افغان پناہ گزین باپ بچے کی ملک بدری کی کہانی
پانچ سالہ معصوم بچہ اپنے والد کے گود میں کھیل رہا تھا۔ اس کے والد کی آدھی آستین قمیض سے کٹ چکی تھی۔ اس کے والد نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا ہوا تھا۔ پریشانی اس کے نمودار ماتھے سے جھلک رہی تھی۔ ماضی، مستقبل اور حال کی گرداب میں ان کی سوچ تین سو ساٹھ کی زاویے پر گردش کر رہی تھی۔ وہ کسی اور کے رحم کرم پر تھا ان سے نہ صرف ان کی آزادی چھین لی گئی تھی بلکہ ان کا گھر تقسیم ہو چکا تھا۔ ان کا خاندان بیوی اور دیگر بچے کوئٹہ میں رہ چکے تھے جبکہ ان کو ملک بدر کیا جا رہا تھا۔ بچہ اپنے حال اور مستقبل سے بے خبر کوئٹہ کے حاجی کیمپ، جو کہ غیرقانونی گرفتار شدہ افغانیوں کا عارضی کیمپ ہے، میں موجود اپنے والد کے گود میں کھیل رہا تھا۔
میں نے فکروں اور خیالوں میں غرقاب بچے کی والد سے پوچھا بچہ بنا ماں کی آپ کس طرح سنبھالو گے؟ گویا ہوا ہم بھی کئی برسوں سے اپنی ماں ( مٹی) سے دور رہے، اس مٹی کو ہم نے اپنی ماں جانا، لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ سوتیلی ماں میرے اہلخانہ کو مجھ سے اور میرے بچے کو ان کی حقیقی ماں سے الگ کر دے گی۔ ہم نے ہمیشہ اس مٹی کا اچھا چاہا اس کی خدمت کی۔ مجھ پر کیا بیت رہی ہے یہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن آپ تھوڑا سا محسوس کریں کہ بچے کے ماں کی حالت کیا ہو گئی۔ اس کی ماں میرے بیٹے کے بغیر نوالہ حلق سے نہیں اتارتی۔
بچے کے والد نے اپنے بچے کے پاؤں کی طرف میرا توجہ دلائی اور گویا ہوا سردی زیادہ ہو رہی تھی ان کے بچے نے کہی ہفتوں سے چپل نہیں پہنی ہے۔ آج اسے اپنے ساتھ لایا تاکہ کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے لئے کباڑی سے بوٹ لے لوں۔ ان کی وقت سے پہلے عمررسیدہ آنکھوں میں کئی دہائیوں کے دفن آنسو امڈ آئے اور روہانسی آواز میں کہنے لگا پھر کوئٹہ سٹی پولیس تھانے کے اہلکار آئے ان کو اپنے بچے کے ساتھ اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔
بولے جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں نے اسے یقین دلایا کہ مجھے چھوڑو میں اپنے بچوں کے ساتھ خود یہ ملک چھوڑ کر چلا جاوں گا لیکن وہ نہیں مانے، پھر کہا کہ میرے بچے کو میرے گھر تک پہنچاؤ دو مجھے لے جاؤ۔ وہ کہنے لگا پولیس نے سادہ جواب دیا ہم آپ کے غلام نہیں ہمیں ہدف ملا ہم نے اپنا ہدف پورا کرنا بس۔ آپ ہمارے ساتھ چلتے بنو۔ پولیس نے تو اپنا ہدف پورا کر لیا لیکن میرا چھوٹا سا خاندان انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہوں گے اور کس تذلیل کے ساتھ وہ افغانستان پہنچیں گے۔ میری زندگی آخری ڈگری پر آ کر رک گئی، اب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ یہ کہنا تھا کہ کیمپ میں موجود ایک اہلکار نے اس کا نام پکارا اور وہ مزید کارروائی کے لئے اندر کمروں میں گم ہو گیا۔ اور میں وہاں موجود لوگوں میں کہانیاں کھوجنے لگا۔
جب اس بابت کیمپ میں موجود اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی ریٹائرڈ کمشنر کیپٹن عبداللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہاں کہ ایسے بہت کم کیسز آتے ہیں جس کی فیملی کا کوئی فرد گرفتار ہوتا ہے لیکن اس کے باقی خاندان والے رہ جاتے ہیں۔ ان کے بقول وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کو ایک ساتھ ملک بدر کیا جائیں۔




سب افگانی ناسوروں کو اٹھا کر باہر پھینکو جو انکی حمایت کرتا یے اسے بھی باہر پھینکو