تبصرہ بر مضمون نصرت جاوید صاحب
آج مورخہ 31 اکتوبر 2023 کے نوائے وقت میں محترم نصرت جاوید صاحب کا کالم بعنوان ”برملا“ میں قضیۂ فلسطین کے پس منظر پر فیض احمد فیضؔ صاحب کے حوالہ سے کچھ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فیض صاحب کی یہ شیئر کردہ باتیں منطقی لحاظ سے درست ہونے کے باوجود پذیرائی حاصل نہ کر سکیں اور آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں بے شک یہ نصف صدی قبل بھی بھانپ جانا ممکن تھا۔ فیض صاحب جانتے تھے کہ سازشی وجوہات کا تذکرہ کر کے جن سے دنیا کی اکثریت آگاہ ہے ان کو بیان کر کے محض ہوا میں تیر چلانا بے سود ہے۔ اور معقول حکمت عملی کی آج بھی ہر جگہ اتنی ہی ضرورت ہے جتنی گزشتہ ادوار میں تھی۔
نصرت جاوید صاحب اپنے مضمون کے آخر پر یہ دکھ دہ حقیقت بیان کرتے ہیں :۔
” پی ایل او کے مقابلے میں حماس کی بنیاد مذہبی انتہاپسندی ہے۔ وہ مگر غزہ کی پٹی میں محصور ہوئے فلسطینیوں کی حقیقی نمائندہ شمار ہوتی ہے۔
تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ کوئی بھی عرب حکومت دل سے یہ نہیں چاہتی کہ ان کی دانست میں فقط غزہ تک محدود ہوئی یہ تنظیم اسرائیل کو ایسی ناکامی اور پریشانی میں مبتلا کردے جسے مصر اور شام جیسے ممالک 1967 ء اور 1973 ءکی جنگوں میں اپنی جدید تر افواج کے باوجود مسلط کرنے میں ناکام رہے تھے۔
اسرائیل کی غزہ کے اوپر مسلسل جاری اور کا ملاً وحشیانہ بمباری اور زمینی حملوں کی لہٰذا فقط لفظی مذمت ہو رہی ہے۔ عرب اور مسلمان ملک یکسوہوکر ایسی حکمت عملی تشکیل نہیں دیے پائے ہیں جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو انسانی بنیادوں پر تھوڑی لچک دکھانے کو مجبور کرے ”
ان کی باتیں بے شک درست ہیں لیکن کچھ اور بھی باتیں اس قصہ سے منسلک ہیں جن کی نشاندہی کے بعد تصویر واضح تر ہو سکتی ہے۔
1۔ قیام اسرائیل سے قبل فلسطینوں کا یہودیوں کے ہاتھ زمینیں فروخت کرنا۔ بعد میں کی جانے والی غلطیوں کا آغاز تھا۔
2۔ تقسیم فلسطین کے موقعہ پر اسرائیل کو کمزور اور یہود کو بزدل سمجھ کر تقسیم فلسطین کے فیصلہ کو رد کرنا غلط رد عملاً تھا۔
3۔ تقسیم کے اعلان کے بعد دیگر عرب ممالک کا اسرائیل پر حملہ یہ جانتے ہوئے کہ بربریت میں اول پوزیشن والے ملک ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسی طاقت اسرائیل کی مکمل حامی ہے۔ جس نے اقوام متحدہ میں تقسیم کے لئے قرارداد پر ووٹنگ کو مقررہ دن سے thanks giving day کے بہانے ملتوی کروا یا اور دو دن کے اس وقفہ میں دوسری مملکتوں کو جو تقسیم کے حق میں نہ تھیں مجبور کر دیا کہ وہ تقسیم کے حق میں ووٹ دیں اور خلاف ووٹ نہ دیں۔
4۔ ایسی صورتحال میں فلسطین کی اس تقسیم کو تسلیم نہ کرنا سیاسی حکمت عملی کے بر عکس تھا۔
5۔ قیام اسرائیل کے بعد پہلی ہزیمت کے نتیجے میں عربوں نے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا طریق اپنایا جس سے اسرائیل کے ساتھ مغربی ممالک کی ہمدردیوں میں اضافہ ہونے لگا۔
