ہم سب ابلتی پتیلی میں بیٹھے مینڈک ہیں!
آج صبح پھر وہی گیس کی غیر حاضری۔ پہلے صبح چھ بجے گیس آجاتی تھی، مگر آج 6:10 پہ آنے کے بعد بھی بار بار اسے دمہ کے جھٹکے لگ رہے تھے۔ پندرہ منٹ میں تین سے چار مرتبہ گیزر کو دوبارہ آگ دکھانی پڑی کہ کسی طرح چل جائے۔ بچوں کا اسکول لنچ بکس بھی انتظار میں تھا کہ کب میری قسمت جاگے۔ آخر چولہوں کا کچھ سانس بحال ہوا تو میری بھی جان میں جان آئی۔ مگر شومئی قسمت کہ اب آفس نکلنے کا وقت انتہائی قریب آ چکا تھا اور تیل زدہ بالوں کے ساتھ آفس کو نکلنا محال تھا۔
عموماً آج کل گیس کی غیر موجودگی کی وجہ سے سر شام یا رات کو ہی پورا گھرانا یہ ایک کام تو نمٹا کر سوتا ہے تاکہ صبح صبح کی افراتفری سے بچت ہو جائے مگر کبھی کبھی کوئی فرد واحد غفلت برت ہی دیتا ہے۔ آج وہ غافل شخص راوی تھا۔ بھاگ کر غسل خانے کا رخ کیا کہ محض بال دھو کر روانہ ہو جاؤں کیونکہ آدھے گھنٹے میں گزارے لائق پانی تو گرم ہو ہی چکا ہو گا۔ مگر ایک بالٹی حلق تک بھر جانے کے بعد بھی جب سرد پانی سے سامنا ہوا تو پھر ڈرتے ڈرتے گیزر کی طرف جھانکا، معلوم ہوا نہ جانے کس وقت بیچارہ پھر دمہ کے اٹیک کا شکار ہو گیا تھا۔
خیر پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وین والے کو روانگی کا مژدہ سنا دیا اور ڈرتے ڈرتے چھوٹے باس کو آفس حاضری میں تاخیر کا پیغام بھیج کر ایک بڑا پتیلا بھر کے چولہے پر رکھ دیا۔
دیگچی میں پانی گرم ہوتا دیکھ کر مجھے وہ مینڈک والا سائنسی تجربہ یاد آ گیا، جس کا ذکر شاید یہیں کہیں سماجی مواصلاتی چبوتروں پہ پڑھا تھا۔ کہ اگر ایک مینڈک کو پانی سے بھرے برتن میں ڈال کر چولہے پر رکھ دیا جائے تو وہ اپنے جسمانی درجہ حرارت کو پانی کے درجہ حرارت کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ اور حرارت کے بڑھنے پر بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتا، بالآخر ابلتے ہوئے پانی میں ابل ابل کر دم توڑ دیتا ہے۔ واللہ اعلم کہ اس تجربے میں کس حد تک صداقت ہے، لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ بھی پڑھنے میں آیا ہے کہ اگر پہلے سے ابلتے ہوئے پانی میں مینڈک کو ڈالا جائے تو وہ اچھل کر باہر آ جاتا ہے۔
ایک لمحے کو لگا۔ ہم سب بھی تو مینڈک ہی بن گئے ہیں۔
حالات بد سے بد ترین ہوتے جا رہے ہیں اور ہم بحیثیت قوم کوئی رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے اس قدر ذہنی مفلوج ہو چکے ہیں کہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالے جا رہے ہیں۔
یا زیادہ سے زیادہ کیا کر لیا؟ ایک دو دن احتجاج کے نام پر شور شرابا؟ اب تو وہ بھی مفقود ہو کر ٹویٹر کے ٹرینڈز اور ہیش ٹیگز تک محدود ہو گیا ہے۔
مجھے یاد ہے، بچپن میں ایک مرتبہ والد صاحب کے ساتھ ملتان جانا ہوا تھا گرمیوں کی چھٹیوں میں، شاید نوے کی دہائی کے اوائل سال تھے۔ وہاں پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ سر شام 7 بجے بجلی غائب ہو جاتی تھی روزانہ وہ بھی ایک گھنٹے کے لیے۔ اس وقت یہ بات ہم کراچی والے بچوں کے لیے عجوبہ تھی۔ کہ روز لائٹ چلی جاتی ہے۔ کراچی اس وقت اس وبا سے محفوظ تھا، کبھی شاذ و نادر اگر بجلی کی فراہمی معطل ہو بھی جاتی تھی تو پورا محلہ دیکھنے جمع ہو جاتا تھا کہ آخر وجہ کیا ہے؟
اس ناگہانی کی وجہ سے اوقات زندگی متاثر ہو جاتے تھے اور ڈھکے چھپے یا کبھی کبھی کھلم کھلا خرافاتی الفاظ میں دہائیاں بھی دی جاتی تھیں۔ اور آج ہم اس قدر مطمئن قوم ہیں کہ محض اس ہی بات پر شکر مناتے ہیں کہ ”بھئی ہمارے علاقے میں صرف تین یا پانچ گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ فلاں علاقے میں تو دس گھنٹے کی ہوتی ہے۔ “
ابھی پچھلے سال یا شاید اس سے پچھلے سال کی ہی بات ہے جب پہلی دفعہ محسوس کیا کہ چولہوں کو سانس نہیں آ رہی۔ افراتفری کا عالم عروج پر تھا۔ پریشانی الگ کہ بھئی ہمارا تو وقت ہی شام کا ہوتا ہے کھانا پکانے کا آفس سے آ کر۔ اب کیا کریں؟ کبھی فجر تڑکے ہانڈی چڑھا دی تو کبھی رات دو بجے گیس آنے پر گوشت بھون کر رکھ دیا۔ ہاں، تنور والوں کی خوب چاندی ہوئی تھی پچھلے سال۔ اور امسال یہ عالم ہے کہ جب سرتاج عزیزی نے ہماری لاہور سے واپسی پر خبر سنائی کہ ”بھئی بیگم، گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی ہے، رات ساڑھے دس بجے چلی جاتی ہے اور صبح ساڑھے پانچ بجے آتی ہے“ تو برجستہ منہ سے نکلا تھا۔ ”چلو شکر ہے، کوئی ٹائم تو فکس ہوا، اب میں اپنا ٹائم ٹیبل اس ہی حساب سے سیٹ کر لوں گی“
دیکھا۔ بن گئی نا میں بھی مینڈکی!
ویسے تو گھر میں موجود تمام با روزگار افراد کو صبح صبح تازہ دم ہو کر آفس جانے کی عادت ہے، مگر ساری رات کا یخ پانی صبح 6:30 بجے گیزر چلانے پر بھی مناسب گرم نہیں ہوتا کہ پانچ چھے افراد باریاں لگا کر ہی وقت سے غسل فرما سکیں۔ اس لیے اس پانی کو چھوٹی عوام کے استعمال کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جسے اسکول جانا ہوتا ہے۔ باقی افراد نے اپنے اوقات کار تبدیل کر کے رات کو ہی تازہ دم ہو کر سونا شروع کر دیا ہے۔
مینڈکوں کی ایڈجسٹمنٹ کا لیول چیک کر رہے ہیں آپ؟
صرف یہی نہیں۔ غور کریں تو ہم نے ہر ہر بات کو قبول کر کے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔
مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ کوئی بات نہیں، گھر کے مردوں کے ساتھ عورتیں بھی نوکریاں کر لیں گی۔
چوری چکاری بڑھ گئی ہے۔ تو کیا ہوا، ہم راستہ بدل لیں گے۔ یا پھر کوئی چور اچکا آیا تو خاموشی سے جمع پونجی اس کے حوالے کر دیں گے۔ ”کم از کم جان تو بچ جائے گی۔“
شہر میں کتوں کا راج ہر طرف ہے۔ ارے کچھ نہیں ہوتا، خدا نا خواستہ اگر کسی کو کاٹ لیا تو سرکاری اسپتال سے ٹیکہ لگوا لیں گے۔ اور بھئی بچوں کو اچھی طرح سمجھا دیں گے کہ فلاں گلی سے مت جانا اس طرف ایک پاگل کتا پھر رہا ہے۔
پہلے کراچی میں کہیں کہیں کچرا نظر آتا تھا۔ اب کچرے میں کہیں کہیں ذرا سا کراچی نظر آ جاتا ہے۔ میرا بچپن رامسوامی/رنچھوڑ لائن جیسے اندرون شہر کے علاقوں میں گزرا ہے۔ اس زمانے میں بھی جگہ جگہ سرکاری کچرے کے ڈرم رکھے ہوئے تھے اور باقاعدہ ایک ٹرک انہیں خالی کرنے آتا تھا۔ لیکن اب؟ خیر چھوڑیے۔
گٹر بھر گیا تو محلے والے اپنی مدد آپ کے تحت گٹر کھلوا لیں گے۔ سرکاری گاڑی اگر کچرا اٹھانے نہیں آ رہی تو ہم خود ہی کوئی بندوبست کر لیں گے، ماہانہ ہمارا کچرا تو اٹھا کے لے جائے گا۔
اب ہماری بلا سے وہ محلے بھر کا کچرا اٹھا کر تیسرے محلے میں ڈال آئے، اور وہاں کا خاکروب ہمارے محلے میں ڈال جائے۔ یہ ہمارا درد سر نہیں۔
