جرمنی میں حماس تنظیم کالعدم قرار
جرمنی کی، ایس پی ڈی، سوشل ڈیموکریٹک جماعت کی راہنما، جرمن وزیر داخلہ مسز نینسی فے زر نے فلسطینی آرگنائزیشن حماس اور فلسطینی حامی نیٹ ورک، سمیدون، کو جرمنی میں کالعدم قرار دیتے ہوئے ممنوع قرار دیا ہے۔
سمیدون نامی تنظیم پر، جرمنی میں بطور آرگنائزیشن اور سرگرمیوں کے حوالے سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ سمیدون، جو فلسطینیوں کی ”فلسطینی یوتھ موبائیلیزیشن نوجوان موومنٹ“ ( حیراک لمیٹڈ) نامی تنظیم کے نام سے متحرک تھی، تحلیل کر دی گئی ہے۔
مسز فے زر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ”جرمنی میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم پوری طاقت سے یہود دشمنی نظریے کی مخالفت کریں گے اور حماس کے، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے والے نظریہ کی وجہ سے، حماس تنظیم کو جرمنی میں کالعدم قرار دیا گیا ہے“ ۔
سمیدون، ”قیدیوں کی یکجہتی تنظیم“ کے نام سے، مختلف ممالک بشمول جرمنی میں، اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں، پیش پیش تھی اور حماس تنظیم کو گلوری فائی کرتی تھی۔ یہ ممانعت جرمن آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت جرمنی کے اندر رہتے ہوئے، غیر قانونی سرگرمیوں میں متحرک تنظیموں کو ممنوع قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ سمیدون گروپ کو فوراً ممنوعہ قرار دیا گیا ہے اور ان کی، جرمنی میں سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے کیونکہ وہ، ماضی اور حال میں، برلن شہر میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہروں کی نظامت کرتے تھے اور ان مظاہروں میں یہود دشمنی اور اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے تھے /ہیں۔
جرمن آرگنائزیشن ایکٹ کی رو سے، ہر وہ گروپ جو آئینی حکم اور بین الاقوامی تفہیم کے نظریات کے خلاف ہو گا اور اس کے خلاف شواہد اور ثبوت موجود ہوں گے، تو جرمنی میں اسے ممنوع قرار دیا جائے گا اور اس کو جرمنی میں ہر قسم کی سرگرمیوں کی
ممانعت ہوگی۔ سمیدون پر یہ الزام ثابت
ہو چکا تھا۔
جرمن قانون (آرٹیکل پانچ) کے تحت آزادی
اظہار رائے ایک نہایت قیمتی اثاثہ ہے اور جرمن قوانین کا بنیادی رکن ہے۔ اور جو جرمنی میں رہنے والے ہر شہری کو، اپنی رائے رکھنے اور رائے کا عوامی سطح پر پرچار کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس لئے
بنیادی حقوق کے تحت مظاہرے کا حق دیا جانا بھی لازمی امر ہوتا ہے۔ اس لئے تنظیموں کے اجتماعی عمل اور نظریات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انفرادی طور پر اراکین کے ایسے غیر قانونی اقدامات کو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ صرف عدالت فیصلہ کر سکتی ہے۔
جرمن وزیر داخلہ فے زر نے 11 اکتوبر کو فلسطینی/اسرائیلی تنازع کے بعد ، جرمنی میں، حماس کے حامیوں کے خلاف سخت اقدامات اور پکڑ دھکڑ کا عندیہ دیا تھا۔
حماس، بطور غیر ملکی تنظیم، سمیدون کے برعکس، جرمنی میں واضح اسٹرکچر کے ساتھ رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔
یورپین یونین کی طرف سے، عرصہ دراز سے، حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا تھا۔ جس کی یورپین عدالت نے توثیق بھی کی تھی۔ جرمنی نے اس
یورپین ممانعت کی مثل اقدامات ابھی ابھی کیے ہیں
سن دو ہزار چودہ میں جرمنی کے وزیر داخلہ، مسٹر تھامس ڈے مائزیرے نے بھی، آئی۔ ایس یعنی دولت اسلامیہ کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے جرمنی میں ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔
حماس کو ابھی صرف بطور تنظیم ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی، جرمنی میں سرگرمیوں پر، باقاعدہ طور پر پابندیوں کا اعلامیہ جاری نہیں ہوا ہے۔ لیکن جرمنی کے چانسلر جناب اولاف شولس نے عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی حماس کو جرمنی میں ہر قسم کی سرگرمیوں کی ممانعت ہوگی۔ مزید یہ ہے کہ ہر وہ تنظیم جو ریاست اسرائیل کے مکمل طور پر خاتمے کے نظریہ کو فروغ دے گی اسے جرمنی میں ممنوعہ قرار دیا جائے گا۔
کسی بھی تنظیم اور تنظیمی سرگرمیوں کی ممانعت، بنیادی طور پر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک ممنوعہ قرار دی گئی تنظیم اور اس کے گروہی ارکان کو، جرمنی میں فعال ہونے، مجالس منعقد کرنے یا/اور انفرادی، گروہی نشانات استعمال کرنے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ ان کی جائیداد ضبط ہو سکتی ہے۔
ممانعت کے باوجود اگر کوئی گروپ یا فرد، تنظیم کو پھر بھی فعال رکھنے کی کوشش کرے یا مجالس منعقد کروائے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے


