہ بندی کام کرنے کی یہ ایک مثال ہے۔ ان بائیو ٹیکنالوجی، میکروبیالوجی اور ویرالوجی سے فارغ ہونے والے لاکھوں طالب علموں کے لیے ملک میں کوئی جاب ہی نہیں ہے۔
ڈاکٹر عطا الرحمن کے اپنے ادارے جو انہوں نے حکومت کے پیسے سے بنائے ہیں ان کی کوئی کارکردگی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے این ٹی ایس بنایا جو پاکستانیوں سے سالانہ اربوں روپے لیتا ہے۔ کیا اس کا پیسہ واپس تعلیم پر خرچ ہوتا ہے؟ یا چند اشخاص کے جیبوں میں جاتا ہے۔ آٹھ برس ہائر ایجوکیشن کو عطا الرحمن صاحب نے اور اس کے بعد آنے والوں نے جس طرح ملک میں اعلی تعلیم کی بربادی کے لیے استعمال کیا اس کا جواب ہے کسی کے پاس۔ اس وقت ملک کی تمام جامعات مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیوں میں جو تعلیم دی جا رہی ہے وہ اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر دنیا کی کوئی حکومت ان طلبا کو کوئی جاب دے سکے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھانے والوں ساٹھ ہزار سے زیادہ اساتذہ کے پاس آج تک ترقی کرنے کا کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں دفتری، درباری اور سیاسی و شخصی گروہ بندیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی توجہ یونیورسٹیوں اور علمی معاملات کی جگہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگی ہوئی ہے۔ سیاست اس حد تک اس ادارے میں دخیل ہے کہ اس کی خودمختار حیثیت عملاً ختم ہو چکی ہے۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ اور پنجاب نے اعلی تعلیم کے لیے اپنی اپنی دکان سجا لی ہے وہاں تعلیم سے زیادہ سیاسی سہولت کاری کا عمل جاری و ساری ہے۔ وہ ادارہ جس نے اعلی تعلیم اور یونیورسٹیوں کے لیے پالیسی سازی کرنی تھی، منصوبہ بندی کرنی تھی، وسائل مہیا کرنے تھے، مسائل حل کرنے تھے، یونیورسٹیوں کی خود مختاری بحال رکھنی تھی۔ اس ادارے کا اس ضمن میں اب کوئی کردار نہیں ہے۔ اس ادارے میں اگرچہ کچھ مخلص اور قابل ترین لوگ موجود ہیں جن کا اتنا تجربہ ہو چکا ہے کہ وہ اب بہتری کی کوئی صورت لا سکتے ہیں۔ مگر ان پر سیاسی من پسند افراد کو اختیار دے کر ان کو بھی بدظن کیا گیا ہے۔ اس ادارے کے اعلی ترین انتظامی عہدے پر ”پیرنی“ کی مریدنی تعینات رہی۔ جو یونیورسٹیوں کے مالی مسائل حل کرنے اور منصوبہ بندی کی بجائے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو وظیفے بتاتی رہی ہے۔ اس ادارے نے ملک میں اعلی تعلیم کا معیار بہتر کرنا تھا لیکن اس ادارے کی آشیر باد سے سینکڑوں پرائیویٹ اداروں نے اعلی تعلیم کی جو لوٹ سیل لگائی ہوئی۔ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ایک چھوٹے سے بنگلے کے چند کمروں میں سینکڑوں کی تعداد میں پی ایچ ڈیز اس ملک میں ہی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
اب تحقیقی جرنلز کا بزنس عروج پر ہے اور سہولت کار ایچ ای سی ہے۔ اس ادارے کا کام تھا کہ یہ ملک میں موجود یونیورسٹیوں اور بننے والی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی تربیت کرے گی۔ اس کے لیے ایک ادارہ بھی بنایا گیا مگر بدقسمتی دیکھیں کہ اس ادارے میں جو بھی سربراہ آیا اس نے اس کو بہتر کرنے کے بجائے اپنے یاروں دوستوں اور کاروباری شرکت داروں کو اس ادارے میں شریک کیا اور ان کو فائدے دیے۔ اس ملک کا مستقبل جس ادارے نے بنانا تھا۔ گزشتہ چند برسوں سے اس ادارے پر قبضہ جمانے والوں نے نہ صرف اس کا بیڑہ غرق کیا بلکہ ساتھ میں ایک سو ساٹھ سے زیادہ سرکاری جامعات کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا۔ یہ گروہ ایوان اقتدار کے بالکونیوں اور عدالت کے اندر بھی ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ اس لڑائی میں جیت مفاد پرستوں اور ہار تعلیم کی اور ملک کی ترقی کے ضامن ادارے کی ہوئی۔
اس ادارے کی اپنی کارکردگی صفر ہے بلکہ اس ادارے کو اب ورلڈ بنک نے بھی ”سفید ہاتھی“ قرار دیا ہے۔ یہ ہے وہ لمحہ فکریہ جس کا ادراک اس ملک کے چلانے والوں کو نہیں ہے۔ وہ ادارہ جس نے دوسروں اداروں کو مالی، علمی، قانونی، سفارتی اور تربیتی مدد فراہم کرنی تھی۔ وہ ادارہ اب خود ان چیزوں کا محتاج ہو چکا ہے۔ اور یہ کام صرف چند خود غرض اور مفاد پرستوں کا ہے لیکن یہ چند مفاد پرست اس سسٹم کے لیے لازم و ملزم بن چکے ہیں۔ سیاست و اختیار جن نااہلوں کے پاس ہے ان کو یہ چاپلوس اور خوشامدی گھیر لیتے ہیں۔ یوں پاکستان کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔ کیا کوئی ایسا بھی آئے گا جو ان مداریوں سے پاکستان کی جان چھڑا کر اسے ترقی کی راستے پر گامزن کرسکے گا۔ یہ خیال اس لیے آیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے مفاد میں کچھ بہت ہی مفید فیصلے ہوئے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔

