فلسطین اور عالم اسلام کی روایتی بے حسی اور منافقت


عالم اسلام کی مجموعی بے حسی، منافقت اور بے غیرتی دیکھیں کہ وہاں اسرائیل نے غزہ میں مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یہاں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمان جسد واحد کی طرح کی ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرا حصہ خود بخود بے تاب ہو جاتا ہے لیکن مجال ہے جو کسی اسلامی ملک نے فلسطین کی مدد کے لیے کمر باندھی ہو۔ وہی گھسی پٹھی باتیں، وہی روایتی بیانیہ اور وہی بے بنیاد دعوے جو یہ ہمیشہ سے کرتے ہیں۔

وہاں غزہ میں مسلمان تباہ برباد ہو گئے ؛ یہاں انہوں نے ان کا دکھ محسوس کرتے ہوئے نیتن یاہو اور اسرائیلی جھنڈے کی تصویر پرنٹ کروا کے روڈز پر چپکا دی، وہاں بجلی، پانی، گیس بند ہو گیا، یہاں انہوں نے ایک نغمہ ریلیز کر دیا، وہاں اسپتال اڑا دیے گئے، یہاں انہوں نے 50 لوگ اکٹھے کر کے ریلی نکال دی اور شعلہ بیان مقررین نے بڑی بے شرمی سے کہا کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔ او بھائی، آپ کیسے ساتھ ہیں؟ انسانیت وہاں مر رہا ہے اور تم یہاں کہہ رہے ہو کہ ہم ان کے ساتھ ہیں، کیسے ساتھ ہو؟ اور تم کیسے بھائی ہو جو اپنے بھائی کے ساتھ صرف بیانیے کی حد تک ہیں۔ ترکی کی مشہور کہاوت ہے کہ یہ کہنا کافی نہیں کہ تم میرے بھائی ہو۔ ذرا بتاؤ تو، کون سے بھائی ہو؛ ہابیل یا قابیل؟

جمعہ کا خطبہ ہو یا پانچ وقت کی نمازیں ہمارے ملا حضرات مگر مچھ کے آنسو بہا کر اسرائیل کی تباہی کی دعا کرتے ہیں، یہی دعا وہ پہلے دن سے کرتے آ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج تک تمہاری دعا کبھی قبول ہوئی؟ امریکہ تباہ ہوا؟ انڈیا تباہ ہوا؟ فرانس تباہ ہو؟ ہالینڈ تباہ ہوا؟ اگر نہیں تو یہ دعا کرنا بند کرو اور عملی طور پر ان کا ساتھ دو۔ کیا تمہارا فلسطین کے ساتھ ہونا اس حد تک کافی ہے کہ تم نے جمعہ کے بعد ان کے لیے دعا کی۔ بالکل نہیں، فلسطین کے مسلمانوں کو دعا کی نہیں عملی ساتھ کی ضرورت ہے۔

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

ان لوگوں کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ ایک تو یہ لوگ ان مظلوموں کا ساتھ نہیں دے رہے دوسرا یہ انہیں اکسا رہے ہیں کہ تم لڑو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان کا ساتھ صرف فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام تک ہے۔ ایران کے صدر نے دہشتگرد اسماعیل ہنیہ کو فون کر کے بڑی بے شرمی سے کہا کہ ہم جلد ایک ساتھ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھیں گے، پڑھ لی نماز؟ یہ نماز قیامت تک نہیں پڑھیں گے، یہ تو فقط یہ بیانی ہے، جھوٹا بیان اور اخوت کا چورن ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی تین بہنیں اسرائیلی شہری ہیں، اس کے بھانجے اسرائیل ڈیفینس فورس میں ملازمت کرتے رہے ہیں اور وہ مظلوم فلسطینوں کو جنگ میں جھونک کر خود قطر بیٹھا ہے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ اگر آپ جنگ لڑ نہیں سکتے، آپ کے اندر وہ صلاحیت نہیں ہے، آپ جنگ شروع کیوں کر رہے ہیں؟ عقل نہیں تے موجاں ای موجاں!

ہمارے ایک پروفیسر بتا رہے تھے کہ غزہ میں اکیڈمک سیشن 2023۔ 24 کینسل کر دیا گیا ہے کیونکہ وہاں جتنے بھی طالب علم تھے سب مارے گئے ہیں، کتنی افسوس ناک بات ہے۔ اس سے بڑی افسوس ناک بات ہے کہ اسلامی ممالک منافقت اور بے حسی کا لبادہ اوڑھ کر سو رہے ہیں۔ اور کچھ نہیں کر سکتے تو فقط جنگ بندی ہی کروا دیں۔

جہاں دیکھو انہوں نے چندے کے ڈبے رکھ کر کاروبار شروع کر دیا ہے، اب ان سے بندہ پوچھے کہ بھائی ایک بات تو یہ ہے کہ غزہ کا چاروں اطراف سے محاصرہ ہو چکا ہے وہاں امداد پہنچے گی نہیں اور دوسری بات اگر وہاں پہنچ بھی جاتی ہے تو کیا وہاں ملبے اور لاشوں کو امداد دینی ہے؟ یا اس سے اپنا ہی پیٹ بھرنا ہے؟

کوکا کولا کو نالے میں بہانے سے آپ اسرائیل کو کتنا نقصان پہنچا لو گے؟ میکڈونلڈ کا بائیکاٹ اسرائیل کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے؟ کیا شیزان کے بائیکاٹ سے احمدی برادری ختم ہو گئی؟ یہ ساری اوچھی حرکتیں ہیں، ان سے نقصان پھر بھی ہم پاکستانیوں کا ہونا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میکڈونلڈ اور کوکا کولا وغیرہ میں مقامی لوگ کام کرتے ہیں اگر یہ کمپنیاں یہاں اپنی سروسز بند کرتیں ہیں تو بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور دوسرا کھانے کو کچھ معیاری مل جاتا ہے وہ بالکل نہیں ملے گا۔ پھر اس کے بعد ہمارے حصے میں کھوتا بریانی اور کتا کڑاہی آنی ہے۔ اور ہم پاکستانی مقامی لیول پر پروڈیوس کیا کر رہے ہیں سوائے، نفرت، دہشت گردی، قتل و غارت، بلاسفیمی اور فرقہ واریت کے؟

دنیا پھر کے تمام اسلامی ممالک کے لیڈران کو روایتی منافقت اور بے حسی سے نقل کر فلسطین میں جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حماس پر مکمل پابندی لگنی چاہیے تاکہ آئندہ یہ ایسی کوئی حرکت نا کر سکے جس سے فلسطینیوں کو خمیازہ بھگتنا پڑے۔ یہ حماس معصوم لوگ مروانے کی فیکٹری ہے۔ اسرائیل کو سفاکانہ کارروائی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رکھنے کی لیے موثر حکمت عملی اپنائی جائے اور اس میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سربراہوں کو ملوث کیا جائے تاکہ اسرائیلی کسی بے گناہ فلسطینی کو دوبارہ نا مارے۔

 

Facebook Comments HS