Book Review : Confessions of a Grandmother


Author: Yasmin Elahi
Publisher:Auraq publications
Pages: 240
دل چھونے والی کتاب

کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو دل چھو لیتی ہیں۔ آپ سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ آپ پڑھتے ہوئے مسکرانے لگتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ ساتھ مسکاتی جاتی ہے۔

ایسی ہی ایک کتاب گزشتہ دنوں زیر مطالعہ رہی جس نے مجھے اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہ کتاب یاسمین الٰہی صاحبہ کی confessions of a grandmother کے نام سے ہے جس میں انہوں نے ایک بیٹی، پھر ماں اور پھر نانی/دادی بننے تک کے احساسات کو اتنی خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے کہ آپ بے ساختہ واہ کہہ اٹھتے ہیں۔

میں نے تو اس کتاب پر ہائی لائٹر کا استعمال بھی کیا ہے کہ کچھ باتیں ہم روانی میں ایسی لکھ جاتے ہیں جو قاری کے دل پر ایک خاص اثر چھوڑ جاتی ہیں۔

اچھا سب چھوڑیں، یہ بتائیں کہ ایک صبح آپ اٹھتے ہیں اور کمرے سے باہر نکلتے ہیں تو آپ کے اہل و عیال آپ کو آپ سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہیں۔ یہ ایک جشن کا سا سماں ہوتا ہے اور آپ دیکھ کر جہاں شاداں و فرحاں ہوتے ہیں وہیں وقت کی رفتار پر حیران بھی ہوتے ہیں۔ جی ہاں! آپ وہی ہیں جس کی کبھی پہلی سالگرہ منائی گئی تھی، کبھی چھٹی سالگرہ، سویٹ سکسٹین تو آپ کو یاد ہی ہوگی اور پلک جھپکتے میں سویٹ سکسٹی سالگرہ آن پہنچی ہے؟

آپ سمجھ نہیں پاتے کہ یہ جو خوشی، حیرانی کے ساتھ اداسی بھرے جذبات ہین انہوں نے آپ پر دھاوا کیوں بول دیا ہے؟ کیوں آپ مسکرا بھی رہے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے موتی بھی لڑھک رہے ہیں؟

آپ اللہ کے شکرگزار بھی ہیں کہ اس نے اتنی اچھی فیملی دی، فرمانبردار اولاد، لاڈلے پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں۔ لیکن وقت کے اتنے تیزی سے گزرنے پر ہق دق بھی ہیں۔

اور کب سے آپ کے اپنے بنائے ہوئے اصول بدل گئے؟ وہ چیزیں جو آپ کی اپنی اولاد کے لیے سختی سے ممنوع قرار دے دی گئی تھیں آج اپنی نواسی یا پوتی کے لیے آپ ہی حامی بنی کھڑی ہیں؟

کیسے بدلا سب؟ کیسے چلا زندگی کا پہیہ اتنا تیز جو آج آپ کو ایک دادی/نانی کے روپ میں لے آیا ہے؟

کتاب کی مصنفہ محترمہ یاسمین الٰہی صاحبہ نے اپنی زندگی کے تمام کردار بے حد خوش اسلوبی سے نبھائے ہیں۔ ان کے تمام اعترافات میں سے ایک اعتراف یہ بھی ہے کہ اگر انہیں ماضی میں جانے کا موقع ملے تو وہ اپنی اولاد پر بھی سختی نہ کریں اور انہیں بھی نواسے / پوتے والا لاڈ دیں۔ مانا کہ اصل سے سود زیادہ پیارا ہوتا ہے یا ہماری میمن میں کہتے ہیں کہ دودھ سے کھیر زیادہ پیاری ہوتی ہے لیکن گزرتا وقت بتاتا ہے کہ دودھ بھی کھیر کو دی جانے والے لاڈ کی متقاضی تھی۔ لیکن ہر زمانے میں ہر اولاد کے پاس ایک سخت امی ہیں تو ایک لاڈ اٹھانے والی نانی دادی بھی رہی ہیں۔

میں نے کبھی اپنی نانی کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔ مجھے بس ان کی ہلکی سی شبیہ اور سفید چکن کے کرتے پر لگے سونے کے بٹن ہی یاد آتے ہیں۔ لیکن اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں اپنی نانی کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوں اور وہ میرے بالوں میں اپنی جھریوں والی گداز انگلیاں گھماتی جا رہی ہیں اور اپنے زندگی کے تجربات دلچسپ انداز سے ہولے ہولے بتاتی جا رہی ہیں۔

زندگی کے راز، اسرار، مسائل کی کنجیاں، ٹینشن کو پرے بھگانا، نہ کہنا سیکھنا، تمیز سے اپنا موقف دوسروں کے سامنے رکھنا اور اس جیسے کتنے ہی ضروری اسباق جانے کب اور کیسے گھولتی چلی جاتی ہیں کہ میں بس کھوئی کھوئی سی کتاب میں مگن رہتی ہوں۔ ایک شفقت اور مامتا کا سمندر ہے جس سے خود کو بھگوئے جاتی ہوں

سکون ہی سکون ہے جو رگ و پے میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔
یاسمین آنٹی! اتنی پیاری کتاب لکھ کر آپ نے ہمیں اپنی نانی دادی سے ملوا دیا ہے۔
اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ ایک حسین کیفیت سے خود کو محروم رکھے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS