ہماری یونیورسٹیاں اور فرنگی دور کی دیسی ریاستیں
جب بھی دیوان سنگھ مفتون کی کتاب ناقابل فراموش پڑھتا ہوں تو دھیان فرنگی دور کی دیسی ریاستوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ ریاستیں جو اب قصہ پارینہ ہو چکی ہیں، مگر ان کی کہانیاں، نشانیاں اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔ یہ دیسی ریاستیں تھیں کیا اور یہ دیوان سنگھ مفتوں کون تھا اور ان کا ہماری یونیورسٹیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ فرنگی دور کا ہندوستان دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک وہ حصہ جس پر انگریز براہ راست حکومت کرتے تھے اور دوسرا وہ جو پانچ سو سے زیادہ چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔
ان ریاستوں کو فرنگی سرکار کی طرف سے داخلی خود مختاری حاصل تھی۔ ہر ریاست میں فرنگی ریذیڈنٹ ہوتا تھا تاکہ فرنگی سرکار کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ان میں سے کچھ ریاستیں اتنی بڑی تھیں جتنا کہ اپنا صوبہ پنجاب اور کچھ اتنی چھوٹی جیسے کے کوئی یونین کونسل۔ معروف ریاستوں میں آپ حیدرآباد دکن، بہاولپور، قلات، جونا گڑھ، ڈیرہ دون، کشمیر اور پٹیالہ سے تو واقف ہی ہوں گے۔ ان ریاستوں کے نظام پر نظر رکھنے کے لیے فرنگی سرکار نے چیمبر آف پرنسز بنا رکھا تھا جس میں ریاستوں کے سربراہ جو کہ راجہ، نواب، سردار اور مہاراجہ کہلاتے تھے، ممبر کی حیثیت سے شامل ہوتے تھے۔ چیمبر کی صدارت وائسرائے ہند کرتا تھا۔
دیوان سنگھ مفتون صحافی تھا جس کا مخصوص موضوع دیسی ریاستوں اور ان کے معاملات پر لکھنا تھا، اس نے ریاست کے نام سے ایک اخباری پرچہ بھی نکال رکھا تھا جو چلتا اور بند ہوتا رہتا تھا۔ ریاستوں کے معاملات پر لکھنے کی وجہ سے بیچارہ کئی بار راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کے عتاب کا شکار ہوا اور اسے زنداں کی ہوا کھانی پڑی۔ وہ بھی بڑا سخت جان تھا اور ریاستوں کے خاتمے تک ان پر لکھتا رہا۔ اس کی کتاب ناقابل فراموش ریاستوں، ان کے نوابوں، محلاتی سازشوں اور ان کے عوام کے حالات سے بھری پڑی ہے۔
یہ دیسی ریاستیں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد مغل ہندوستان کے زوال میں سے برآمد ہوتی رہیں مگر ان میں سے وہی باقی رہیں جو فرنگی سرکار کی چھتر سایہ میں آ گئیں۔ سرکار نے وفاداری کے بدلے میں ان ریاستوں کو اتنی داخلی خود مختاری دی کہ ریاست کے سربراہ کو زمین اور لوگوں کی جانوں کا مالک بنا دیا۔ ریاستیں سرکار کو خرچ کے لیے مال اور جنگ کے لیے سپاہی فراہم کرتی تھیں۔
ان دیسی ریاستوں کے نظام اور برٹش انڈیا کے نظام میں وہی فرق تھا جو دیسی اور ولایتی اشیاء میں ہوتا ہے۔ ایسا فرق جو دیسی اور ولایتی بندوق میں ہوتا ہے۔ ریاست کے نواب یا راجہ کا حکم ہی قانون تھا اور وہ حسب ضرورت بدلتا رہتا تھا۔ پنڈت نہرو نے اپنی سوانح عمری میں نابھا سٹیٹ کا ایک واقع لکھا ہے کہ وہ کسی سلسلے میں وہاں کانگریس کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گیا اور دھر لیا گیا۔ ان کے ساتھ تھانے اور عدالت میں وہ سلوک ہوا جو بنیادی حقوق سے محروم لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
ان کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بعد بمشکل نجات ملی۔ وہاں جہاں نہرو جیسے بڑے آدمی کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا تھا وہاں ریاستی عوام کا کیا حال ہو گا۔ ان ریاستوں کا نظام سربراہ کے منظور نظر لوگ چلاتے تھے، جن کے انتخاب کا معیار قابلیت کی جگہ چاپلوسی ہوا کرتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ ریاستیں انتظامی طور پر اچھی تھیں مگر ان کا شمار آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ اسی تناسب سے ریاستی نواب اور راجے اچھے کام بھی کیا کرتے تھے۔ ان دیسی ریاستوں کا نظام فرسودہ اور بوسیدہ ہو چکا تھا، تقسیم نا بھی ہوتی تو یہ اپنی عمر پوری کر چکی تھیں۔
عجیب بات ہے دیسی ریاستوں سے متعلق پڑھتے ہوئے مجھے کبھی یونیورسٹیوں کا خیال نہیں آیا مگر میں نے جب بھی اپنی یونیورسٹیوں کے معاملات پر غور کیا تو مجھے ہمیشہ ایسا لگا کہ یہ عہد حاضر کی دیسی ریاستیں ہیں اور وہ سب کردار و روایات لوٹ آئی ہیں۔ برسوں پہلے ایک بزرگ اپنے دور حکومت، معاف رکھیے گا، دور وائس چانسلری کے واقعات سنا رہے تھے۔ کہنے لگے ایک بار گورنر میرے ہاں یونیورسٹی کے دورے پر آئے اور جاتے وقت کہنے لگے میرا جی کرتا ہے کہ میں گورنری چھوڑ کر وائس چانسلر بن جاؤں، حکومت کے لیے ایک ریاست تو ملے گی۔
