غزہ کی تشویشناک صورت حال اور ہماری ذمہ داری

ہر گزرتے دن کے ساتھ غزہ کے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ نہتے فلسطینی شہریوں اور با الخصوص معصوم بچوں کے قتل عام کی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوفناک انسانی المیہ رونما ہو رہا ہے۔ عمارات تباہ حال اور مواصلاتی نظام معطل ہے۔ پناہ گزین کیمپوں، ہسپتالوں اور اسکولوں کو میزائلوں سے نشانہ بنتے دیکھ کر انسانیت شرما رہی ہے۔ امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی ریاست نے 20 سے 23 لاکھ آبادی والے غزہ کو انسانیت سوز مظالم اور بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے ملبے اور راکھ کے ڈھیروں میں بدل دیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کا ایک ماہ مکمل ہونے میں چند روز باقی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بے گناہ اور نہتے شہریوں کی شہادتوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جن میں 3750 سے زائد بچے اور 2400 کے قریب خواتین شامل ہیں۔ جبکہ 32 ہزار فلسطینی زخمی ہیں۔ شہداء اور زخمیوں کی تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق ہر دس منٹ میں ایک بچہ شہید کیا جا رہا ہے۔ شہداء میں چند گھنٹوں کی عمر پانے والے عدی جیسے نومولود بھی شامل ہیں جن کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ بننے سے پہلے ہی اموات کے سرٹیفیکیٹس بن گئے۔
اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے مسمار گھروں کے ملبے پر بیٹھے خاندان میں تنہا زندہ بچ جانے والے بچے مظلومیت کی نظیر بنے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ پانی، خوراک، بجلی اور گیس کی بندش سے متاثر فلسطینی عوام جنگی جرائم کی مرتکب صہیونی ریاست کو ظلم و جبر کی کھلی چھٹی ملنے پر اقوام متحدہ جیسے اداروں سے شکوہ کر رہے ہیں اور بیشتر مسلم حکمرانوں کی معنی خیز خاموشی پر دکھی ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل غزہ کے محصورین اقوام عالم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا جنگ کے دوران ہسپتالوں، اسکولوں اور عوامی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا جنگی جرائم نہیں؟ خواتین، بچوں، مریضوں اور نہتے شہریوں کے قتل عام روکنے کے لیے عالمی قوانین موجود نہیں؟ کیا شہریوں کو گھروں سے زبردستی بے دخل کرنا، رہائشی علاقے خالی کروانا اور شہری آبادیوں پر بمباری کرنا دہشت گردی نہیں؟ کیا باقی اقوام اور فلسطینی قوم کے لیے عدل و انصاف کے معیار الگ الگ ہیں؟ لہو لہو غزہ کے شہری دنیا کے منصفوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے جس کی پاداش میں جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے؟
غزہ کی موجودہ صورتحال پر دنیا بھر میں انسانیت کا احترام کرنے والے افراد اور اقوام بے چین ہیں۔ دنیا کے تقریباً سب ہی ممالک کے چھوٹے بڑے شہروں میں مختلف جماعتوں، تنظیموں اور سوسائٹیز کے زیر اہتمام لوگوں کی بڑی تعداد فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بربریت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔
ایسے میں پاکستانی عوام بھی غزہ کے محصورین کے لیے فکر مند ہیں۔ بیت المقدس سے دینی اور روحانی تعلق اس بے چینی میں اضافہ کا باعث ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر فلسطین اسرائیل حالیہ کشیدگی پر بحث مباحثے عروج پر ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد تاریخی حقائق اور مشرق وسطی میں کشیدگی کے اسباب سے ناواقف بھی ہے تاہم شہری آبادیوں پر اسرائیل کی جانب سے وحشیانہ بمباری، خواتین اور بچوں کی اموات سمیت دیگر جنگی جرائم پر شدید عوامی ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مختلف جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں میں غزہ کی تشویشناک صورت حال پر نگران حکومت کی مصلحت پسندانہ اور مبہم پالیسی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بہت سارے سوشل میڈیا صارفین بھی حکومت سے سخت موقف اپنانے اور ترکیہ کی طرح حکومتی سرپرستی میں غزہ کے مظلومین سے اظہار یکجہتی اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف صارفین کی جانب سے پاکستان کے کردار کو لے کر طرح طرح کے تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
حکومتی پالیسیوں اور موقف سے ہٹ کر دیکھا جائے کہ انسانی المیے پر بحیثیت انسان ہماری کیا ذمہ داری ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ انسانیت کے ناتے بلا امتیاز رنگ، نسل، ذات اور مذہب مظلومین سے ہمدردی فطرت میں شامل ہے۔ غزہ میں انسانیت کے قتل عام اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر سب سے پہلا مطالبہ فوری جنگ بندی کا ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت اور انسانیت کی تذلیل کے خلاف آواز بلند کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔
اسلحہ اٹھا کر میدان جنگ میں اترنے کی صلاحیت سے ہم محروم ہیں۔ لیکن اپنے مرتبے اور اختیار کے مطابق ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر قادر ہیں۔ موجودہ حالات میں جو انسان غزہ میں سسکتی انسانیت کے حالات دیکھ کر خاموش ہے وہ منافق کہلانے کے قابل ہے۔ جس کو اللہ تعالٰی نے قوت گفتار دی ہے وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے، مصنفین اپنی تحاریر کے ذریعے قلمی جہاد جاری رکھیں۔ سوشل میڈیا جو کہ عصر حاضر میں انتہائی موثر پلیٹ فارم ہے کو بھرپور انداز میں استعمال کر کے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے اور اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ مزید مظالم سے باز رہے۔
عوامی سطح پر اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہو کر معاشی دباؤ ڈالنے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مسلم حکمرانوں پر واضح موقف اپنانے اور فلسطینیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کو موثر بنانے کے لیے دباؤ بڑھانا ہو گا۔ ہم کھیل کے میدانوں میں علامتی احتجاج اور مختلف نوعیت کے اجتماعات و تقریبات میں اسرائیلی جارحیت پر کڑی تنقید اور فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور مظلومین غزہ سے ہمدردی کے لیے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں پر فلسطینی پرچم لہرا کر دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ ظلم اور دہشت گردی پر خاموش نہیں ہیں۔
اس وقت پوری دنیا میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن کے ذریعے فلسطینیوں کی آزادی اور دو ریاستی حل کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ بہت جلد اسرائیل اور اس کے حامی عوامی احتجاج سے سفارتی اور اخلاقی دباؤ کا شکار ہو کر جنگ بندی پر مجبور ہو جائیں گے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی صورت پیدا ہوگی۔

