عاصم جمیل کی موت اور نفسیاتی صحت


مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی ڈپریشن کی وجہ سے موت جہاں فضا کو سوگوار کیے ہوئے ہے وہیں کئی ایسے بھی لوگ ہیں جو مولانا صاحب سے نظریاتی یا دیگر اختلافات کا غبار نکالتے ہوئے اس تکلیف دہ مرحلے پر بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک نوجوان کی خودکشی ایک انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔

کسی شخص کو نفسیاتی مسائل سے گزرتا دیکھ اکثر لوگ اس کو مذہب سے دوری اور اچھا مسلمان نہ ہونے کے طعنے مارتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک غلط رویہ ہے۔ کوئی کتنا مذہبی ہے اور نفسیاتی طور پر کتنا صحت مند یہ دونوں باتیں اتنی سیدھی نہیں ہیں جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔

ڈرخائم ایک سماجی فلسفی تھے جنہوں نے خودکشی کو کسی ذاتی عمل نہیں بلکہ ایک سوشل فیکٹ کے طور پر دیکھا۔ انھوں نے فرد اور معاشرے کے مابین تعلق کے اعتبار سے خودکشی کی چار اقسام بتائیں۔ اگر ان کے خودکشی کے فلسفے کو سادہ الفاظ میں دیکھا جائے تو اس میں دو باتیں ہیں ایک سوشل انٹیگریشن یعنی کس حد تک کوئی معاشرے میں گھلا ملا ہے اور دوسری ہے سوشل ریگولیشن کہ معاشرے کا فرد پر کس حد تک کنٹرول ہے۔ مذہب ایک سماجی ادارہ ہے۔ مذہب کے انسان کی سماجی زندگی پر اثرات کے لحاظ سے دیکھیں تو سوشل انٹیگریشن اور سوشل ریگولیشن میں بہت کمی یا زیادتی خودکشی کا سبب بن سکتی ہے۔

مذہب، نفسیاتی مسائل اور خودکشی کا تعلق پیچیدہ ہے۔ اس پر لاپروا رائے دینا درست نہیں۔ بدقسمتی سے ایسی رائے دینا انتہائی ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے۔ جب نفسیاتی مریضوں کو بتایا جاتا ہے کہ ”پانچ نمازیں پڑھیں۔ آپ کا سارا ڈپریشن ختم ہو جائے گا“ ۔

نماز اور دیگر عبادتیں لوگوں کے لیے سکون کا باعث ہو سکتی ہیں لیکن نفسیاتی مسائل کے علاج کو کچھ اور بھی درکار ہے۔ اور وہ کچھ اور ہے ماہرِ نفسیات کی مدد اور نفسیاتی مسائل کو نفسیات کے علم کی روشنی سمجھنے کی ضرورت۔ انسانی نفسیات ایک انتہائی مشکل سبجیکٹ ہے اور حساس بھی۔ ہر انسان منفرد ہوتا ہے اور الگ حالات میں پلا بڑھا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ہی ماں باپ کے بچے مختلف طرح کے نفسیاتی مسائل کے شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں بہت باریک باتیں بھی معنی رکھتی ہیں جیسا کہ بہن بھائیوں میں آپ کا نمبر کون سا ہے؟ کتنی بہنیں اور بھائی ہیں؟ وغیرہ۔

کسی بھی مریض کو رٹا ہوا مذہبی بھاشن دینا اچھی اپروچ نہیں۔ انھیں ایسے بھاشن کی نہیں بلکہ ماہرین نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی ہسٹری اور ان کی شخصیت کو سمجھتے ہوئے علاج شروع کریں۔

نفسیاتی مسائل بہت عام ہیں لیکن انھیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کے حل تلاش کرنے کے لیے پہلے نفسیاتی مسائل کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے طور پر اپنی نفسیاتی صحت کا خیال رکھنا اور دوسروں کے ایسے معاملات میں نرم دلی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔

ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلیاں لا کر اپنے اور دوسروں کے نفسیاتی مسائل میں کمی لا سکتے ہیں۔ ایسے میں دوسروں کے مسائل کو سمجھنے کی نیت سے سننا اور شدت پسندی کی بجائے ٹھہراؤ اور امن کے اصولوں پر چلنا ضروری ہے۔ کوئی بھی دھرم یا نظریہ انسانیت سے بڑا نہیں لہٰذا ہمیں انسانوں کی قدر کو دل میں جگہ دیتے ہوئے فضول نفرتوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ ہر انسان اہم ہے!

 

Facebook Comments HS