آپ کہیں گے ظاہری مماثلت تو ہو سکتی ہے مگر ایک یونیورسٹی اور فرنگی دور کی دیسی ریاست میں اور کیا مشترک ہے۔ سادہ بات یہ ہے کہ جیسے دیسی ریاستوں کا انتظام چلایا جاتا تھا ویسے ہی ہماری یونیورسٹیوں کا نظام بھی چلایا جاتا ہے۔ وہاں راجہ اور نواب کی مرضی ہی قانون تھا یہاں بھی ایسا ہی ہے، وائس چانسلر صاحب بہادر کی پسند و نا پسند قانون ہے۔ صاحب بہادر کی قربت و وفا داری خزانوں کے دروازے کھول دے گی اور نا پسندی زمین تنگ کر دے گی۔
برسوں پہلے استاد محترم سے ملنے ان کی یونیورسٹی گیا، وہ ایک بڑی دیسی ریاست، میرا مطلب ہے بڑی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ ان سے ملا تو دیکھا وہ ایک ہی وقت میں کئی بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ میں نے پوچھا اتنا بہت سا بوجھ آپ پر ڈال دیا گیا ہے، مسکرا کر کہنے لگے صاحب میرے علاوہ کسی سے مطمئن ہی نہیں ہوتے، میں ہنس دیا، جی تو ماتم کرنے کو چاہتا تھا۔ سوچا کوئی قانون ہوتا تو میرے استاد کے ساتھ دوسرے قابل لوگ ان عہدوں پر ہوتے، مگر دیسی ریاستوں میں قانون کہاں وہ تو باپ کی جاگیر سمجھ کر چلائی جاتی ہیں۔
کچھ برس پہلے میں ایک یونیورسٹی کی اسٹاف کالونی میں گیا اور وہاں دیکھا کسی گھر سے کسی کا سامان ایسے نکالا جا رہا ہے جیسے باہر پھینکا جا رہا ہو۔ ایک جاننے والے سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے۔ کہنے لگے ایک پروفیسر صاحب جو اب منظور نظر نہیں رہے ان کا سامان صاحب کے حکم سے باہر پھینکا جا رہا ہے۔ میں نے کہا کوئی قانون کوئی اصول، کہنے لگے ان کو جب کسی قانون کے تحت ملا نہیں تو اب کسی قانون کے بغیر واپس بھی لیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں واقعات دو بڑی یونیورسٹیوں کے ہیں جہاں لوگ اتنے کمزور نہیں ہوتے، آپ سوچیے چھوٹی یا کم جانی جانے والی یونیورسٹیوں کے راجے اور نواب کیا کرتے ہوں گے۔ ہماری یونیورسٹیاں انتظامی طور پر اتنی ہی بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکی ہیں جتنی کے فرنگی دور کی دیسی ریاستیں۔
آپ کہیں گے کہ یونیورسٹیوں کے قوانین ہوتے ہیں، ان میں ادارے ہوتے ہیں جو فرد واحد کے زور کو توازن میں رکھتے ہیں، اور ان کے اوپر اعلیٰ تعلیمی کمیشن ہوتا ہے۔ سن لیجیے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی حالت چیمبر آف پرنسز سے مختلف نہیں، وہ ایک نمائشی ادارہ ہے، اس کا اپنا ایجنڈا ہے، اسے ایک یونیورسٹی کے حسن انتظام سے کیا لینا دینا۔ کمیشن اپنا کام ٹھیک کرتا تو یونیورسٹیاں دیسی ریاستیں نا بنتیں۔ اور یونیورسٹیوں میں موجود ادارے ربر کی مہر سے زیادہ کچھ بھی نہیں، وہاں نواب جو چاہے وہی کچھ ہوتا ہے، وہاں اول تو آزاد رائے رکھنے والا پہنچ نہیں پتا اور اگر کوئی اختلاف کرے تو نشان عبرت بنتا ہے۔ اکیڈمک انتظامی عہدوں کا حال یہ ہے کہ ایک یا دو لوگ، منظور نظر قابل نہیں، کئی کئی کلیات اور شعبوں کے سربراہ بنا دیے جاتے ہیں۔ قانون کا حال دیکھنا ہو تو کسی منظور نظر کا نوٹیفکیشن دیکھیے، اس میں جس قانون کا حوالہ دیا جائے گا وہ دراصل اس قانون کا مذاق اڑایا گیا ہو گا۔
ستم یہ ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کے دعوے دار یونیورسٹیوں کے سربراہ بنتے ہیں مگر اپنے سلوک میں وہ کسی بھی دیسی ریاست کے نواب سے اپر نہیں اٹھ پاتے۔ زیادہ تر ان میں دلیل سے خوف زدہ ہیں، اختلاف رائے گناہ سمجھتے ہیں۔ ویسے تو جو دلیل نا مانے وہ دال پر اضافی نکتے کا حقدار ہے۔ اتنے مایوس مت ہوں ایسا نہیں ہے کہ اصل ریاست سو رہی ہے، وہ کبھی کبھار جاگتی ہے اور کسی ایک کو ان جرائم پر ایسے نکال دیتی ہے جیسے فرنگی سرکار نے نابھا سٹیٹ کے مہاراجہ کو نکالا تھا۔
میری پریشانی یہ ہے کہ جن سے ہمیں اچھے مستقبل کی امید تھی وہ ماضی میں دفن ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری یونیورسٹیاں حسن انتظام کا نمونہ ہوتیں مگر۔ کاش یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اہل علم بنتے ناکہ دیسی ریاستوں کے نواب۔