6۔ اس فلسطینی مزاحمت کی حکمت عملی میں ”اسلامی جہاد + بائیں بازو کا اینٹی امپیریلزم“ بظاہر دو متضاد نظریات پر مبنی جدوجہد آزادی اپنی ناکامی کو بھی ساتھ ساتھ پروان چڑھاتی رہی تھی جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
7۔ یہود کو حقیر جانتے ہوئے مصریوں کا نعرہ ”نحن ابناء الفراعنة“ ہم فرعونوں کی اولاد ہیں ایک غلط سمت حرکت تھی۔ جبکہ مسلمان اعتقادی طور پر حضرت موسیٰ اور فرعون کی تمثیل کی روشنی میں یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں۔
8۔ فلسطینی قومی جد و جہد آزادی کا انحصار فلسطینیوں کی اپنی استعداد سے زیادہ بیرونی معاونین پر ہے۔ جبکہ بیرونی معاون ممالک ایک دوسرے کے معاند ہیں۔ فلسطینی ان معاندین کی کشتیوں کے مسافر ہو کر نقصان اٹھا رہے ہیں۔
9۔ حکومتیں ہمیشہ اپنے مادی مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلے کرتی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے معاند مگر لمبے عرصہ تک فلسطینی جہاد کے حامی رہے اور اب بھی دونوں کی حکمت عملی میں تبدیلی فلسطینیوں کے حق میں ناسازگار ہے۔
10۔ اردن نے جو ابتداً فلسطینیوں کا بہت بڑا حامی ملک تھا فلسطینی مہاجرین کو ملک میں بٹھا نے کے بعد ان مجاہدین کی جارحانہ سرگرمیوں سے اس قدر تنگ ہوا کہ پاکستان سے ضیا الحق جیسے مومن کو کرایہ پر منگوا کر فلسطینیوں کو ملک بدر کروانا پڑا۔
11۔ فلسطین کے عیسائی اور مسلمان بظاہر ایک پیج پر ہیں اور جدوجہد آزادی میں متشدد رویہ کا آغاز عیسائیوں نے عیسائی ممالک کی اخلاقی مدد اور چشم پوشی سے کیا۔ جس کا کریڈٹ ان کے کھاتے میں جبکہ دہشت گردی کی لعن طعن مسلمان کہلانے والوں کے اکاؤنٹ میں درج ہوتی ہے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے نام ایک جیسے ہونے کی وجہ سے عام مسلمان اس فرق سے بے خبر ہیں۔ اور وہ فلسطین کے معاملہ کو محض اسلامی معاملہ سمجھتے ہیں۔ قبلہ اول کی حفاظت کے نام پر جذبات کی انگیخت کے بجائے حکمت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
12۔ یہ بالکل بجا ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کی منطق ایس ہی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے جو اس وقت اس خطہ میں دکھائی دے رہی ہے اور اسرائیل کا عمل جمہوری اور انسانی قدروں کی تکریم کے دعویٰ کی پوری طرح نفی کر رہا ہے۔
13۔ فریقین کی طبائع میں جو قسوۃ القلب جم چکی ہے صرف خارجی قوت سے (بشرطیکہ وہ انصاف پسند ہو) ہی ممکن ہے جس طرح یاسر اور رابین کے درمیان 1993 میں صدر امریکہ بل کلنٹن نے کوشش کی تھی اور دنیا نے قدرے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ دو سال کے عرصہ میں اسرائیل کے وزیر اعظم اسحاق رابین کو قتل کر کے ایک کٹر یہودی نے پکی پکائی ہنڈیا میں پانی ڈال دیا۔
14۔ اس دلدل سے نکلنے کے لئے بنیادی اصول پر عملی اتفاق کی ضرورت ہے کہ :
تمام انسان قانون کی رو سے برابر ہیں، تکریم انسانیت ایک ناقابل تنقیص قدر ہے اور کسی شخص کی بھی اس کی جنس، اس کے نسب، نسل، زبان، اور اپنے مذہبی یا سیاسی نظریات کی وجہ سے تحقیر نہیں کی جانی چاہیے۔


