بارے کچھ ذہنی مرض، معاشرے اور معالج کے
زندگی ہے، مشکل ہے، گزارنے میں سر دھڑ کی بازی لگ جاوے۔ زندگی اور دھڑ چلانے کو کانوں کے درمیان ایک مشین دھری ہے، جو اتنی نفیس ہے کہ ایک نس ٹس سے مس اور بس۔ داخلی اور خارجی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ حوادث اس کو غیر متوازن کر سکتے ہیں۔ اس کی فنکشنگ خراب ہو جائے تو داخلی اور خارجی عوامل مل کر ہی اس کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ کسی ایک طرف سے خرابی بہتری کے رستے مسدود کرتی ہے۔
جبکہ یہاں ہمارے معاشرے میں ذہنی مرض میں مبتلا شخص بیماری، خاندان، اور معاشرے سمیت کئی محاذوں پر لڑ رہا ہوتا ہے۔ اگر ان مسائل کے ساتھ اسے روزی روٹی کے مسائل بھی درپیش ہیں تو پھر اسے شاید ہی ہوش آ پائے۔ ذہنی مرض میں مبتلا ہونا اکثر مریض ہی کی غلطی تصور کیا جاتا ہے۔ جس سے مریض کے لیے گلٹ پیدا ہوتا ہے۔ مریض اگر کسی سے اپنا حال بیان کر لے تو اس کا ٹھٹھا اڑایا جاتا ہے۔ یہاں اس کو فراڈ تک تصور کیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار مریض اپنے دکھ کی گہرائی اور سچائی کا یقین دلانے کے لیے انتہائی قدم اٹھا جاتا ہے۔
مسائل کو اٹھائیے، حل ترتیب دینے کی کوشش کیجیئے تو معلوم پڑے گا کہ دستیاب مسئلہ تہ در تہ مسائل کا نتیجہ ہے۔ لہذا حل بھی متنوع پہلوؤں سے کشید کرنا پڑے گا۔ پہلے سے طے شدہ نظام کو مانتے ہیں اور اس سے باہر کسی دوسرے نظام یا اصول سے استفادہ حاصل کرنا غلط سمجھتے ہیں تو شاید تکلیف کا مداوا مشکل ہو۔
پاکستان کے کیس میں حالات گمبھیر ہیں۔ یہاں پرورش، اسکول، معاشرہ اور ہیلتھ کیئر سسٹم تک ہر قدم پر بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ماں باپ چائلڈ ہڈ ٹراما جیسی چیز سے بالکل نابلد ہیں۔ معاشرہ غیر حساس ہے۔ اور اگر کسی غریب کو ذہنی حالت کا ادراک ہو جائے تو اس کے لیے کسی سائیکالوجسٹ تک پہنچنا ممکن نہیں۔
ایک دوست سے بات ہو رہی تھی، اس کا ایک عزیز بچہ پڑھا لکھا ہے، ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر گھر سے نکلنا چھوڑ گیا ہے۔ ماں غم میں سوکھ کے کانٹا ہو گئی ہے، باپ کے پاس پیسے نہیں کہ کسی بڑے شہر میں چیک اپ کے لیے لے جا سکے۔ ایک دو بار چیک اپ کروایا گیا ہے لیکن فائدہ نہیں ہوا۔ اور جس شہر میں رہائش ہے وہاں سائیکالوجسٹ جیسی کوئی چیز سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر موجود نہیں ہے۔
آگے بڑھیے سائیکالوجسٹ کی تعداد ایک تو نا ہونے کے برابر ہے دوسرا جو ہیں ان میں سے بیشتر موٹیویشنل اسپیکر سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں تمام بیماریوں کا 4 فیصد ذہنی امراض پر مشتمل ہے۔ اور 24 ملین پاکستانی ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ جبکہ 1 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف 0.19 سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہی مطابق ذہنی مرض خواتین میں زیادہ ہے۔ میرے خیال میں پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں میں خواتین کی تعداد اس لیے زیادہ رپورٹ ہو رہی ہے کہ یہاں کا مرد اپنی ذہنی بیماری کو چھپاتا ہے۔ جبکہ عورت کو ذہنی مریض بنانے کہنے میں اسی مرد کی جانب سے کوئی عار نہیں اس لیے وہ کیس رپورٹ زیادہ ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یہاں کثیر تعداد نفسیاتی الجھنوں یا بیماریوں کا شکار ہیں، کچھ کو ادراک نہیں، کچھ کے عقائد انہیں ماننے نہیں دیتے، جن کو ادراک ہے ان میں سے کثیر تعداد کے لیے علاج تک رسائی ممکن نہیں۔ یوں ہم ایک غیر صحت مند معاشرہ ترتیب دے رہے ہیں۔
پس تحریر: یہاں سرکاری سطح پر جلد کچھ بدلنے کا نہیں، خود پر کچھ کام کر لیجیے، کچھ بنیادی سائیکالوجی پڑھ لیں، بچوں کو سکھا دیں، بچوں کی سن لیں، کوئی آپ کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آئے تو اسے بغیر جج کیے سن لیں، اسے یقین دلائیں کے اس کے راز آپ کے پاس محفوظ ہیں، ہو سکے تو اسے کسی اچھے ڈاکٹر کے متھے لگا دیں۔