بھئی اتنی گندگی کی وجہ سے اگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ تو اس کا بھی حل ہے ہمارے پاس۔ رنگ برنگی گولیاں پھانک لیں گے دوائی کے نام پر، اسپتالوں کے چکر لگا لیں گے، آخر ان کی روزی روٹی کا بھی تو بندوبست ہونا چاہیے۔
پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔ چلو کچھ نہیں ہوتا، مہینے میں 4۔ 5 دن گوشت کا ناغہ کر لیں گے۔ یا باوا آدم کے زمانے کی بسوں میں جان کی بازی لگا کر لٹکتے ہوئے چلے جائیں گے۔ مگر پیٹرول تو مجبوری ہے نا۔
اسکول والے پھر کسی اسپیشل ڈے کے نام پر بھتہ مانگ رہے ہیں۔ اب بچوں کو تو پڑھانا ہے نا۔ چلو ایک دو مہینے اور پرانے کپڑوں میں گزارہ کر لیں گے۔ ابھی صرف رنگ ہی خراب ہوا ہے، پھٹے تو نہیں۔ چل جائیں گے دو تین مہینے اور۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا وقت بڑھ گیا ہے۔ اور ٹیکس زدہ نرخ بھی۔ اب روز روز کپڑے اور یونیفارم استری کرنے کی کیا ضرورت، بس یا وین میں بیٹھ کر تو پھر وہی شکنیں پڑ جاتی ہیں۔ بس ایک ہی دفعہ استری کر لو۔ دو تین دن نکال لینا۔ پورے گھر کی لائٹس بند کر دو بھئی۔ سب ایک ہی کمرے میں بیٹھ جائیں گے، پنکھا بھی ایک ہی چلے گا۔ بجلی کی بھی بچت ہو جائے گی۔
سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ لمبا راستہ لے کر چلے جائیں گے۔
پانی نہیں آ رہا۔ ٹینکر ڈلوا لیں گے۔
سرکاری دفتر میں ایک کام پھنسا ہوا ہے۔ یار ہزار، پندرہ سو دے کر جان چھڑاؤ۔ فٹافٹ ہو جائے گا۔
اور اس ہی طرح اور نہ جانے کیا کیا۔
کیا کیا لکھوں اور کہاں تک لکھوں۔ ؟
ہر چیز میں ہی تو ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔
پانی میں ابال آتا جا رہا ہے اور ہم اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالے جا رہے ہیں۔ لیکن کب تک؟ آخر کب تک ایسا کریں گے؟ ایسا کرتے کرتے ابل ابل کر مر جائیں گے ایک دن اور اپنی آنے والی نسلوں کو وراثت میں یہی ابلتا ہوا پتیلا دے کر چلے جائیں گے۔
سمجھ نہیں آ رہا، اس تحریر کو عنوان کیا دوں؟ کراچی کا نوحہ؟ یا کراچی کے مینڈک؟ یا شاید کراچی نہیں۔ پورا پاکستان ہی ہم جیسے مینڈکوں سے بھرا پڑا ہے۔
یا پھر کچھ مینڈک ہم میں سے ایسے بھی ہیں۔ جو اچھل کر باہر نکل آتے ہیں اس جلن سے۔ کوچ کر جاتے ہیں اس مقام سے۔ دور چلے جاتے ہیں۔ اپنا گھر اور اپنوں کو چھوڑ کر۔ کسی بہتر کل، بہتر مستقبل بہتر زندگی کی تلاش میں۔ اپنے لیے، اپنوں کے لیے۔ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے۔
کیا یہ ہجرت کر جانے والے مینڈک، موت کا انتظار کرنے والے مینڈکوں سے بہتر ہیں؟
پتہ ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ مینڈکوں کی ایک اور قسم بھی ہونی چاہیے تھی۔ جو اچھل کر خود کو اذیت دینے والے شخص پر حملہ کر دیتی۔ کچھ اس طرح کہ بوکھلاہٹ میں وہ کھولتا ہوا مائع اس ظالم پر ہی جا گرتا۔
آخر اذیت دینے والے کو بھی تو معلوم ہونا چاہیے۔ اذیت اور تکلیف کا احساس کیا ہوتا ہے؟ یا کیا پتہ وہ دن بھی آ ہی جائے کہ یہ ہی مینڈک برادری معمول بدل لے اپنا۔ کھولتے ہوئے پانی میں مرنے کے بجائے یہی کھولتا ہوا پانی الٹا دے۔ اور آزاد کرا لے خود کو اس اذیت سے؟ کیا پتہ؟!
مگر فی الحال تو مجھے یہی گمان ہو رہا ہے۔ کہ بھئی۔
”ہم سب مینڈک ہیں!“

